جموں//وزیربرائے تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو مطلع کیا کہ محکمہ اس وقت پہلے سے اَپ گریڈ شدہ سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کے مضبوط بنانے اور تدریسی عملے کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔وزیر موصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں رُکن اسمبلی ڈاکٹر سجاد شفیع کے سکولوں کی اَپ گریڈیشن سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔اُنہوں نے واضح کیا کہ سکولوں کی اَپ گریڈیشن ایک مسلسل اور جاری عمل ہے اور اِس ضمن میں تجاویز کا وقتاً فوقتاً مقررہ اصولوں اور معیار کے مطابق جائزہ لیا جاتا ہے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ اَپ گریڈیشن کے لئے طے شدہ معیار اور فزیبلٹی اصولوں، جیسے فاصلہ، فیڈنگ سکولز اور اعلیٰ درجے میں طلبأ کی تعداد (انرولمنٹ) کو پورا کرنا لازمی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس وقت موجودہ سکولوں کو اگلی اعلیٰ سطح تک اپ گریڈ کرنے کی کوئی فوری تجویز حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔اُنہوں نے کہاکی کہ سکولوں کو اگلی اعلیٰ سطح تک اَپ گریڈ کرنے میں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور تدریسی و غیر تدریسی اَسامیوں کے قیام کے باعث خاطر خواہ مالی وسائل درکار ہوتے ہیں اور اس لئے اِس کے لئے محکمہ خزانہ کی منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ اُوڑی جیسے علاقے جو دُور دراز ہونے، دُشوار گزارخطوں اور اعلیٰ تعلیمی اِداروں تک محدود رسائی کی وجہ سے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ جب بھی محکمہ سکولوں کے اَپ گریڈیشن کی تجویز پیش کرے گا تو اُوڑی کے علاقوں کے اداروں کو مناسب ترجیح دی جائے گی۔










