سری نگر//چیئر پرسن جموں وکشمیر کھادی وِلیج اینڈ انڈسٹریز بورڈ (کے وِی آئی بی) ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے صنعت گھر بمنہ سری نگر میں کارکردگی کا جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں بورڈ کے سینئر افسروں اور ضلعی افسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ یہ اِنکشاف کیا گیا کہ مالی سال 2023-24 ء میں 166.62 کروڑ روپے کی مارجن منی جاری کی گئی جس سے 65,376 اَفراد کے لئے مواقع پیدا ہوئے اور 8,501 یونٹوں کے قیام میں مدد ملی۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ سی ایف وائی کی پہلی سہ ماہی کے دوران 1,036 یونٹوں کے قیام کے لئے 36.34 کروڑ روپے کی مارجن منی پہلے ہی جاری کی جاچکی ہے جس سے 8,288 اَفراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے جموںوکشمیر یوٹی میں روزگار کے مواقع کو نمایاں طور پر متاثر کرنے کے لئے تمام شراکت داروںکی فعال شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے روزگار پیدا کرنے کے اِن پروگراموں کو جامع بنانے کی اہمیت کا اعادہ کیا اور معاشرے کے تمام طبقوںبالخصوص پسماندہ کمیونٹیوں، خواتین اور جسمانی طور خاص اَفراد کے لئے مساوی مواقع کو یقینی بنایا۔اُنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بورڈ کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے افسروں پر زور دیا کہ وہ سکیموں کے ہدف پر مبنی عمل آوری کی ضمانت دینے کے لئے ایک مضبوط نگرانی اور تشخیص کا فریم ورک اِختیار کریں۔ اُنہوں نے تمام سرگرمیوں کو وسیع تر اہداف اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے پی ایم اِی جی پی اور جے کے آر اِی جی پی جیسے روزگار پیدا کرنے والے پروگراموں کے فوائد کو مؤثر طریقے سے ہدف آبادی تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے لئے عملانے والے اِداروں اور بینکوں کی طرف سے ہم آہنگ کوششوں کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔










