hassn sahoo

حسن ساہو کی مختصر سوانح حیات

نرگس امجد

ریاست کے ادبی، سماجی اور صحافتی طرز کے شعبوں کا سرسری طور کھنگالنے کی کوشش کی جائے تو یقینا نامور ومعتبر قلم قاروں کے ساتھ حسن ساہو کا نام بھی سامنے منڈلانے لگتا ہے،1953؁ء میں حسن ساہوں کا پہلا افسانہ’’دلاری‘‘ کے عنوان سے ہفتہ روزہ ’’چترا‘‘ ویلی کی زینت بنا۔اُس کے بعد’’پاگل‘‘ کے نام سے کہانی ماہنامہ بانو دہلی میں شائع ہوئی۔ اُن دنوں حسن ساہوؔ دراصل شش وپنچ کا شمیری کے نام سے کاغذ داغدار کرتے تھے۔ریاست کے محکمہ برقیات میں ملازمت اختیار کرلی۔
1960؁ء میں ایک سے دو بن جانے کے معاملے میں کچھ احباب خاصکر (پروفیسر فدامحمدحسین، ایس اے ایس قادری اور موہن یاور) کے اصرار پرحسن ساہو نے قلمی نام سے ادبی وصحافتی نگری میں نام کمایا، قلمی جہاد کا سلسلہ ملازمت کے دوران بھی آب وتاب کے ساتھ جاری رہا۔ مندرجہ ذیل مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔
۱۔ پھول کاماتم
۲۔ بستی بستی صحراصحر
۳۔ اندھا کنواں
۴۔ گردش دوراں
۵۔ بیتے دنوں کا کرب۔
ساہو صاحب کا چھٹا افسانوی مجموعہ ’’سنگریزے‘‘ کے نام سے زیر طباعت ہے۔ جوکہ افسانچے اور خاکوں پر مشتمل ہے۔
سماجی ومذہبی (خاص کر واقعہ کربلا کی مناسبت)سے مضامین وقت وقت پر مختلف اخباروں میں شائع ہوئے ہیں۔قریباً بیس کتابچے ان مضامین کے بابت تحریر میںلائے ہیں۔
ان میں ’’کعبہ سے کربلا تک‘‘،’’ بنائے لا اللہ او رہمارا فرض‘‘، ’’حسین اور اسلامی ریاست کا تصور‘‘،’’ کربلا کا عظیم المیہ‘‘، ’’فلسفہ کربلا اور ہماری ذمہ داری‘‘، ’’Greatest Secrifice‘‘،’’درس اِخلاقیات‘‘،’’محسن اسلام اور ہم‘‘، گلدستہ عقیدت‘‘، ’’معرکہ حق وباطل ‘‘ اور ’’شیعہ سُنی اتحاد‘‘کافی مقبول ہوئے۔
ملازمت سے سبکدوش ہونے پر 1993؁ء میں اردو میں ہفت روزہ’’دوران‘‘شائع کیا اور 1997؁ء میں روزنامہ’’گردش‘‘کے نام دوسرا اخبارشروع کیا۔ اب بھی یہ دونوں اخبار۔بیٹیوں(نرگس امجد اور جلیس عابد) کی ادارت میں ہفت روزہ اور دو ہفتہ وار طور آفسٹ پرینٹنگ پر شائع ہورہے ہیں۔
کبرسنی اورنقاہت کے باعث اب تو کاغذ داغدار کرنے کا سلسلہ بڑی حد تک متاثر ہوچلا ہے۔ اُس پر غضب یہ کہ قوت حافظہ کے ساتھ ساتھ قوتِ بصارت وسماعت بھی ساتھ چھوڑنے کے در پہ ہیں اس کسم پُرسی کی حالت میں رہ رہ کر یہ شعر ذہن کی گدازیوں میں گنگنانے لگتا ہے۔

’’ہوش وحوا س اور توانائی رفوچکر
اے اجل رحم فرما ساتھی چلے گئے‘‘