عملہ، طلباء اور انفراسٹرکچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئیگی / سکینہ ایتو
سرینگر/ سی این آئی // حکومت کی جانب سے مستقل طور پر فلاح عام اور جماعت اسلامی سے منسلک 215اسکولوں پر قبضہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کی بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ اسکولوں کی عارضی نگرانی کا اختیار صرف تین ماہ کیلئے دیا گیا ہے جب تک کہ نئی کمیٹیاں تشکیل نہیں دی جاتیں اور ضروری سی آئی ڈی کی تصدیق مکمل نہیں ہوجاتی۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ حکومت نے کالعدم جماعت اسلامی اور اس سے وابستہ فلاح عام ٹرسٹ سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے قبضے میں نہیں لیا ہے، بلکہ ان کے انتظام کے لیے عارضی انتظامات شروع کیے ہیں۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ ان کی منظوری سے کلسٹر پرنسپلوں کے ذریعے ان اسکولوں کی عارضی نگرانی کا اختیار صرف تین ماہ کیلئے دیا گیا ہے جب تک کہ نئی کمیٹیاں تشکیل نہیں دی جاتیں اور ضروری سی آئی ڈی کی تصدیق مکمل نہیں ہوجاتی۔ انہوں نے کہا کہ عملہ، طلباء اور انفراسٹرکچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ حکومت کے مستقل طور پر اسکولوں پر قبضہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان سکولوں کی موجودہ مینیجنگ کمیٹیوں نے اپنی مدت پوری کر لی ہے اور تصدیق میں تاخیر نے بورڈ کے امتحانی رجسٹریشن کے دوران طلباء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایتو نے کہا’’یہ قدم تقریباً 51,000 اندراج شدہ طلباء کی تعلیم میں کسی قسم کی رکاوٹ سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا تھا‘‘۔تاہم، وزیر نے محکمہ پر حکم کو غلط بیان کرنے کا الزام لگایا، یہ کہتے ہوئے کہ اسکولوں کو چلانے والے ضلعی کمشنروں کی اس کی منظوری میں کوئی ذکر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی ہدایت صرف سی آئی ڈی کی تصدیق اور نئی کمیٹیوں کی تشکیل تک محدود ہے۔اس معاملے پر سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔










