پارلیمنٹ میں فوری حکومتی مداخلت کا مطالبہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی سخت ردعمل
سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر سے رکنِ پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان نے خلیجی ممالک میں پھنسے بھارتی شہریوں کے حوالے سے پارلیمنٹ میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے مزدور، تاجر، زائرین اور بیرونِ ملک زیرِ تعلیم طلبہ، خصوصاً جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد، مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف ان افراد کی سلامتی کو یقینی بنائے بلکہ ضرورت پڑنے پر انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔چودھری محمد رمضان نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت پر بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مبینہ یکطرفہ کارروائیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ فاروق عبداللہ اور نیشنل کانفرنس نے بھی ان کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے فلسطین کے حوالے سے بھارت کے تاریخی مؤقف کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت نے یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی تنظیم کو تسلیم کیا تھا اور اس کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر وابستگی، اعتدال اور مکالمے پر مبنی رہی ہے۔رمضان نے کہا کہ حالیہ عالمی حالات کے تناظر میں بھارت کے روایتی مؤقف میں تبدیلی نظر آ رہی ہے، خاص طور پر غزہ میں شہری ہلاکتوں کے تناظر میں، اور اس لیے ایک متوازن اور منصفانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔پارلیمنٹ میں مختلف جماعتوں کے اراکین بشمول سونیا گاندھی، ڈگ وجے سنگھ، ڈیرک اوبرائن، جیا بچن، سنجے سنگھ اور پریانکا چترویدی نے بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مؤقف کی حمایت کی۔










