زمیندار وں میں مایوسی کی لہر ،حکام سے متاثرین کی امداد کیلئے فوری اقدام اٹھانے کا مطالبہ
سرینگر //خطہ چناب کے علاقہ خواص میں گذشتہ رات ہوئے باد وباراں سے کھڑی فصلوں بشمول مکی کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے زمینداروں کی سال بھر کی محنت پر پانی پھیر گیا ہے ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق علاقہ ہذا میں بارشوں اور طوفانی ہوائوں سے مکی اور دوسری کھڑی فصلوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جس سے زمینداروں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ طوفانی صورتحال کے بعدبلاک خواص کی بلاک چیر پرسن زاہدہ اشرف نے اپنے بلاک کے ساتھ منسلک متعدد پنچایتوں کا دورہ کیا اور طوفابی ہوائوں و بارشوں سے ہوئے نقصان کا جائزہ لیا ۔موصوفہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات کرتے ہوے کہا کہ ان پنچایتی حلقوں کی مکی کی فصل پوری طرح تباہ و برباد ہوگی ہے ۔اس کے علاوہ موصوفہ نے کوٹرنکہ بڈھال سڑک کونظر انداز کرنے پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوے کہا کہ پانچ دہائیوں سے سڑک بن رہی ہے اور مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔انہوں نے ضلع انتظامیہ اور گورنر انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقہ کے متاثرین کی امداد کی جائے اور مذکورہ سڑک کی تجدید ومرمت کے کام میں سرعت لائی جائے تاکہ ان لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے ۔اس دوران مقامی لوگوں نے نمائندہ کے ساتھ کرتے ہوئے انتظامیہ کی خاموشی کے خلاف سخت غم وغصے کا مظاہرہ کرتے ہوے کہا کہ ان بارشوں اور طوفانی ہوائوں سے جہاں علاقہ میں لوگوں کی روزی روٹی محدود ہوگی وہی مال و مویشی کی روزی بھی ختم ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ اس دور دراز علاقہ میں سال میں ایک ہی فصل اُگتی ہے اور جوالائی کے مہینے میں مکی کی فصل شباب پر تھی لیکن گذشتہ بارشوں سے تباہ و برباد ہوگی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قابل تلافی نقصان ہے اور زمینداروں کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے لفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ ہذامیں محکمہ مال اور محکمہ زراعت کی ٹیموں کو روانہ کیا جائے اور فصلوں میں ہوئے نقصان کا تخمینہ لگا کر متاثر کسانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے ۔تاکہ علاقہ کے متاثرین کو آئندہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔










