hassn sahoo

حسن ساہو کا ایک تعارف

نرگس امجد

اپنے والد صاحب سے جو ادبی دُنیا میں ’’حسن ساہو کے نام سے جانے جاتے ہیں مجھے کچھ ذاتی وخاص طرز کے سولات پوچھنے کا موقعہ ہاتھ لگا اور اپنے اخبار ’دوران‘ کے مداحوں کے لئے اُن کی گزری ہوئی زندگی کے کچھ اہم مگر نہاں گوشوں پر سے پردہ ہٹانے میں کامیاب ہوگئی۔ مجھے اُمید ہے کہ تمام قارئین کو اس انٹرویو کی بدولت میرے والد صاحب کو اچھے انداز میں جاننے میں مدد ملے گی۔یہ سچھ ہے کہ میرے والد صاحب کس طرح کی نمائیش نہیں چاہتے۔ جاوہ نمود سے اُن کو نفرت ہے یہی وجہ ہے کہ اتنی طویل مدت تک ادبی دُنیا سے وابستہ رہنے پر بھی انہوںنےاشتہار بازی کو اپنا شعار نہیں بنایا۔ اس انٹرویو میں کچھ سوالات ادبیات سے ہٹ کر بھی ہیں جن کا جواب ساہو صاحب نے کھلے ذہن کے ساتھ دیا۔
س:۔ آپ کا اصلی نام کیا ہے؟
ج:۔ میرا اصلی نام غلام حسن بٹ ہے۔
س:۔ اپنے خاندان یا اسلاف کی باپت کچھ جانکاری دیں۔
ج:۔ وادی کشمیر کے شہر سرینگر کے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوا۔ والدہ صاحبہ بچپن میں جبکہ میری عمر پانچ برس کی تھی انتقال کرگئیں۔ اباحضور(غلام علی زوار) اردو اور فارسی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال26جنوری1952؁ء میں ہوا۔ اس کے بعد حضور چچا(حاجی محمدابراہیم) نے ہم تینوں بھائیوں کی جانب دست شفقت دراز کیا۔ میرے بڑے بھائی بھی عباس عراقی کے نام سے کاغذ داغدار کیا کرتے تھے اُن کو بھی شاعری سے جنون کی حد تک پیار تھا۔ اُن کی وفات کے بعدمیں نے اُن کے اشعار اور منضومات کو ترتیب دیکر ’’شکستہ ساز‘‘ کے عنوان سے2014؁ء میں شائع کیا۔
2019میں چھوٹے بھائی غلام مصطفیٰ کی وفات نے میری ہمت توڑ کے رکھ دی ۔اب اس عالم پیری میں غم زدہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کر رہا ہوں۔
س:۔ آپ کو افسانہ نویسی کا شوق کب سے ہوا؟
ج:۔ دراصل اسکول اورپھر کالج سے گھر واپس آکر میں دن بھر کی روئیداد قلم بند کیا کرتا تھا۔ ساتھ میں روزانہ ڈائری لکھنے کی عادت بھی پڑگئیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ قصے کہانیاں لکھنے کا شوق میرے اندر جاگ گیا۔میرا پہلا افسانہ’’یاد رفتہ‘‘ کے عنوان سے ’’پیام مشرق‘‘ دہلی1952میں چھپا۔ دوسرا افسانہ’’ آزادی کے کرشمے‘‘ ماہنامہ ’’پتوار‘‘ لودھیانہ میں1954؁ء میں چھپ گیا۔ یہ دونوں افسانے1947؁ء کی افراتفری اور خون خرابے سے متاثر ہوکر لکھے تھے۔ ان میں بتایا گیا کہ کیسے بٹوارے کے نام پر ’زمین‘جائیداد وگھروں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دل اور رشتے بھی بٹ گئے تھے۔
س:۔ آپ کے تخلص کا انتخاب کیسے ہوا؟
ج:۔ یہ بھی ایک عجیب واقعہ ہے۔ میں کالج میں زیر تعلیم تھا۔ کچھ کہانیاں تحریر کر چکا تھا۔ اب اچھے تخلص کی تلاش تھی۔ ایک روز کلاس میں بیٹھے کھویا کھویا سا اس معاملہ پر دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اُردو کے پروفیسر ندویؔ صاحب کی بھاری بھرکم آواز کانوں میں گونجی، ’’حسن تم کس شش وپنج میں پڑے ہو‘‘ بس میں نے شش وپنج ہی تخلص رکھ لیا۔ اس نام سے بہت سی کہانیاں دیگر مضامین مختلف رسالوں میں چھپ گئی اور پھر اسی نام سے میں پہچانا جانے لگا۔ کچھ احباب نے یہ احساس کراکر کہ نام کا شخصیت پرگہرا اثر پڑتا ہے۔ مجھے تخلص بدلنے کی ہدایت کی ۔آخر کارمرحوم موہن یاور اورمرحوم ساگر کشمیری کی تجویز پر میں نے حسن ساہوں کے نام سے کاغذ داغدا کرنے شروع کردئے۔
س:۔ اپنی شادی کی باپت ذراتفصیل سے عرض کریں ؟
ج:۔ یہ ایک لمبی داستان سے بیان کرنے لگوں تو دفتر لگ جائے گا ۔مختصراً یہ کہ شریک حیات کے انتخاب میں مجھے اچھی صورت، حسن یادولت زیر نہ کرسکی،میں صورت سے زیادہ سیرت کا مُتلاشی تھا۔ اب بھی ہوں یہی وجہ سے کہ میں نے مدیھہ پردیش (جبل پور) کی ذہین لڑکی کا ہاتھ تھام لیا وہ خود بھی ایک اچھی ادیبہ تھیں۔ مراسلت کی بل پر بیگم سے جان پہچان ہوگئی تھی۔ شادی سے پہلے ہمارہ کبھی آمنہ سامنہ نہیں ہوا تھا۔ حتیٰ کہ منگنی کی رسم بھی بذریعہ ڈاک انجام پائی۔
س:۔ کیا کسی ایک سے کلام کی اصلاح لی ہے؟
ج:۔ نہیں میں نے ادبی سفر میں کسی ایک کی راہبری حاصل نہیں کی اور نہ کسی ایک کی تقلید اپنائی۔ میں عام فہم زبان میں عام لوگوں کے لئے لکھتا ہوں۔ ادیب ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ جب تک کہانی یا افسانے کا مواد سامنے نہ منڈلائے میں کچھ لکھ نہیں پاتا۔ خدا کا شکر ہے کہ اکثر بارہاذوق طبقہ سے وابستہ احباب نے میری تحریرکو سراہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنی محنت کا صلہ مل گیا۔
س:۔ کیا آپ کاکوئی افسانوی مجموعہ چھپ چکا ہے؟
ج:۔ابتدائی دور میں پہلا افسانوی مجموعہ’’پھول کا ماتم‘‘1981؁ء میں شائع ہوا ہے، اس کے بعد دوسرا افسانوی مجموعہ ’’بستی بستی صحرا صحرا‘‘1983؁ء زیر طباعت سے آراستہ ہوا ۔تیسرا افسانوی مجموعہ’’ اندھا کنواں‘‘ کے عنوان سے1996؁ء میں منظر عام پر آیا ۔ چھوٹا افسانوی مجموعہ’’گردش دوران‘‘ کے عنوان سے2009میں میزان پبلیشرز سرینگر کی وساحت شائع ہوا۔ پانچواں افسانوی مجموعہ ’’بیتے دنوں کا کرب‘‘ کے نام سے طویل عرصہ کے بعد2021میں شائع ہوا۔ میرا چھٹا مجموعہ افسانوی اور افسانچوں پر مبنی ’’ سنگ ریزے ‘‘کے عنوان سے زیر طباعت ہے۔
اس کے علاوہ بہت سے سیاسی سماجی اور مذہبی انداز کے مضامین تحریر کئے ہیں جو مختلف جریدوں اور کتابچوںکی صورت میں شائع ہوئے ہیں۔
اِن میں ’’کعبہ سے کربلا‘‘، ’’بنائے لااِللہ ـاور ہمارافرض‘‘،’’کربلا کاعظیم المیہ‘‘،‘‘Greatest Sacrifice”،’’محسن اسلام اور ہم‘‘،’’راکب دوش محمدؐ ‘‘، گلدستہ عقیدت‘‘، عظمت شبیر‘‘، معرکہ حق وباطل‘‘، ’’شیعہ سنی اتحاد ‘‘قابل ذکر ہے۔
س:۔ ادب میں بہت سے اصناف ہیں۔ آپ نے افسانہ نگاری کو ہی کیوں اپنایا؟
ج:۔دراصل اپنے جذبات وخیالات کی ترجمانی نشر میں واضح انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ مجھے شاعری کا بھی شوق رہا ہے لیکن زیادہ لطف تو کہانیاں تحریر کرنے ہی میں آتا ہے۔ کوئی بھی کہانی یا افسانہ مکمل کرنے کے بعد اطمینان سا محسوس کرتا ہوں۔
س:۔ اس دور جدید میں طرح طرح کے تجربات کئے جاتے ہیں آپ ’’ادب برائے ادب‘‘ یا ادب برائے زندگی کے قائل ہیں؟
ج:۔’’ادب برائے زندگی‘‘کا قائل ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ادب کی اعلیٰ قدروں اور اصولوں کی آبیاری کرکے ہم اپنی زندگی کو سنوارسکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ادیب کو حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ میں نے ہمیشہ اصلیت کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی ہے جو کچھ یہ زمانہ یا وقت کی گردش مجھے دے رہے ہیں میں اُس کو لفظوں میں پِروکے واپس کرنے کی جسارت کیا کرتاہوں۔ ادیب میں تعمیری انداز کی سوچ ہو تو یقینا سماج میں پھیلے گندے اور پلید عناصر اس کی صدائے احتجاج سے نیست ونابود ہوسکتے ہیں۔
س:۔ آپ کس قسم کی تنقید پسند کرتے ہیں؟
ج:۔ تنقید سے گھبرانا کیا؟البتہ چاہتا ہوں کہ تنقید تعمیری انداز کی ہو ویسے نقاد حضرات سے میری ادنیٰ گزارش ہے کہ قلم چلانے سے پہلے متعلقہ مصنف کے معیار کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ یعنی اپنے سوچنے وپرکھنے کی صلاحیت کو ادیب کی سطح پر لاکر تنقیدی مضمون تحریر کریں۔ ورنہ اپنے نام کو مشہور کرنے کی لگن میں اول فول سے کام لینے سے ادب کی خدمت نہ ہوگی۔ اس میں بہتر رہتا کہ نقاد حضرات ادیب کی صحیح معنوں میں مدد کریں۔ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ۔تنقیداصلاحی وتعمیری انداز کی ہواور خلوص دل ونیک نیتی کے ساتھ تحریر کی گئی ہو تو یقینا سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔
س:۔ آپ کن کن ادیبوں سے متاثر ہوئے ہیں؟
ج:۔ یوں تو بہت سارے ادیب ہیں، لیکن زیادہ تر انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی، کرشن حیدر، عصمت چقتائی، بلونت سنگھ، قرۃ العین حیدر، رتن سنگھ، جیلانی بانو، رام لعل اور غیاث احمدگدّی اور نور شاہ وغیرہ نے مجھے متاثر کیا ہے۔
س:۔ آپ کو اپنی تحریر کردہ کون سی کہانی پسند ہے؟
ج:۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میں نے آج تک اچھی کہانی تحریر نہیں کی ہے ۔ پھر بھی افسانہ’’ عکس ‘‘ مجھے بے حد پسند ہے۔’’اعتراف گناہ‘‘ بھی ایک اچھی کہانی کی طور پر مجھے پسند ہے۔ یہ کہانی’’اندھا کنواں‘‘ میں شامل ہے۔
س:۔ کیا بچوں کو ادب سے دلچسپی ہے؟
ج:۔ بیٹا ادریس انجینئر تھا۔ وہ عالم شباب میں رحلت کرگیا۔ البتہ بیٹیاں (نرگس امجد اور جلیس عابد) کو اردو ادب سے خاص دلچسپی ہے ۔جلیس عابد افسانہ لکھنے کے ساتھ ساتھ شاعری کا بھی ذوق رکھتی ہیں۔ نرگس امجد کی ادارت میں ہفتہ روزہ’’ دوران‘‘ باقائیدگی سے شائع ہورہا ہے۔
س:۔نئے لکھنے والوں کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
ج:۔کہنا تو بہت کچھ ہے لیکن وقت کی فرادانی کہاں حاصل پھر بھی نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ فلمی وجاسوس طرز کی کتابوں یا رسالوں کا اثر لیکر کاغذداغدار نہ کریں ۔ بلکہ وہ اخلاقیات او رادبیات سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کریں تو اُن کی تحریرقومی جیالوں کے لئے سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ننگے وفحش جریدوں سے دور رہ کر اپنے دل ودماغ میں اخلاقی قدروں کو بجااندازمیںجگہ دیں۔اس ملک وقوم کی نئی پود کو صحیح انداز میں رہبری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج کل کے ادیب پربڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم کو لکھنا ہے اس سماج اور سوسائٹی کو پاک وصاف کرنے کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔‘۔ ملک وقوم کی بہبودی کیلئے اور آپسی میل ملاپ ویک جہتی کو فروغ دینے کیلئے ایک ادیب چاہے تو اپنی تحریر کی مدد سے گمراہ لوگوں کو صحیح راستے سے روشناس کراسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ ادبی لوازمات سے خود بھی باخبر ہو۔