حضرت بل حلقہ میں پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے 2.26کروڑ روپے کی واٹر سپلائی سکیم گاسو کی منظور ی۔وزیر جل شکتی

حضرت بل حلقہ میں پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے 2.26کروڑ روپے کی واٹر سپلائی سکیم گاسو کی منظور ی۔وزیر جل شکتی

سری نگر//وزیر برائے جل شکتی محکمہ جاوید احمد رانا نے کہا کہ حضرت بل حلقہ کے باشندگان کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے 2.26 کروڑ روپے کی واٹر سپلائی سکیم( ڈبلیو ایس ایس)گاسو کی منظوری دی گئی ہے۔وزیر موصوف آج قانون ساز اسمبلی میں رکن اسمبلی سلمان ساگر کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ حضرت بل حلقہ کے تیل بل، کھمبر، چندپورہ، گاسو، فقیر گجری، چترہامہ اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی سپلائی کی سہولیات اطمینان بخش طریقے سے فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیر نے بتایا کہ یہ علاقے ایس ایم سی کی سرحد پر واقع ہیں اور گاندربل ڈویژن میں آتے ہیں۔ تاہم ان علاقوں میں پانی کی کمی کا سامنا رہتا ہے کیوں کہ رہائشی پانی کا غلط استعمال کرتے ہیں (آن لائن بوسٹر، باغات کی پانی کاری، گاڑی دھونا، تعمیراتی مقاصد وغیرہ)۔ اس کمی کو پانی کی ٹینکروں کے تعینات کر کے پورا کیا جاتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تیل بل کا علاقہ اِس وقت ایک 60,000 گیلن اوور ہیڈ ٹینک (او ایچ ٹی) سے پانی حاصل کرتا ہے جو ایک ٹیوب ویل سے فراہم ہوتا ہے۔ تیل بل اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کو بڑھانے اور مستقبل میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے ایک نیا او ایچ ٹی اور ایک وقف شدہ بور ویل بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جو تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔وزیرجاوید احمد رانا نے مزید کہا کہ مستقبل کی طلب کو پورا کرنے کے لئے یو ٹی کیپکس کے تحت ڈبلیو ایس ایس گاسو کے نام سے ایک نیا منصوبہ منظور کیا گیا ہے جس کی تخمینی لاگت 226.32 لاکھ روپے ہے اور اس کی ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔اُنہوںنے کہا کہ آبپاشی کے کنالوں کے حساس اور خطرناک مقامات کو مضبوط کرنے کے لئے مناسب اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ آبپاشی سہولیات بلا تعطل جاری رہیں۔ اِس سلسلے میں سی ایف وائی 2025-26 کے دوران ایم اینڈ آر، سی ڈِی ایف اور یوٹی کیپکس کے تحت مختلف کام شروع کئے جا رہے ہیں۔اُنہوںنے کہا کہ یوٹی کیپکس کے تحت ایس اِی کینال کی مضبوطی اور پینے کے پانی و آبپاشی کی سہولیات کی مزید اَپ گریڈیشن کے لئے 100 لاکھ روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی مُبارک گُل اور تنویر صادق نے ضمنی سوالات بھی اُٹھائے۔