حکومت جموں وکشمیر میں بنیادی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے پُر عزم ہے ۔ سکینہ اِیتو

سری نگر میں اِی سی سی اِی آیاز کی صلاحیت سازی کیلئے منعقدہ اورنٹیشن پروگرام سے خطاب کیا

سری نگر//وزیر برائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے آج جموں و کشمیر سٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی اِی آر ٹی) بمنہ میں اَرلی چائلڈ ہڈ کیئر اینڈ ایجوکیشن (اِی سی سی اِی) آیاز (مدد گاروں) کی صلاحیت سازی کے لئے منعقدہ اورینٹیشن پروگرام سے خطاب کیا۔یہ پروگرام جے اینڈ کے سٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی اِی آر ٹی) نے جموں و کشمیر ایسوسی ایشن آف سوشل ورکرز (جے کے اے ایس ڈبلیو) اور یواین آئی سی اِی ایف کے اِشتراک سے منعقد کیا جس کا موضوع ’’پوشن، پیار اور پرورش ۔ بچوں کی پرداخت کے ساتھ نازک زندگیاں سنوارنا‘‘تھا۔اِس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے اعلیٰ تعلیم شانت منو، ڈائریکٹر جنرل سکول ایجوکیشن کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو، سیکرٹری بوس غلام حسن شیخ، جوائنٹ ڈائریکٹرز سکول ایجوکیشن کشمیر، سی اِی اوز، زیڈ اِی اوز، یو این آئی سی اِی ایف اور جے اینڈ کے ایسوسی ایشن فار سوشل ورکرز کے نمائندگان، وادی کے مختلف حصوں سے آئی ہوئی آیا خواتین اور دیگر معززین موجود تھے۔وزیر سکینہ اِیتو نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بچوں کے ذہنی، سماجی اور جذباتی نشوونما کے لئے جامع، بچوں پر مبنی اور کھیل پر مبنی تعلیم کے ذریعے نوجوانوں کی پرورش کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اورینٹیشن پروگرام جموں و کشمیر میں معیاری تعلیم کی بنیاد کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔وزیر سکینہ اِیتو نے کہا کہ ابتدائی تعلیم بچے کی ذہنی، جذباتی اور سماجی ترقی کی بنیاد ہے اور یہ زندگی بھر سیکھنے اور کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا ’’ابتدائی بچپن کی نگہداشت بچے کی زندگی کا سب سے اہم مرحلہ ہے اور حکومت کا ویژن یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے ہر بچے کو معیاری ابتدائی تعلیم فراہم کی جائے تاکہ ان میں تجسس، تخلیقی صلاحیت اور خود اعتمادی پیدا ہو۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور بنیادی تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے پُرعزم ہے اور اِس مقصد کے لئے تربیت یافتہ اور ہمدرد آیا خواتین کا کردار نہایت اہم ہے تاکہ ہر بچے کی بالخصوص پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہمہ جہتی نشوونما ممکن ہو۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس طرح کے اورینٹیشن پروگرام اس مقصد کو حاصل کرنے میں بہت اہم ہیں۔وزیر موصوفہ نے شرکأ اور آیا خواتین پر زور دیا کہ وہ اس تربیتی پروگرام سے زیادہ سے زیادہ اِستفادہ کریں تاکہ وہ ابتدائی تعلیم اور نگہداشت کے اصولوں سے بہتر طور پر واقف ہو سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آیا خواتین باصلاحیت اور تعلیم یافتہ ہیں اور وہ سرکاری اِداروں میں بچوں کی بہتر کیئر، غذائیت اور نفسیاتی معاونت کے ذریعے اہم کردار اَدا کر رہی ہیں۔اُنہوںنے آیا خواتین کی انتھک محنت اور دیانتداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این اِی پی) 2020 کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں فعال کردار اَدا کر رہی ہیں جو ابتدائی بچپن کی تعلیم پر خصوصی زور دیتی ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ڈائریکٹر ایس سی اِی آر ٹی شانت منو نے اپنے خطاب میں ایس سی اِی آر ٹی، جے کے اے ایس ڈبلیو اور یو این آئی سی اِی ایف کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ یہ پروگرام محکمہ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں اِی سی سی اِی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اُنہوں نے اَساتذہ اور نگہداشت فراہم کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ تدریس کے جدید اور جامع طریقے اَپنائیں جو مقامی ثقافت، زبان اور کمیونٹی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔پروگرام کے آغاز میں جوائنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن سیّد شبیر نے شرکأ کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس تربیت کا مقصد آیا خواتین کو اِی سی سی اِی کے تصور، ان کے کردار اور ذِمہ داریوں سے بہتر طور پر روشناس کرنا ہے۔آیا خواتین کی تربیت بابراشبیر (ایس سی ای آر ٹی) اور امبرین بشیر (جے کے اے ایس ڈبلیو) نے فراہم کی جس میں شرکأکی ای سی سی ای سے متعلق فہم کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ آیا خواتین کے لئے یہ اورینٹیشن پروگرام جموں و کشمیر میں ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ حکومت، جے کے اے ایس ڈبلیو اور یو این آئی سی اِی ایف کے درمیان شراکت داری کے نتیجے میں آیا خواتین کو خصوصی تربیت اور وسائل کی فراہمی کے مواقع میسر آئیں گے جس سے ہزاروں پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو فائدہ ہوگا۔اِس عمل کا آغاز صوبہ کشمیر میں 65 ماسٹر ٹرینروں کی تربیت سے ہوا ہے جو 10 اَضلاع میں 3000 آیا خواتین کو 3 ؍نومبر سے 8؍ دسمبر 2025ء تک ڈائٹ (ڈِی آئی اِی ٹی) سطح پر تربیت دیں گی۔ جے کے اے ایس ڈبلیو، یو این آئی سی اِی ایف کے تعاون سے اِس تربیتی عمل کے دوران تکنیکی اور لاجسٹک مدد فراہم کرے گا۔