لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کے ساتھ ہی قریب2سال بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کی اُمید
سری نگر//جموںو کشمیر حکومت نے انتظامی مقاصد کیلئے ٹیکہ لگانے والے عملہ کی محدود حاضری کے ساتھ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو کام کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور ہنر کو فروغ دینے والے مراکز کو مرحلہ وار طریقہ پرآن سائٹ لرننگ کیلئے طلاب اور عملے کی ٹیکہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے 31جولائی کے بعد کام کرنے کی اجازت دی۔ کے این ایس کے مطابق اتوار کو چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارن کمار مہتا نے شعبہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ، راحت، بازآبادکاری اور تعمیر نوکی سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں وکشمیر کی موجودہ کووڈ19صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کے ایک حکمنامہ میں کہاگیا ہے کہ کورونا مثبت معاملات میں نمایاں کمی ،چند اضلاع میں ٹیکہ کاری اور کووڈ طرز عمل کے برتائو میں بہتری یکھنے کو مل رہی ہے جبکہ تمام اضلاع میںصحت عامہ کے مفاد میںبہتری کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ رپورٹ ہونے والے معاملوںمیںاتار چڑھائو کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ موجودہ کووڈ19کو کم کرنے کیلئے جو اقدامات کئے گئے ہیں، انہیں جاری رکھا جائیگا۔سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں حفاظتی ٹیکہ لگانے والے عملہ کی محدود تعداد کو انتظامی اموارت کو چلانے کیلئے اجازت دی ہے۔ میٹنگ میں سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی نے کہاہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور ہنر کو فروغ دینے والے مراکز کوجسمانی کلاسز کیلئے 31جولائی کے بعدمرحلہ وار کھولنے کیلئے طلاب اور عملہ کو کووڈ19مخالف ٹیکہ کاری کی صورتحال کو دیکھا جائیگا۔ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی حدود میں آنے والے علاقوںمیں مثبت معاملات کے تناسب پر توجہ مرکوز کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وائرس کی زنجیر کو توڑنے کیلئے کووڈ 19رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرائیں۔










