کھریو ۔ کھنموہ میں آلودگی پھیلانے والے نئے یونٹوں پر پابندی عائد کردِی
جموں//حکومت نے ضلع پلوامہ کے کھریو اور کھنموہ میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں اور صحت عامہ کے تحفظ اور ماحولیاتی طور پردیرپا صنعتی ترقی کو یقینی بنانے کے اَپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔وزیر برائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے ایوان میں رُکن اسمبلی حسنین مسعودی کے سوال کے جواب میں آج قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ یونین ٹیریٹری میں کام کرنے والی سیمنٹ صنعتوں کو جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی کی طرف سے فضائی معیار کی باقاعدہ نگرانی کے لئے مسلسل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹمز (سی اے اے کیو ایم ایس) نصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور کھریو اورکھنموہ میں مسلسل نگرانی کے لئے دو سی اے اے کیو ایم ایس نصب کئے جا چکے ہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ وہ سیمنٹ اِنڈسٹریز نے روزانہ 200 ٹن پیداوار کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ آن لائن کنٹی نیوئس ایمیشن مانیٹرنگ سسٹم( او سی اِی ایم ایس) نصب کیا ہے اور اصل وقت میں پیدا ہونے والا ڈیٹا سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ پر اَپ لوڈ کیا جاتا ہے۔ وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ سیمنٹ پلانٹس کو ایڈوانس ایمیشن کنٹرول ڈیوائسز لگانے کا مشورہ دیا گیا جس میں آٹومیٹک پلس جٹ بیگ فلٹرز، ریورس ایئر بیگ فلٹرز اور الیکٹروسٹیٹک پریسیپیٹرز (اِی ایس پیز) نصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ فضائی آلودگی کو کم سے کم کیا جا سکے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ فضائی معیار کے منظرنامے کا سائنسی جائزہ لینے کے لئے جے کے پی سی سی نے کھریو اور کھنموہ کے علاقوں میں فضائی معیار کا مطالعہکشمیر یونیورسٹی کو تفویض کیا ہے۔ وزیر نے مائننگ لیز کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے ضلع پلوامہ کے کھر یو ۔ووین علاقے میں 9 مائننگ لیزدئیے ہیں جن میں سے چار لیز فعال ہیں اور منظور شدہ کان کنی کے منصوبوں، ماحولیاتی منظوری (اِی سی)، کام کرنے کی اجازت (سی ٹی او) اور دیگر قانونی ضوابط کے مطابق سختی سے کام کر رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ باقی پانچ لیز اِی سی اور سی ٹی او کی عدم دستیابی کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تمام لیز مائنز اینڈ منرلز( ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ اور رولزکی دفعات کے تحت دی گئی تھیں اور صرف متعلقہ شراکت داروں سے ضروری عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد فعال کی گئی ہیں۔جاوید رانا نے فضائی آلودگی کو مزید کم کرنے کے لئے ایوان کو بتایا کہ جے کے پی سی سی نے کھریو او رکھنموہ کے علاقوں میں فضائی آلودگی پھیلانے والی نئی صنعتوں کے قیام پر روک لگا دی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ پابندی سیمنٹ پلانٹوں، سٹون کرشروں، ہاٹ مکس پلانٹوں، اینٹ کے بھٹوں اور کان کنی کی سرگرمیوں پر اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک سالانہ اوسط فضائی معیار انڈکس( اے کیو آئی) 100 سے نیچے نہ آجائے یا جامع ماحولیاتی آلودگی انڈکس( سی اِی پی آئی) 60 سے کم نہ ہو جائے۔وزیر جنگلات نے یہ بھی کہا کہ جے کے پی سی سی نے متعلقہ محکموں اور شراکت داروں کو ہدایت دی ہے کہ سڑکوں کی مناسب میکڈیمائزیشن اور مینی ٹیننس، سیمنٹ کی سیل شدہ حالت میں ٹرانسپورٹیشن، خام مال اور پسے ہوئے مال کی اور زیادہ لوڈ کئے بغیرٹرانسپورٹیشن اور سڑکوں پر باقاعدگی سے پانی چھڑکنے کو یقینی بنایا جائے۔










