ماحولیاتی آلودگی اور تجاوزات بحران کے بعد بحالی کی کوششیں تیز
سرینگر//یو این ایس// سرینگر کی تاریخی جھیلیں گزشتہ کئی برسوں سے آلودگی، غیر قانونی قبضوں، بے ہنگم تعمیرات اور ماحولیاتی تنزلی کے باعث بدترین صورتحال سے دوچار رہی ہیں۔ جھیلوں میں گھریلو و تجارتی سیوریج کا اخراج، پھیلتی آبی گھاس، بڑھتی گاد اور سکڑتا ہوا آبی رقبہ ماہرین کیلئے باعث تشویش بنا ہوا تھا۔ ان خدشات کے پیش نظر حکومتِ جموں و کشمیر نے ایک جامع تحفظ و بحالی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس پروگرام کے تحت ڈل جھیل، نگین جھیل، انچار، براری نمبل، گلسر، خوشحال سر اور اچھنبل جھیلوں کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کو محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی کے اشتراک سے جموں و کشمیر لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (ایل سی ایم اے) عمل میں لا رہی ہے، جس کا مقصد آلودگی پر قابو پانا، تجاوزات روکنا اور ماحولیاتی توازن بحال کرنا ہے۔حکام کے مطابق ڈل جھیل کے اندر آباد 3 ہزار 108 خاندانوں کو متبادل رہائشی کالونیوں میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ جھیل پر انسانی دباؤ کم کیا جا سکے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈل جھیل کے تقریباً ایک تہائی حصے اور نگین جھیل کے 6.5 مربع کلومیٹر رقبے سے آبی گھاس صاف کی گئی، جس سے ڈل جھیل کا کھلا آبی رقبہ بڑھ کر 20.3 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔جھیلوں میں جمع گاد کے باعث پانی کی گہرائی اور بہاؤ متاثر ہو رہا تھا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے تقریباً دو لاکھ مکعب میٹر سلٹ نکالی گئی، جبکہ نشات بیسن کے ساحلی حصے میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ڈریجنگ کی گئی۔ 10 کلومیٹر پر محیط 20 آبی راستوں کو چوڑا اور گہرا کیا گیا تاکہ پانی کی گردش بہتر ہو سکے۔سیوریج آلودگی جھیلوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ تصور کی جا رہی تھی۔ اس کے تدارک کیلئے پانچ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کئے گئے ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 36.73 ملین لیٹر یومیہ ہے۔ براری نمبل اور نالہ امیر خان کے پلانٹس کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جبکہ گپت گنگا میں 30 ایم ایل ڈی صلاحیت کا نیا پلانٹ 306 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہے۔ ڈل جھیل کے 573 اور نگین جھیل کے 48 ہاؤس بوٹس کو سیوریج نیٹ ورک سے جوڑ دیا گیا ہے تاکہ فضلہ براہ راست جھیل میں شامل نہ ہو۔ فضلہ بندوبست کے تحت جھیلوں سے نکالی گئی گیلی گھاس کو کھاد میں تبدیل کرنے کیلئے نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے، جبکہ ہاؤس بوٹس اور جھیل کے اندرونی علاقوں سے روزانہ کوڑا کرکٹ جمع کرکے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے تعاون سے ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ جدید مشینری بشمول ڈریجرز، بارجز اور کرینیں صفائی آپریشن میں استعمال کی جا رہی ہیں۔غیر قانونی تعمیرات اور قبضوں کی روک تھام کیلئے جھیلوں کی حد بندی جی پی ایس اور سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے کی گئی ہے، جبکہ نگرانی کیلئے متعدد کیمرے نصب کئے گئے ہیں اور مزید تنصیب کا عمل جاری ہے۔ خلاف ورزیوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ کیچمنٹ علاقوں میں تقریباً دو لاکھ درخت لگائے گئے ہیں، حساس مقامات پر باڑ بندی اور چیک ڈیم تعمیر کئے گئے ہیں تاکہ مٹی کے کٹاؤ اور گاد کے بہاؤ کو کم کیا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف جھیلوں کو بدترین ماحولیاتی بحران سے نکالنے کی کوشش ہیں بلکہ سرینگر کی قدرتی شناخت اور سیاحتی اہمیت کو محفوظ بنانے کی سمت ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقل نگرانی، کمیونٹی کی شمولیت اور سخت عمل درآمد کے بغیر جھیلوں کو درپیش خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں گے۔










