حقیقی تعلیم انسان کو اْس کے مقصدِ حیات سے روشناس کراتا ہے/ پروفیسر ایچ سی ورما

حقیقی تعلیم انسان کو اْس کے مقصدِ حیات سے روشناس کراتا ہے/ پروفیسر ایچ سی ورما

جب اعلیٰ پائے کے اساتذہ طلبہ کے درمیان بیٹھے ہوں تو وہ جگہ علم کا اصل مرکز بن جاتا ہے / : جی این وار

سرینگر // ایس ایس ایم ہائیر سیکنڈری اسکول، سوٹینگ لسجن سرینگر میں ایک خصوصی تعلیمی پروگرام منعقد ہوا۔ یہ تقریب مرحوم الحاج غلام نبی پرے بانی اسکول، کی یاد میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف نیوکلیئر فزکس دان، پروفیسر ایچ سی ورما (ایمریٹس، آئی آئی ٹی کانپور، پدم شری ایوارڈ یافتہ) تھے۔ پروگرام کا انعقاد انڈین ایسوسی ایشن آف فزکس ٹیچرز (IAPT) اور جے کے سائنس کمیونی کیٹر نیٹ ورک کے اشتراک سے کیا گیا۔تقریب میں متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں جی این وار (صدر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر)، ڈاکٹر صدام (چیئرمین، ایس کے آئی ای کلاسز)، سید اشتیا ق (سیکریٹری، جے کے سائنس کمیونی کیٹر نیٹ ورک و پرنسپل، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول حال پلوامہ)، الطاف نبی پرے (چیئرمین، ایس ایس ایم ہائیر سیکنڈری اسکول)، محمد مقبول بٹ (پرنسپل) اور ریاض پرے (ایڈمنسٹریٹو آفیسر) شامل تھے۔ طلبہ، اساتذہ اور دیگر تعلیمی رہنماؤں نے بھی بھرپور شرکت کی۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق تقریب کا آغاز وائس پرنسپل ارم الطاف کے افتتاحی کلمات سے ہوا جنہوں نے پروگرام کی میزبانی بھی کی۔ اسکول انتظامیہ نے پروفیسر ایچ سی ورما کو گلدستہ اور شال پیش کر کے ان کی علمی خدمات کو سراہا۔ ارم نے کہا “پروفیسر ورما سر جیسے علمی شخصیت کو مدعو کرنا ہمارے لیے باعثِ اعزاز کی بات ہے۔ ان کا طلبہ سے خطاب نہایت متاثر کن رہا اور سائنسی سوچ اور کامیابی کے نئے زاویے پیش کیے۔ یہ تقریب ہمارے بانی مرحوم الحاج غلام نبی پرے صاحب کے مشن سے ہماری وابستگی کی علامت ہے۔پروفیسر ایچ سی ورما نے اپنے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے “شکشا سوپن” نامی رضاکارانہ تعلیمی تحریک کا ذکر کیا جس سے وہ گزشتہ 25 برسوں سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ “ہم نے کچھ ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر ایک چھوٹے سے گروہ کی صورت میں غریب بچوں کی تعلیم کو بہتر بنانے کا بیڑا اٹھایا تھا۔”انہوں نے بتایا کہ یہ تحریک ایک سادہ سے مکان سے شروع ہوئی جو نہ پانی کی سہولت رکھتا تھا نہ بجلی کی، لیکن آج یہ ایک متحرک تعلیمی مرکز بن چکا ہے جہاں پانچ سے چھ کلومیٹر کے دائرے سے بچے روزانہ آ کر دو سے تین گھنٹے پڑھتے ہیں۔ یہاں سائنس لیبارٹریز بھی ہیں، مختلف تعلیمی پروگرامز بھی اور چھٹی جماعت سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح تک تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی آئی ٹی کانپور کے طلبہ بھی اس مشن میں بطور رضاکار حصہ لیتے ہیں اور ضرورت مند طلبہ کو وظائف بھی دیے جاتے ہیں۔ ‘‘ایک چھوٹا سا وظیفہ، مثلاً پانچ ہزار روپے سالانہ، کسی بچی کو اسکول چھوڑنے سے بچا سکتا ہے جب ایک خاندان تمام بچوں کی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا۔’’پروفیسر ورما نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “شکشا سوپن” مشن نے آج تک کسی بھی طالب علم، تربیتی استاد یا مہمان سے تعلیم، رہائش، کھانے یا کتب کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ “ہماری سوچ یہ ہے کہ تعلیم کوئی سودا نہیں بلکہ ایک خدمت ہے۔ جب اس پر قیمت لگائی جاتی ہے تو اس کی پاکیزگی متاثر ہوتی ہے۔تاہم انہوں نے ایک تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “میں جب بھی کشمیر آتا ہوں اور یہاں کے طلبہ سے گفتگو کرتا ہوں، تو محسوس کرتا ہوں کہ ان کی تمام تر توجہ نیٹ (NEET) امتحانات کی تیاری پر مرکوز ہے۔ میں ان سے جب پوچھتا ہوں کیا واقعی ہمیں اتنے زیادہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہے؟ کیا ہمارا ملک اتنا بیمار ہے؟ کیا کشمیر واقعی اتنا بیمار ہے کہ ہر کوئی ڈاکٹر ہی بنے؟پھر انجینئرز کا کیا ہوگا؟ سائنسدان، استاد، سوچنے والے اور نئی چیزیں ایجاد کرنے والے لوگ کہاں جائیں گے؟ لگتا ہے کہ اب تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے، زندگی کو سمجھنے یا دوسروں کی خدمت کرنے کا نہیں۔اپنے خطبے کے اختتام پر پروفیسر ورما نے کہا “شکشا سوپن کے ذریعے ہم طلبہ کو یہ سوچنے کی تحریک دیتے ہیں کہ وہ واقعی اپنی زندگی سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے خاندان ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ کیا صرف ڈگری حاصل کرنا مقصد ہے یا ایک با مقصد، بامعنی اور باعزت زندگی گزارنا؟ یہی حقیقی تعلیم کا مقصد ہے کہ طالب علم اپنا راستہ، اپنا مقصد تلاش کرے۔ جب تک ہم کر سکتے ہیں، ہم یہ مشن بغیر قیمت، خلوص اور دیانت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔جی این وار، صدر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر نے کہا “آج کا دن تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا۔ میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ جب ایسے لیجنڈری پروفیسرز طلبہ کے درمیان بیٹھے ہوں تو وہ جگہ علم کا اصل مرکز بن جاتی ہے۔ آج ہمیں پروفیسر ایچ سی ورما صاحب کی موجودگی کا شرف حاصل ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ استاد اور شاگرد کے درمیان رشتہ کتنا گہرا ہوتا ہے۔انہوں نے ڈاکٹر صدام کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ایک ایسے وقت میں جب نظام خاموش تھا، انہوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ کر اپنا تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ جب کارپوریٹ کوچنگ سینٹرز نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا اور طلبہ کو مشین، ایسے وقت میں ڈاکٹر صدام جیسے افراد نے تعلیم کو انسانی اقدار سے جوڑے رکھا۔جی این وار نے مزید کہا “ہمیں ایسے رول ماڈلز کی ضرورت ہے جو نصاب ہی نہیں بلکہ اقدار بھی سکھائیں۔ آج پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ وادی کے اساتذہ اور طلبہ ایک ہی پلیٹ فارم پر علم کی اصل روح کے ساتھ جمع ہوئے ہیں۔ یہی اصل تبدیلی ہے جس کی ہم تمنا رکھتے ہیں۔ڈاکٹر صدام، چیئرمین ایس کے آئی ای کلاسز نے کہا “یہ ہمارے لیے ایک اعزاز ہے کہ آج ہمارے ادارے میں فزکس کی معروف شخصیت پروفیسر ایچ سی ورما سر تشریف لائے ہیں۔ میں آج بھی یاد کرتا ہوں کہ 2002 میں جب ہم جیسے طلبہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہے تھے، تو ‘کانسیپٹس آف فزکس’ ان کی وہ کتاب تھی جس پر سب انحصار کرتے تھے۔ فزکس میرے لیے ایک ڈراؤنا مضمون تھا لیکن ان کی کتاب نے میری راہ آسان کی۔انہوں نے مزید کہا “آج ان کو ہمارے طلبہ کے درمیان دیکھنا میرے لیے خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔ یہ میرے ذاتی لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے لیے بھی ایک بڑی نعمت ہے۔”ڈاکٹر صدام نے کہا “پروفیسر ورما کا پیغام فزکس سے کہیں آگے تک گیا۔ ایک گھنٹے کے لیکچر میں انہوں نے ہمیں صفائی، ذمہ داری اور ماحولیاتی شعور کا سبق دیا۔ انہوں نے ہمیں یاد دلایا کہ ہمارا بیرونی ماحول ہماری اندرونی نظم و ضبط کا عکس ہے. ایک نظریہ جو ہماری ایمان کا بھی حصہ ہے: ‘صفائی نصف ایمان ہے’۔آخر میں ڈاکٹر صدام نے کہا “میں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اتنی عظیم شخصیت ہمارے ادارے کو اعزاز بخشیں گی، جب کہ ملک بھر کے بڑے ادارے ان کی موجودگی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ ان کا خلوص اور انکساری واقعی ان کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ میری دعا ہے کہ ان کی روشنی ہمیں ہمیشہ رہنمائی دے اور وہ صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ ہم جیسے اساتذہ کو بھی مسلسل تحریک دیتے رہیں۔پرنسپل ایس ایس ایم اسکول، محمد مقبول بٹ نے اپنے خطاب میں کہا “ہمارے بانی، مرحوم الحاج غلام نبی پرے صاحب، نے 1993 میں بغیر کسی مالی معاونت کے، صرف اپنے علمی جذبے اور خلوص سے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے تعلیمی شعبے میں بے مثال خدمات انجام دیں اور ہمیشہ معاشرے کی فلاح کے لیے، خاص طور پر غریب طبقے کے لیے، کام کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پرے صاحب نے کبھی کسی غریب طالب علم سے فیس وصول نہیں کی، حالانکہ زیادہ تر طلبہ کا تعلق کمزور مالی پس منظر سے تھا۔ “آج ان کے شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی حاصل کر کے اس ادارے کے سفیر بنے ہوئے ہیں۔تقریب کا اختتام انعامات کی تقسیم کے ساتھ ہوا، جس میں دسویں اور بارہویں جماعت سال 2025، کے ممتاز طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔ بارہویں جماعت (کامرس): محمد زہیب – 431 نمبر، اذان سالاریہ – 421 نمبر، جسیرہ پرویز – 386 نمبر؛ آرٹس: سید دشیا اشاق اندرابی – 474 نمبر، ارواح الطاف – 471 نمبر، سندس شاہ – 442 نمبر؛ میڈیکل: زائرہ مختار – 488 نمبر، احمد سادات – 478 نمبر، مریحم سلیم – 476 نمبر؛ دسویں جماعت: صباحت ظہور میر – 487 نمبر، قمرین گلزار – 479 نمبر، دیبا ایوب – 471 نمبر وغیرہ۔یہ تقریب علم، تحریک اور تعلیمی اقدار کا ایک مثالی سنگم ثابت ہوئی، جس نے ہر دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ پروفیسر ایچ سی ورما کا بصیرت افروز پیغام طلبہ و اساتذہ کے دلوں میں دیر تک گونجتا رہے گا۔ اسکول انتظامیہ نے پختہ عزم ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے بامقصد اور متاثرکن پروگرام منعقد کرتا رہے گا جو نوجوانوں میں جستجو، خوداعتمادی اور مثالی کردار کی تعمیر کو فروغ دیں۔