مسٹر عمر عبداللہ کا بڑی براہمناں میں جے کے ای ڈی آئی کے سالانہ سٹارٹ اپ میلہ میں کلیدی خطاب
سانبہ//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ بے روز گاری کے مسئلے کا مقابلہ ایک زندہ دل سٹارٹ اپ کلچر اور جموں و کشمیر بھر میں ایک مضبوط انٹر پرنیور شپ ایکو سسٹم قائم کر کے کیا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بڑی براہمناں میں جموں و کشمیر انٹر پرنیور شپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ ( جے کے ای ڈی آئی ) کے سالانہ سٹارٹ اپ میلہ میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سٹارٹ اپس انٹر پرنیورز اور صنعت کاروں کی بڑی تعداد کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بے روز گاری جموں و کشمیر میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور سرکاری نوکریاں بے روز گاری کے مسئلے کا متبادل نہیں ہو سکتیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ ایک زندہ دل پرائیویٹ سیکٹر ، موجودہ صنعتی یونٹس کی دستگیری اور سٹارٹ اپ انٹر پرنیورز کی حوصلہ افزائی اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کر دے گی ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے انٹر پرنیورشپ کے بدلتے منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ جموں و کشمیر کی نوجوان نسل اب روائتی روز گار کے مواقع تک محدود نہیں رہی بلکہ زراعت ، ٹیکنالوجی ، دستکاری ، سیاحت ، قابلِ تجدید توانائی اور خدمات جیسے شعبوں میں جدت پر مبنی کاروباروں کو اپنا رہی ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہا ’’ کوئی آئیڈیا بُرا نہیں ہوتا ‘‘ ۔ ’’ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ زومیٹو ، بلنکت ، اوبر یا سوگی جیسے ادارے اتنے بڑے بن جائیں گے ۔ یہ ایک آئیڈیا تھا جسے کامیابی سے بڑی کمپنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ۔ ‘‘ انہوں نے جموں و کشمیر میں سٹارٹ اپ کلچر کی پرورش کیلئے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سٹارٹ اپس کی شناخت کا کسام جے کے ای ڈی آئی ، یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا ہے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے زور دیا ’’ جے کے ای ڈی آئی کو جموں و کشمیر بھر میں انٹر پرنیور شپ اور سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی پرورش کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا اور حکومت نئے انٹر پرنیورز اور سٹارٹ اپ بانیوں کی دستگیری کیلئے جے کے ای ڈی آئی کو بااختیار بنائے گی ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جے کے سٹارٹ اپ پالیسی کے تحت جے کے ای ڈی آئی کا اہم کردار ہے ، جے کے ای ڈی آئی کو بااختیار بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور جے کے ای ڈی آئی کے سیڈ کیپیٹل فنڈ کو بھی بڑھایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ’’ ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی آئیڈیا ہو سکتا ہے کہ انٹر پرائیز قائم کرے ، لیکن اسے حقیقت میں بدلنے کیلئے جے کے ای ڈی آئی قائم کیا گیا تھا تا کہ نئے انٹر پرنیورز کے آئیڈیاز کو ہر قسم کی سپورٹ فراہم کی جا سکے ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے جے کے ای ڈی آئی پر زور دیا کہ وہ سٹارٹ اپ بانیوں اور کامیاب انٹر پرنیورز کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے اور جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں سٹارٹ اپ میلے منعقد کرے تا کہ وہ نوجوانوں اور نئی نسل کیلئے رول ماڈل بنیں ۔ مسٹر عمر عبداللہ نے مزید اجاگر کیا کہ حکومت پالیسی اصلاحات ، فائنانس تک رسائی ، رہنمائی ، انکیوبیشن سہولیات اور مارکیٹ لنکجز کے ذریعے ایک معاون ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز ہے تا کہ تمام ابھرتے ہوئے کاروباریوں اور سٹارٹ اپ بانیوں کیلئے یہ ممکن ہو سکے ۔ وزیر اعلیٰ نے بیان کیا ’’ اس سٹارٹ اپ میلہ میں جو جوش و جذبہ اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہو رہا ہے ، وہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ جموں و کشمیر ایک مضبوط سٹارٹ اپ منزل کے طور پر ابھرنے کیلئے تیار ہے ۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ قابل نوجوانوں کو صحیح وقت پر صحیح تعاون ملے تا کہ ان کے خیالات پائیدار کاروباری اداروں میں تبدیل ہو سکیں ۔ ‘‘ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے دور میں ایک صنعتی پالیسی تیار کی گئی تھی جو آنے والی نسلوں کیلئے خود روز گار پر مرکوز تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں ہونے والی جدت اور نئی قسم کے کاروباری ادارے مستقبل کیلئے مثبت امید دیتے ہیں ۔ اس موقع پر ایم ایل اے وجے پور چندر پرکاش گنگا نے بھی خطاب کیا ۔ خوش آمدید کے خطاب میں صنعت و تجارت کے کمشنر سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور حکومت کی سٹارٹ اپ پالیسی کے تحت جے کے ای ڈی آئی کے کردار کے بارے میں تفصیل سے بات کی ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے جے کے ای ڈی آئی کا کتابچہ ’’ سٹارٹ اپ پالیسی امپلی منٹیشن اینڈ آؤٹ کمز‘‘ بھی جاری کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے انکیو بیٹرز کیلئے ہر ایک کو 50 لاکھ روپے کے سرمائے کی گرانٹس بھی تقسیم کیں جن میں شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی ٹیکنالوجی بزنس انکیوبیشن سینٹر ، انسٹی ٹیوٹ انکیوبیشن اینڈ انوویشن کونسل (13C ) ، آئی آئی ٹی جموں ، سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹر پرنیور شپ ڈیولپمنٹ ( سی آئی ای ڈی ) ، اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( آئی یو ایس ٹی ) اونتی پورہ اور سکاسٹ کے انوویشن ، انکیوبیشن اینڈ انٹر پرنیور شپ سینٹر ( ایس کے آئی آئی ای سینٹر ) شامل ہیں ، جہاں پہلی قسط 15 لاکھ روپے موقع پر ہی جاری کر دی گئی ۔ انہوں نے مختلف کیٹیگریز میں جموں و کشمیر سالانہ سٹارٹ اپ ایوارڈز کے فاتحین کو بھی اعزاز سے نوازا جیسے کہ سال کا بہترین سٹارٹ اپ، سال کی بہترین خاتون سٹارٹ اپس ، سال کا ابھرتا ہوا سٹارٹ اپ ، سال کا سماجی سٹارٹ اپ اور سال کا بہترین انکیوبیشن سینٹر ، جس کی کل انعامی رقم 3.40 لاکھ روپے تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے مزید جے کے ای ڈی آئی کی جانب سے سہولت فراہم کئے گئے 18 سٹارٹ اپس کے درمیان 3.60 کروڑ روپے کی سیڈ فنڈ چیک تقسیم کئے ، جہاں پہلی قسط 5 لاکھ روپے کی موقع پر ہی جاری کر دی گئی ۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے مختلف جے کے ای ڈی آئی پروگراموں کے تحت تیار کئے گئے جدید مصنوعات ، بزنس ماڈلز اور حل پیش کرنے والے سٹارٹ اپس اور انٹر پرنیورز کے ایگزیبیشن اسٹالز کا دورہ کیا ۔ انہوں نے شرکاء سے بات چیت کی ، ان کے تجربات سُنے اور انہیں مقامی صلاحیتوں اور وسائل سے جڑے رہتے ہوئے بڑا سوچنے کی ترغیب دی ۔نوجوان انٹر پرنیورز ، موجدین ، سرمایہ کاروں اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے جے کے ای ڈی آئی کی کاروباری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور خیالات کو مواقع سے جوڑنے والے پلیٹ فارمز فراہم کرنے کی مسلسل کاوشوں کی تعریف کی ۔ انہوں نے بالخصوص جموں و کشمیر جیسے علاقے کیلئے جہاں بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے سٹارٹ اپس کو معاشی ترقی ، روز گار کی پیدا وار اور سماجی تبدیلی کا ایک طاقتور انجن قرار دیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سانبہ ، ڈائریکٹر جے کے ای ڈی آئی ،صدر جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ، جموں و کشمیر حکومت کے سینئر افسران ، بڑی براہمناں انڈسٹریل اسٹیٹ کے مختلف صنعتی ایسوسی ایشنز کے نمائندے ، جے کے ای ڈی آئی کے سینئر افسران ، سٹارٹ اپ بانی ، انٹر پرنیورز اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی ۔










