حکومت جموں و کشمیر میں تعلیمی ماحول کو مضبوط بنانے کا عزم رکھتی ہے ۔ سکینہ ایتو

کہا ،ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں ووکیشنل اور سکل بیسڈ ٹریڈز متعارف کئے گئے ہیں

جموں//وزیر برائے تعلیم سکینہ ایتو نے ایوان کو بتایا کہ حکومت جموں و کشمیر میں تعلیمی ماحول کو مضبوط بنانے کا پختہ عزم رکھتی ہے ، بالخصوص گورنمنٹ سکولوں میں ہر قسم کی سہولیات قائم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ وزیرموصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں قانون ساز خورشید احمد شیخ کے سوال کے جواب میں کہی ، جو نئے مضمون کے تعارف کے بارے میں تھا ۔ اُنہوں نے بتایا کہ جنرل سٹڈیز ، کلمپیوٹر ایجوکیشن ، ڈیجیٹل لٹریسی اور ووکیشنل سکل بیسڈ ایجوکیشن سے متعلق اجزاء کو سکولنگ کے مختلف مراحل پر مرحلہ وار متعارف کرایا گیا ہے ۔ یہ سکول کی سطح ، انفراسٹرکچر کی دستیابی ، تربیت یافتہ افرادی قوت اور دیگر ضروری سہولیات پر منحصر ہے ۔ وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ کمپیوٹر سائنس ، انفارمیشن پریکٹسز اور آئی ٹی کو الگ الگ مضامین کے طور پر پہلے ہی ہائر سیکنڈری سکول لیول ( کلاس XI سے XII ) میں نصاب میں متعارف کرایا جا چکا ہے اس کے علاوہ ہائی اور ہائیر سیکنڈری میں ووکیشنل /سکل بیسڈ ایجوکیشن کے تحت 15 مختلف ٹریڈز بھی نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کی سفارشات کے مطابق نافذ کئے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کو ایک مضمون یا ڈسپل کے طور پر متعارف کرنے کا معاملہ بھی محکمہ میں فعال طور پر زیر غور ہے جو نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے مطابق ہے ۔ وزیرتعلیم نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ موجودہ نصاب خاص طور پر ڈیجیٹل خواندگی ، کثیر الجہتی سیکھنے اور پیشہ ورانہ تعلیم کے حوالے سے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق تیار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 نصاب کی ڈیزائننگ میں ایک مربوط اور جامع نقطہ نظر کی وکالت کرتی ہے اور اس کے مطابق ڈیجیٹل خواندگی اور ہنر کی تعلیم جیسے ڈومینز کو بنیاداتی مرحلے سے ہی نصاب میں شامل کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اساتذہ کو ان قابلیتوں کو کلاس روم کی مشقوں میں موثر طریقے سے ضم کرنے کیلئے رہنمائی اور تربیت دی جا رہی ہے تا کہ متعلقہ مہارتیں اور سیکھنے کے نتائج کو ایک جامع انداز میں حاصل کیا جا سکے ۔ وزیر سکینہ اِیتونے مزید بتایا کہ سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری سطح پر ڈیجیٹل خواندگی اور ہنر کی تعلیم کو نصاب کے اندر وقف شدہ اختیاری مضامین کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے ۔