بقایا واجبات 66.61 کروڑ، این سی ایل ٹی میں کارروائی زیرِ سماعت
سرینگر// یو این ایس// حکومتِ جموں و کشمیر نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر سیمنٹس لمیٹڈ اس وقت اسٹریٹجک نجکاری کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اکتوبر 2021 میں انتظامی کونسل کی منظوری کے بعد اس عمل کا آغاز کیا گیا تھا، تاہم قانونی اور مالی پیچیدگیوں کے باعث پیش رفت سست روی کا شکار رہی۔یو این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق اگست 2023 میں کمپنی کو نیشنل کمپنی لا ٹریبونل، چندی گڑھ میں کارپوریٹ اِن سالونسی ریزولوشن پراسیس کے تحت پیش کیا گیا تھا، جب ایک آپریشنل کریڈیٹر میرئن اگرو انڈسٹریز کوناکن پرائیویٹ لمیٹڈ نے درخواست دائر کی۔ جولائی 2024 میں متعلقہ فریق کے ساتھ تصفیہ طے پانے کے بعد ریزولوشن پروفیشنل نے کارروائی واپس لینے کی درخواست دی ہے، جس کی اگلی سماعت 13 اپریل 2026 کو مقرر ہے۔حکام کے مطابق مجوزہ نجکاری ’’جیسی ہے ویسی ہے‘‘ بنیاد پر ہوگی اور اہل سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ای،نیلامی سمیت مختلف ا?پشنز زیر غور ہیں۔ اس دوران کمپنی کے ملازمین کو مختلف سرکاری محکموں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رہے۔سرکاری موقف کے مطابق جن مقامی افراد نے کمپنی کے قیام کے لیے زمین فراہم کی تھی، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ مزید یہ کہ کمپنی کی 240 کنال اراضی جموں و کشمیر اسمال اسکیل انڈسٹریز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے سپرد کی گئی ہے تاکہ صنعتی اسٹیٹ قائم کی جا سکے، جس سے کھریو اور ملحقہ علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ملازمین کی مراعات کے حوالے سے بورڈ نے مسلسل مالی خسارے کے پیش نظر ساتویں پے کمیشن کے فوائد روکنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، تاہم چھٹے پے کمیشن کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات مرحلہ وار ادا کیے جا رہے ہیں۔ سال 2017 میں ریٹائر ہونے والوں کیلئے 33.97 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر ریٹائرڈ اور 653 حاضر سروس ملازمین کے تقریباً 66.61 کروڑ روپے بقایا جات رواں مالی سال 2025-26میں ادا کیے جانے کی توقع ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خسارہ برداشت کرنے والے سرکاری صنعتی اداروں کی تنظیمِ نو کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں ملازمین کے مفادات اور مقامی ا?بادی کے حقوق کو پیش نظر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔










