خواتین بااِختیاری کی راہ پر گامزن

جے کے آر ایل ایم کے ذریعے سے کر رہی ہے جموںوکشمیر کے ترقیاتی منظر نامے میں کلیدی رول اَدا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی اِنتظامیہ جموںوکشمیر یوٹی میں ایک کامیاب خواتین کی اَنٹرپرینیور شپ کلچر تشکیل دے رہی ہے جو پورے ملک میں منفرد ہے۔ ہزاروں خواتین کاروباریوں نے ایک ایسا سفر شروع کیا ہے جو اَب تک خواتین کے دائرہ اِختیارسے باہر تھا۔ مختلف سکیموں کے تحت خواتین کاروباریوں کی مدد کے لئے جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ کی جانب سے شروع کئے گئے مختلف کلیدی اقدامات ،ان کے تعلیمی پس منظر اور تجربے کے مطابق ثابت ہو رہے ہیں۔جموںوکشمیر حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ خواتین بااِختیاری کی راہ پر گامزن ، جے کے آر ایل ایم کے ذریعے سے کر رہی ہے جموںوکشمیر کے ترقیاتی منظر نامے میں کلیدی رول اَداکر رہی ہیں۔نیشنل رورل لائیو لی ہڈ مشن جموںوکشمیر میں جموںوکشمیر رورل لائیو لی ہڈ س مشن ( اُمید ) کے طور پر چلایا جارہا ہے ۔ ’اُمید‘ خواتین کے لئے ترقی پسند اور خود روزگار خواتین کاروباری بننے کے لئے قابل بنا رہا ہے۔جے کے رورل لائیو لی ہڈ مشن ( جے کے آر ایل ایم ) کا مقصد غریبوں کے لئے نچلی سطح پر مضبوط اداروں کی تعمیر کر کے ، انہیں فائدہ مند ذریعہ معاش کی مداخلتوں میں شامل کر کے اور پائیدار بنیادوں پر ان کی آمدنی میں قابل تعریف بہتری کو یقینی بنا کر ریاست میں غربت کو کم کرنا ہے۔جے کے آر ایل ایم جموںوکشمیر میں 60,000 سیلف ہیلپ گروپس ( ایس ایچ جی ) اور 5,02641 خواتین استفادہ کنندگان کے ساتھ ایک تبدیلی پر مبنی تحریک بن گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 890.55 کروڑروپے کا بینک کریڈٹ اُمید ۔جے کے آر ایل ایم کے ذریعے ترقی یافتہ سیلف ہیلپ گروپس نے حاصل کیا۔ اِس کے علاوہ 273.88 کروڑ روپے کا سرمایہ بھی جے کے آر ایل ایم سے سیلف ہیلپ گروپس نے حاصل کیا ۔ حوصلہ افزا نتیجہ یہ ہے کہ سیلف ہیلپ گروپس نے اپنی 168.88 کروڑ روپے بچت کی۔جموں و کشمیر حکومت کے مشن یوتھ اقدام کے تحت یوتھ کلبوں کا آغاز جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک اور سنہری باب ہے جس میں ریکارڈ وقت میں 4,239 یوتھ کلبوں کی تشکیل ہوئی ہے۔ ان کلبوں میں خواتین کو خاطر خواہ نمائندگی دینے کے لئے زائد اَز 8,000 خواتین ان کلبوں کا حصہ ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے 6,000 نوجوان خواتین کو کاروباری بننے میں بھی مدد کی ہے جنہیں پنچایت سطح پر منتخب کیا گیا تھا۔دریں اثنا، مشن ڈائریکٹر، جموں اور کشمیررورل لائیو لی ہڈ مشن (جے کے آر ایل ایم ) ڈاکٹر سیّد سحرش اصغر نے حال ہی میں پروگرام’ساتھ‘ کے تحت دیہی خواتین کی معاشی ترقی میں شاندار شراکت کے لئے باوقار ایس کے او سی ایچ ایوارڈ حاصل کیا۔ ایس کے او سی ایچ فائونڈیشن نے پروگرام ’ ساتھ ‘ کے تحت جے کے آر ایل ایم کی کامیابیوں کے اعتراف میں جے کے آر ایل ایم کو باوقار ایس کے او سی ایچ ایوارڈ سے نوازا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آل اِنڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن ( اے آئی سی ٹی اِی ) پر گتی اور سکشم سکالر شپ سکیموں کے تحت جموںوکشمیر کے استفادہ کنند گان کے ساتھ بذریعہ ورچیول موڈ بات چیت کرتے ہوئے کہا ،’’اِجتماعی کوششوں کے سازگار نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے کانووکیشن کے دوران 2021 ء میں 94 گولڈ میڈلسٹ تھے جن میں سے 77 فیصد یا 66 خواتین تھیں۔ اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کانووکیشن کے دوران گولڈ میڈل جیتنے والوں کی اکثریت خواتین کی تھی جو خواتین کو بااِختیار بنانے کی واضح علامت ہے۔ایل جی سنہا نے پالیسیوں کے مناسب عمل آوری پر زور دیا اور خواتین کو ہنر کی تربیت اور دوبارہ ہنر مندی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل کے معاشی مواقع میں ان کا مساوی حصہ ہو۔