(شیعان کشمیر سے معذرت کے ساتھ)
حسن ساہوؔ
دور حاضر کے بدلتے حالات کا دیانت دارانہ انداز میں بغور جائزہ لیا جائے تو یہ اصلیت سامنے منڈلانے لگتی ہے کہ مسلمانانِ عالم کی خاصی تعداد بلا لحاظ مسلک، گروہ ورنگ ونسل کسی نہ کسی اعتبارسے پریشانیوں اور عتاب سے دو چارہیں۔دراصل حقیقت یہ ٹھہری کہ مسلمانوں نے دین اسلام کے زریں وارفع ہدایات وفرمودات کو بالائے طاق رکھ کر فقط اپنی انفرادی مفادات کا ہر قدم پر لحاظ رکھا۔ دین الٰہی کا واضح فرمان کہ’’ اپنی اجتماعی بقاء وبہبودی کی خاطر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ ہر قیمت پر کرو‘‘یکسر فراموش کرگئے اور حدیہ کہ غیروں کے جتائے گئے اصولوں کو اپنانے میں اپنی عافیت جان لی۔
الغرض اسلامی اقدار کازرہ بھر خیال نہ رکھتے ہوئے اکثر مسلم ممالک کے مکیں آپسی رساکشی،کدورت ورقابت کے باعث انفراتفری وبے قراری کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ مانناپڑے گا کہ اسلام دشمن قوتوں کی پلید کاروائیوں ومکروہ ہتھکنڈوں نے ڈیڈھ ارب کلمہ گو حضرات کوآپسی اختلافات ونااتفاقی کی لعنت میں گرفتار کرکے لاتعداد مصائب سے دو چار کر رکھا ہے۔ اِس جانکا صورت حال میں کسی طرح کی تبدیلی لانے کے بجائے مسلمانوں کے اکثر قائیدین بلا لحاظ گروہ وجماعت مصلحتوں کے حصار میں مُقید فقط بیان بازی سے کام لے کر اپنی بزدلانہ طریقہ کار کا برملا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہ صورت حال یقینا ایک المیہ سے کم نہیں۔
افسوس جو اُمت پوری دُنیا کے لئے نمونہ بن کر ابھری تھی اُسی کے رکھوالے گروہ بندی وفرقہ پرستی کا شکار اسلامی اقدار سے کھلواڑ کرنے میں کوشاں ہیں۔ اس تکلیف دہ وحسرت انگیز صورت حال کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرنے کی خاطر امام خمینیؒ نے باربار فرمایا تھا۔
’’مسلمانوں کے مسائیل بہت سے ہیں ۔البتہ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں نے الٰہی کتاب قرآن کریم کو طاق پر براجمان کرکے دوسروں کے نقشِ قدم پر چلنے میں عافیت جان لی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ایمان واتحاد وتقویٰ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوتاکہ تفرقہ کا ہدف نہ بنوافراموش کرگئے۔ اگر مسلمانانِ عالم قرآن مجید کی اس آیت پر عمل کرتے تو بلا شبہ اُن کے سیاسی، اقتصادی، معارتی غرض تمام اجتماعی مسائیل بغری کسی کے دامن کو تھامے حل ہوجائیں‘‘۔
اِس تمہید کے ساتھ سردست میں پیغمبر آخرزماں محمدمصطفیٰ ﷺ کے نواسے اور علی مرتضیٰ کے بیٹے حضرت امام حُسینؑ شہید کربلا سے دلی عقیدت کادعویٰ کرنے والی جماعت کی نسبت چند حقائق پر سے پردہ اُٹھانا چاہوں گا۔اس اصلیت سے کوئی بھی صاحب فکرونظر اتفاق کرتا نظر آئے گا کہ سیاسی میدان میں خصوصاً شیعان کشمیر کی حیثیت صفر کے برابر ہے۔ ایسا اس لئے کہ اس میدان میں اُن کی کوئی متحرک وفعال تنظیم یا پارٹی معرض وجود میں نہ آسکی۔ بدقسمتی کی بات اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ اس جماعت کو اجتماعی طور نہ کوئی ٹھوس مرکز ملا نہ پرخلوص رہنما،اس جماعت کا بظاہر نام ہی نام ہے۔ اس جماعت کے صفوں میں اتحاد نام کی چیز عنقا ہے۔اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اب تک حقیقی طور کوئی بھی تنظیم یا انجمن گروہ بندی کے حصار سے باہر نکل کر تشکیل دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔افسوس کہ بات یہ ٹھہری کہ ریاست چھوڑ ملک کے چھوٹے چھوٹے فرقوں نے اپنے جائیز مطالبات منوا نے کی خاطر سیاسی جماعت مستحکم بنیادوں پر تشکیل دی ہے۔ اُن کا کوئی نہ کوئی رہنما ہے جو ایثار وقربانی کے جذبے سے سرشار فرایض انجام دے رہا ہے۔ اس کے برعکس ریاست(خصوصاً وادی کشمیر)میں شہید انسانیت حضرت امام حُسینؒ کے نام لیوا گروہ بندی کی لعنت میں گرفتار ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دینی سالمیت واقدار کو زک پہنچانے میں سرگرم عمل ہیں ۔ یک جہتی،اخلاص ورواداری کو فروغ دینے کی بابت اگر کسی شخص نے مشورہ دینا چاہا تو مُٹھی بھر کو تازہ اندیش افراد کج روی کا مظاہرہ کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ریگ زار کر بلا میں کلیجے کے ٹگڑے بکھیرنے والے حضرت محمدﷺ کے نواسے امام حُسین ؑ کی مقدس قربانی کے بلند مقصد کو تو ہم یاد کرتے ہیں۔ غم مناتے ہیں، آنسوبہاتے ہیں مگر ہماری تساہلی امام عالی مقام کے بتائے گئے سبق وہدایات پر عمل کرنے نہیں دیتی۔
مجالس حُسینی تو دینی تعلیم سے لبریز عمل کا بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے مگر خدا بھلا کرئے چند کرم فرمائوں کا جو اپنی گدیوں پر اطمینان کے ساتھ براجمان فقط مشاہدہ کررہے ہیں۔ یعنی بدبخت قوم کی بُربادی کا اُنہیں زرہ بھر احساس نہیں۔ بدنصیبی کی بات یہ ٹھہری کہ کچھ علمائے کرام بھی قومی اتحاد اور بہبودی سے بے خبر بس واہ واہ کرنے یا اُن کی ہاں میں ہاں ملانے والوں کے حلقے میں مُقید رہنا پسند کرتے ہیں۔ قوم کی سالمیت کا شیرازہ بکھرجائے اُن کو اِسے سروکارنہیں۔دراصل اپنی خوشحالی کی خاطبر یہ دُنیا پر ست اصحاب عباوقبامصلحتوں کا شکار بنے کسی بھی طرح کے کار گر اقدام اُٹھانے سے قاصر ہیں۔
واقعہ کربلا سے وابستہ محاسن وہدایات کو بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اپنے حواریوں کو ایسے اُوچھے اقدام اُٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں کہ اُن کی عقل شریف پر ماتم کرنے کو جی کرتا ہے۔ دراصل اپنے سیاسی وجود کو منوانے کے لئے ضروری تھا کہ تمام علمائے کرام اجتماعی انداز فکر اپنائے ایک’’متحدہ محاذ‘‘کی داغ بیل ڈال دیتے کلیدی طرز کی جماعتوں کے سرپرستوں کے علاوہ کچھ دانشوروں کو اس اہم فریضہ کیلئے خلوصانہ انداز میں سامنے آنا پڑے گا۔ ایران یا عراق وغیرہ میں تعلیم وتادیب کا سفر طے کرنے والے جوانوں کی فوج تیار ہوگئی ہے۔ وہ اِس ’’متحدہ محاذ‘‘کو ٹھوس بُنیادوں پر چلانے میں ہر اول دستے کا کام کرسکتے ہیں۔ اگر اُن کو موقع دیا گیا۔میں اس وقت فقط مندرجہ ذیل دواہم معاملات پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں جن کا براہ راست تعلق بلا لحاظ مسلک وگروہ ہراُس شخص سے ہے جس کے دل میں پیغمبر آخروزمان محمدمصطفیٰ ﷺ کے نواسے شہید اعظم امام حُسین ؑ کیلئے عقیدت واحترام ہے۔
۱۔ سرینگر شہر سے برآمد ہونے والے ماتمی جلوسوںپر پابندی اور
۲۔ امام حُسین اسپتال بمنہ سرینگر کی حالت زار
۱۔ ماتمی جلوسوں پر قدغن
آٹھ محرم کا جلوس علم شریف گروبازار اور دس محرم کا جلوس زولجناح آبی گزر سے برآمد ہواکرتے تھے۔اِن دونوں جلوسوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے 1978ء میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمدعبداللہ نے راستہ از سر نو مقرر کیا تھا۔ جلوس علم شریف یاد گارِ حُسینی کمیٹی کے زیر اہتمام گروہ بازار سے برآمد ہوکر حیدری مال ڈلگیٹ میں اختتام پذیرہوتا تھا۔اِسی طرح جلوسوںزولجناح (عاشورہ) شیعہ ایسوسی ایشن وانجمن شرعی شیعان کے زیر اہتمام باری باری آبی گزر سے برآمد ہوکر جڈی بل میں اختتام پذیر ہوتا تھا۔ گذشتہ پچیس برسوں سے یہ دونوں کلیدی طرزکے ماتمی جلوس برآمد نہیں ہورہے ہیں۔ کاش ہم ٹولیوں میں نہ بٹ جاتے یا ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کی فضا قائم نہ کرتے تو گورنمنٹ کی کیا مجال تھی کہ مذہبی جلوسوں پر پابندی لگالیتی ۔ میلہ کھیر بوانی وامرناتھ یاترا کے سلسلے میں حکومت کے کرتا دھرتا ہر سطح پر بڑھ چڑھ کر انتظامات کرتے ہیں البتہ جلوس میلاد شریف ومحترم کے دو کلیدی جلوسوں پر کسی خاص مصلحت کے تحت پابندی لگائی گئی ہے۔ یہ صورت حال نہایت ہی تشویش کا باعث ٹھری۔ کاش مِلت کا نوجوان طبقہ بلالحاظ گروہ وجماعت حُسینی کردار بلند کرنے کی نیت سے میدان کا رزار میں اُترنے کی زحمت گوار کرتا تو بلا شبہ دونوں کلیدی جلوس برآمد ہوتے ۔فقط اتحاد ویک جہتی کا مظاہرہ ہر سطح پر کرنے کی ضرورت ہے۔
(۲)۔ حضرت امام حُسین اسپتال بمنہ سرینگر:۔
جولائی1984ء مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف پیشوں سے وابستہ کچھ افراد نے اپنا عیش وآرام دائو پر لگا کے’’حُسینی بلڈبنک‘‘ کے نام سے ایک چھوٹے سے ادارہ کی داغ بیل اس غرض سے ڈال دی کہ ماتمی جلوسوں میں قمہ زنی کے باعث جوخون ضائع ہورہا ہے اُس کو جمع کرکے انسانی زندگیاں بائی جائیں۔ غرض ان بنیادی اراکین نے ایک نیک مقصد کے حصول کے خاطر اپنا آرام وچین داوپر لگانے میں بخل سے کام نہ لیا۔۔۔۔ آگے چل کر اِن سرفروشوں نے اِس نیک ارادے کو تقویت بخشی کہ سرینگر شہر کے مضافات میں امام حُسین فائونڈیشن کے تحت اسپتال تعمیر کرلیا جائے۔ اِس خیال کو عملی جامعہ پہنانے کی غرض سے بمنہ علاقہ کے کچھ پر خلوص افراد کے ساتھ رابطہ قائم کیا گیا۔ بُنیادی اراکین کے ارادے میں پروردگار عالم کی مرضی شامل حال تھی کہ بمنہ میں فلڈ چینل کے بغل میں کاہچرائی اراضی کا کلیدی حصہ(69کنال12مرلے)1996ء میں گورنمنٹ نے حُسینی بلڈبنک اسپتال کی عمارت تعمیر کرنے کی غرض سے دستیاب رکھی،اور پھر تعمیراتی کام میں سرعت لانے کی غرض سے بنیادی اراکین نے ہر طرح کی زحمت خندہ پیشانی کیساتھ برداشت کی۔
مارچ2007تک امام حُسین فائونڈیشن کے چیئرمین کے طور مختلف افراد اپنے فرائض ادا کرتے رہے۔ اُن میں مرحوم آغا ناصر، پروفیسر علی محمدبٹ،انجینئر محمدرضا اور مرزا ناصر علی شامل ہیں۔20مارچ2007کو شاہ عباس ہوٹل میں منعقدہ میٹنگ میں یہ طے پایا کہ بنک کا قرضہ ادا کرنے اور اسپتال کے نظم ونسق میں بہتری لانے کی غرض سے علمائے کرام کی قائدانہ خدمات حاصل کی جائیں۔ معاملات پر غور کرنے کے بعد یہ طے پایا تھا کہ آئینی حدود کے زیر سایہ باضابطہ فائونڈیشن کے اراکین کا انتخاب ہونے تک مرحوم مولانا افتخار حسین انصاری کو عبوری چیئرمین کے طور منظر عام پر لایا جائے۔ اس کے بعد بھی اسپتال کے ہر طرح کے حالات میں سُدھاردیکھنے کو نہیں ملا۔ بلکہ امام حُسین فائونڈیشن کے اراکین کا انتخاب آئینی لوازمات کے تحت کرانے کی باپت کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائے گئے۔یہ سلسلہ مولانا انصاری کی رحلت کے بعد حاوی وجاری ہے۔
16مئی2017ء کو قوم کے کچھ افراد نے علمائے کرام وبنیادی متولیان کے ساتھ تبادلہ خیال کرکے اسپتال ودیگر زیلی یونٹوں کے نظم ونسق میں شفافیت لانے کی غرض سے13اشخاص پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کے اراکین کی تفصیل اخبارکشمیر عظمیٰ سرینگر کے19مئی2017ء کے شمارے کی زینت بن چکی ہے۔ اس کے رد عمل میں اخبارِآفتاب کے21مئی2017ء کے شمارے میں اسپتال کے ملازمین کے صدر ذولفقار علی کا وضاحتی بیان پڑھنے کو ملا جس میں16مئی کی میٹنگ کی کارروائی کی جم کر مخالف کی گئی ہے۔اس کے بعد کوئی ٹھوس ومتحرک کارروائی امام حسین فائونڈیشن کے اراکین کے انتخاب کے باپت دیکھنے کو نہیں ملی۔جس کا براہ راست اثر اسپتال کی کارکردگی پر پڑا ہے۔ یہ صورت حال نہایت ہی افسوس ناک ہے۔
اب حال ہی میں اخبارات میں یہ بیان پڑھنے کو ملا کہ امام حسین اسپتال کے چیئرمین آغا سید حسن الموسی نے اسپتال میں(Leproscopic)سرجری سہولیات کا باضابطہ افتتاح کردیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی آیا ہے کہ ملازمین کے صدر زولفقار علی اسپتال کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر کے عہدے پر براجمان ہے۔ اس کارروائی کے خلاف امام حُسین فائونڈیشن کے بنیادی ٹرسٹریز کا وضاحتی بیان اخبار روزنامہ ویتھ باپت6فروری2019ء کے شمارے کی زینت بنا ہے۔ جس میں لے دے کے یہ جتایا گیا ہے کہ صحیح یا دُرست لائحہ عمل اختیار کرنے کے بجائے آغا سید حسن الموسوی نے قانون شکن اور خلاف شروع اقدامات اُٹھانے کی کوشش کی ہے۔افسوس کے ساتھ ضبط تحریر میں لانا پڑرہا ہے کہ حضرت امام حسین ؑ سے بظاہر عقیدت رکھنے والی قوم ایک ادارہ بھی خوش اصلوبی کے ساتھ چلانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ اور ادارہ کی موجودہ حالت کسی بھی طرح تسلی بخش نہیں کہی جاسکتی ۔
اِن تشویش ناک وناگفتہ بہہ حالات میں حقر ایک بار پھر امام حسین فائونڈیشن سے کسی بھی طرح کی وابستگی اور حضرت امام حُسین ؑ سے دلی محبت رکھنے والے ذی حس افراد سے ملتمس ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر حسینی مجاہدین کا لباس زیب تن کئے آگے آکر اپنا ملی فریضہ ادا کریں۔ اس طرح ایک دوسرے کے خلاف الزامات تراشنے یا جوابی گولے داغنے سے بہتر وافضل رہے گا کہ اِس عظیم قومی اثاثے کی بہتری وترویض کی خاطر کچھ کارگر وقابل عمل اقدام اُٹھائیں ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائی کی نہج اپنانے سے بہتر رہے گا کہ ہر قدم خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تاکہ ادارہ کی اعتباریت کسی حد تک برقرار رہے۔
تمام خدشات دور کرنے اور امام حسین فائونڈیشن کی فاروغ البالی کی خاطر میرے خیال میں مندرجہ ذیل اقدامات اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
۱۔ ادارہ کاآئین(دستورعمل) تیار کرنے کی غرض سے کسی لایق وکیل کی خدمات حاصل کی جائے تاکہ ملکیت قوم کے نام وقف رہے اور کوئی شخص یا ذات آگے چل کر اپنی حاکمیت جتانے کی کوشش نہ کرے۔
۲۔ سو افراد پر مشتمل جنرل کونسل تشکیل دی جائے اور ہر ممبر دو ہزار کی رقم بطور ممبر شپ ادا کرے۔
۳۔ جنرل کونسل کے ممبران ہی مجلس عاملہ/انتظامیہ کے اراکین کا انتخاب کرے۔ ہر تین سال کے بعد عہدہ داران وچیئرمین کا انتخاب کرانا لازمی ہوگا۔
۴۔ اسپتال ووابستہ یونٹوں کو احسن طریقے پر چلانے کیلئے زیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو جنرل کونسل کے زیر اثر کام کریگی۔
۵۔ آمدنی وخرچہ کا سالانہ گوشوارہ مشتہر کیا جائے۔
آخر میں عقیدت مندان حضرات امام حسین ؑ سے التماس کرتا ہوں کہ وہ مصلحتوں ورشتوں کے حصار سے نکل کر محض از رضائے حق تعلی یک جہتی، اتحاد ویگانگت کا مظاہرہ کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی زحمت گوارا کریں تاکہ محرم الحرام کے دو کلیدی ماتمی جلوس براامد کرانے کی تدبیر عمل میں لائی جائیں۔ساتھ ہی امام حسین اسپتال کی فلاح وبہبود کیلئے کارگر اقدام اُٹھائیں جائیں۔
یہ دُنیا سرائے فانی ہے۔ کسی فرد کو دوام حاصل نہیں یہ فلک بوس عمارتیں،یہ فکٹریاں، یہ گاڑیاں،یہ باغات، عیش وعشرت کا سامان اور بنک بیلنس سب کچھ چھوڑ کے خالی ہاتھ اِ س دارِ فانی کو خیر باد کہنا ہے۔ اگر کچھ ساتھ جائے گا تو عمل صالح وپرہیز گاری۔لہذا کیوں نہ اپنی عاقبت سنوارنے کی چاہ میں آگے آکر ماتمی جلوس برآمد کرانے اور اسپتال کی شہرت کو بلندیوں تک لے جانے میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دست بہ دُعا ہوں کہ ہم سب کو ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کے بجائے حق پہچاننے وحق پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین
ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر
9906439491










