dooran

خفیہ معلومات ،کانگریس سے شراکت محدود کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن/یو این آئی// امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس کے ساتھ خفیہ معلومات کی شراکت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ وہ حالیہ افشا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملے اتنے مؤثر نہیں تھے جتنا کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا۔ یہ انکشاف چار باخبر ذرائع نے کیا، جسے ”ایکسیوس” ویب سائٹ نے رپورٹ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اس افشا کی تحقیقات کر رہا ہے۔
خفیہ معلومات کے افشا نے صدر ٹرمپ اور اعلیٰ امریکی حکام کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ نہ صرف ادھوری ہے بلکہ اس کا مقصد صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو نقصان پہنچانا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے چہارشنبہ کے روز کہا کہ”ہم خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں”۔اس عہدیدار کے مطابق’ایف بی آئی‘ افشا کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ انٹیلی جنس کمیونٹی ایسے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ‘گہرے ریاستی’ عناصر کمزور یا غیر مصدقہ خفیہ تجزیے ذرائع ابلاغ تک نہ پہنچا سکیں۔ادھر امریکی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ٹلسی گیبارڈ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس ایسی معلومات ہیں جو ایران کی جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ان تنصیبات کی تعمیر نو میں برسوں لگ سکتے ہیں۔گیبارڈ نے زور دیا کہ اس نوعیت کی خفیہ معلومات کا غیر قانونی افشا دراصل ٹرمپ انتظامیہ کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق افشا شدہ رپورٹ محض ایک غیر مصدقہ ابتدائی تجزیہ ہے۔وائٹ ہاؤس نے بھی اس معاملے پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایران کا جوہری خطرہ ملبے تلے دفن ہو چکا ہے”۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ سی این این جانتی تھی کہ جو رپورٹ اس نے نشر کی وہ مکمل جانچ سے نہیں گزری تھی۔وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف ہونے والی حالیہ کارروائی نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جو عشروں کی سفارت کاری اور پابندیاں نہ کر سکیں۔
یاد رہے کہ ’سی این این‘ اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مؤثریت پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ یہ کارروائیاں اس جنگ کا حصہ تھیں جو اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے طور پر جاری تھی۔