کئی علاقوں کے باغات میں خزان کا سماں،پتے سرخ ہو کر گرنے لگے
سرینگر// وادی کشمیر میں مسلسل خشک سالی کی وجہ سے جہاں پینے اور سنچائی کے لئے پینے نایاب ہورہا ہے وہی دوسری جانب درختوں کے پتے سرخ ہو کر زمین پر گرنے کے ساتھ ہی یہاں خزان کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس دوران وادی کشمیر خاص کر جنوبی کشمیر میں لوگوں نے مساجد میں نوافل اور دعائیہ مجالس کا ہتمام کیا۔ادھر کچھ علاقوں میں لوگوں نے نذر ونیاز کے ساتھ ساتھ راوئتی طورطریقوں کو اپنا کر اللہ کی حضور میں بارشوں کی دعائیں مانگی ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق وادی کشمیر تقریباً ہر علاقے میں مسلسل خشک سالی نے یہاں تشویش ناک رخ اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کسان میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے ۔لوگوں کے مطابق خشک سالی کی وجہ سے ندی نالے اور چشمے یا تو سوکھ گئے یا ان میں پانی کا مقدار نہ ہونے کے برابر ہے ۔ آبی ذخائر سوکھنے کے باعث پینے کے پانی کی قلت کئی علاقوں میں پیدا ہوئی ہے جبکہ سنچائی کے لئے پانی بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔کشمیر نیوز سروس کو ایک بزرگ شہری غلام محمد نے بتایا کہ اب اکثر علاقوں میں میوہ باغات کے ساتھ ساتھ باقی درختوں کے پتے سوکھ کر سرخ ہوکر گرنے لگے ہیں ۔انہوں نے بتایا کچھ علاقوں میں یہ سلسلہ زیادہ ہے اور کچھ علاقوں میں کم ہے لیکن نقصان بڑے پیمانے پر پہنچ رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا جہاں ان دنوں سرسبز گھاس کے بڑے بڑے میدان ہوتے تھے وہاں آج خالی میدان نظر آ رہے ہیں ۔ایک چوپان ریاض احمد نے بتایا یہاں وادی کے میدانی علاقوں کے ساتھ ساتھ بہکوں کی حالت بھی مختلف نہیں ہے ۔ انہوںنے بتایا بہکوں میں بارشیں نہیں ہوئی جہاں پانی کے قلت کے ساتھ ساتھ گھاس بہت ہی کم ہے ۔انہوں نے بتایا یہاں بھی گرمی کی شدت بڑے پیمانے پر محسوس کی جاتی ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا ایک ماہ کے اندر یہاںتمام فصل ختم ہوں گے ۔ ادھر جمعہ کے صبح سے ہی وادی کشمیرمیں نماز جمعہ کے موقعے پر بارشوں کے لئے دعائیں مانگی گئی۔ جبکہ خاص کر جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ ار ترال کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں لوگوں نے جمعہ کے صبح سویرے سے ہی یہاں دعائیہ مجالس کا ہتمام کیا۔ جبکہ علاقوں میں لوگوں نے روائتی انداز میں نذر نیاز میں جس میںایک خاص قسم کا کھانا ،وگرہـ کو لوگوں میں تقسیم کیا۔جبکہ کچھ علاقوں میں بھنڈار بھی کئے گئے ہیں جہاں لوگوں میں کھانا تقسیم کیا گیا ہے ۔بزرگوں کا کہنا تھا کہ جب پہلے بی خشک سالی ہوتی تھی تو وہ اس طرح کے اقدامات کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ خشک سالی کو ختم کر کے اوروادی سیراب ہوتی تھی۔










