حسن ساہوں کے افسانے قربانی کا تجزیاتی مطالعہ

افسانہ:قربانی

حسن ساہوؔ

آسمان سے باتیں کرتی اونچی نیچی پہاڑی سلسلہ کے دامن میں ڈھلان کی جانب رواں دواں نیل ندی کے کنارے خان پور کا علاقہ آباد ہے۔ شہر اور وابستہ دیہات سے ملانے والی رابطہ سڑک ناگن کی طرح بل کھاتی زیادہ تر پتھریلی و کچی جو برفباری کے باعث سال میں کم از کم آٹھ مہینے آمد و رفت کے لائق نہیں رہتی ۔ اس پہاڑی بستی میں ریحانہ اور نادرہ کا جنم ہوا۔ ان دونوں کی پیدائش میں فقط چار گھنٹے کا فاصلہ حائل رہا۔ جہاں ریحانہ نے جمعرات صبح نو بجے عالم وجود میں قدم رکھا وہیں نادرہ نے اُسی روز دن کے ایک بجے دنیائے آب وگل میں آنکھیں کھولیں ۔ دونوں سہیلیوں کے مکان آمنے سامنے تھے اور درمیان میں محسن مشترکہ طور استعمال ہوا کرتا تھا۔ ریحانہ کے والد عبدالغفار مقامی مڈل اسکول میں ٹیچر کے فرائض نجام دے رہے تھے اور نادرہ کے ابا رحیم ڈار کی بستی کے بڑے چوک میں کریانہ کی دکان تھی۔ دونوں گہرے دوست تھے۔ فرصت کے اوقات کھلیان پیر باغ کے چبوترے پر گھنٹوں مختلف مسائل و معاملات پر تبادلہ خیال کیا کرتے تھے۔
دونوں گھرانوں کے خوشگوار تعلقات کے پس منظر میں ریحانہ اور نادرہ کا بچپن لڑکپن محبت بھرے ماحول میں بیت گیا۔ اس دوران ریحانہ کی ماں اور نادرہ کے والد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔
آٹھویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد ریحانہ کے والد عبدالغفار کو اُس کی شادی کی فکر لاحق ہوگئی _ دراصل شریک حیات کی دائمی جدائی کے باعث اُس کی صحت بگڑتی جارہی تھی اور چاہتے تھے کہ اس فریضہ سے جلد از جلد سبکدوش ہو جاؤں۔ اُس کی نظر انتخاب عمران پر جانکی ۔ عمران کے والد عبدالطیف شہر میں قیام پذیر تھے اور ٹیچرس ٹریننگ اسکول میں عبدالغفار اور عبدالطیف نے دو برس اکٹھے گزارے تھے۔
شادی سے متعلق رسوم نہایت ہی سادگی سے انجام پائے اور گاؤں کو الوداع کہتے وقت ریحانہ کے رشتہ داروں سے زیادہ دُکھ نادرہ کو ہوا ۔ وہ ریحانہ سے لیٹ کر بچوں کی طرح زار و قطار رونے لگی۔
عمران کو اپنے والد کی سفارش پر شیخ محبوب بیگ کے کارخانے میں ملازمت مل گئی۔ شیخ صاحب کی کشمیری ملبوسات ، شال و قالین کے علاوہ پیپر ماشی کی چیزوں کا خوب پھیلا ہوا کاروبار تھا۔ ”کشمیر آرٹ کے نام سے جموں میں ایک شو روم کھول رکھا تھا اور چندی گڑھ کے رائل ہوٹل میں دو کمروں پر مشتمل ایک برانچ حال ہی میں چالو کرایا تھا۔ عمران کو حساب و کتاب کی ذمہ داری سونپی گئی جو اُس نے یہ حسن و خوبی نبھائی ۔ اپنی ذہانت اور دیانتداری کے باعث عمران نے شیخ صاحب کا دل جیت لیا۔
اس دوران نادرہ کی شادی ایک مقامی لڑکے امتیاز سے طے پائی جسے وہ چاہتی تھی ۔ ریحانہ نے عمران کے ساتھ اس شادی میں شرکت کی اور اپنے والد کی زیارت بھی کی جن کی طبیعت خراب چل رہی تھی۔ نادرہ کے اصرار پر ریحانہ نے امتیاز کو کسی طرح کا کام دلانے پر عمران سے پر زور سفارش کی ۔ الغرض شیخ صاحب نے عمران کے کہنے پر امتیاز کو سیلز مین کی حیثیت سے ملازم رکھا۔ شیخ محبوب کا ایک ہی لڑکا تھا عثمان جسے مروجہ تعلیمی زینے طے کرنے کے بعد کاروباری طرز کی باریکیاں سیکھنے کی خاطر لندن بھیجا تھا۔ ویسے بے جالاڈ و پیار کے باعث عثمان کی عادتیں پہلے ہی بگڑنے لگی تھیں اور لند ن جائے اُس کی آزاد طبیعت میں لا ابالی پن سمانا یقینی بات تھی۔ شیخ محبوب شریک حیات کے ہمراہ حج کو چلے گئے تو عمران نے کاروبار سنبھالا ۔ واپس آنے کے بعد کار کے ایک حادثے میں شیخ صاحب اور اُس کی بیگم کی موت واقع ہو گئی _ یہ جانکاہ خبر سنتے ہی عثمان لندن سے واپس آئے ۔ ساتھ میں بنگلہ دیش نژاد لڑ کی ٹریسا تھی جس کے ساتھ اُس نے سول میریج کی تھی۔ شراب پینے اور دیگر خرافات اپنانے میں ٹریسا عثمان کا بھر پور ساتھ دیتی تھی _ کاروباری امورات کی باریکیوں کو جانچنے اور پرکھنےکی ذمہ داری عمر ان کی رہ گئی جس کا احساس عثمان کو بھی تھا۔
عمران کی کوششوں کے باعث امتیاز کو پاس والی کالونی میں کوارٹر کرایہ پر دستیاب ہوا تو نادرہ گاؤں سے آگئی اور بچپن کی دونوں سہیلیاں پھر سے ایک دوسرے کے دُکھ سکھ میں حصہ لینے لگیں ۔
ریحانہ کو بتائے بغیر نادرہ رفیق حیات کے ساتھ نمائش گاہ کی سیر کو گئی۔ واپسی پر ریحانہ کو احوال کیا سنایا کہ وہ بھی نمائش گاہ کا پروگرام مرتب کرنے لگی۔ عمران کام سے فراغت پانے کے بعد جلدی گھر واپس لوٹے۔ ریحانہ تیار بیٹھی تھی۔ تھی۔ دونوں نے خوب سیر کی ۔ کچھ کپڑے اور باورچی خانے میں استعمال ہونے والی چیزیں خرید لیں اور پیپل والے چوک کے نکڑ پر میٹا ڈار کا انتظار کرنے لگے ۔ اتنے میں سامنے ایک کار آ کر رک گئی۔ کار عثمان ہی چلا رہا تھا۔ اس نے ریحانہ اور عمران کو اُن کے کوارٹر تک لفٹ دی اور رہ رہ کر دز دیدہ نگاہوں سے ریحانہ کو گھورتا رہا’ دوروز بعد شیخ عثمان نے آڈٹ کرانے کی غرض سے عمران کو شمبھونا تھ اکاؤنٹ کے ہمراہ چنڈی گڑھ روانہ کر دیا‘
ریحانہ کمرے میں اکیلی تھی، صبح آٹھ بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ فون پر شیخ عثمان بول رہے تھے۔ عثمان نے باتوں باتوں میں حلیمی و رواداری کے ساتھ کوٹھی پر ملاقات اور شام کے کھانے کی دعوت دی۔
ریحانه تذبذب میں پڑ گئی اور ٹالنے کی کوشش کی اتنے میں عثمان نے بتا دیا کہ دراصل وہ عمران کی بھلائی کی خاطر گفتگو کرنا چاہتے ہیں ’اتنا سکتا تھا کہ ریحانہ نے حامی بھر لی‘۔
کوٹھی کا دروزہ کھولتے ہی دربان نے بیرونی کوارٹر کے کمرے میں انتظار کرنے کو کہا۔ کچھ دیر بعد عثمان عقب کے دروازے سے داخل ہوئے ’ اُس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی ‘۔
عمران خوش نصیب ہے جو اُسے تم جیسی خوبصورت بیوی ملی۔ ریحانہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ عمران کی بابت جاننے کے لئے بے قرار تھی ۔ کھانا کھانے کے بعد ریحانہ حیرت زدہ کچھ سوچنے لگی کہ عثمان نے قفل سکوت توڑ دیا
عمران دراصل بہت ہی ذہین نوجوان ہے۔ اُس میں آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اُس کا اعتماد اور لگن سے کام کرنے کا طریقہ مجھے بہت پسند ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ برانچ منیجر کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہے ۔ میں نے اُسے برانچ منیجر کے عہدے پر فائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ اس صورت میں اُسے اکثر دورے پر جموں اور چندی گڑھ جانا پڑے گا اور تمہیں اکثر راتیں تنہائی میں گزارنی پڑیں گی
تنہائی اس کم عمری میں تمہارے لئے عذاب سے کم نہیں
اس پر ریحانہ نے کہا،،
“عمران کی ترقی کے لئے میں ہر طرح کی تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں ” یہ سُننا تھا کہ عثمان کا چہرا خوشی سے کھل اُٹھا’ شراب کا ایک پیک حلق میں انڈیلتے ہوئے گویا ہوا‘
تم ایک خوبصورت اور صحت مند عورت ہو نئی شادی شدہ تنہائی تم پر ظلم ہے۔ سراسر زیادتی ہے۔“ “آپ آخر کہنا کیا چاہتے ہیں ریحانہ کے رویے میں تبدیلی آئی مطلب صاف ہے ! عمران کی غیر حاضری میں تمہیں کسی مرد کی رفاقت حاصل ہونی چاہئے _ ایسا مرد جو تمہارا اور عمران کا شناسا اور خیر خواہ ہو ریحانہ اتنی نادان نہ تھی۔ خبیث عثمان کا مطلب تاڑ گئی ۔ تذبذب اور اضطراب کی حالت میں کرسی سے اٹھی اور عثمان کی جانب نفرت بھری نگاہوں سے گھورتی ہوئی باہر نکلنے لگی۔ اتنے میں عثمان کی آواز فضا میں گونجی۔ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ راز دارانہ طریقے پر ہو گا۔ تم اس پر سوچو میں پھر فون کروں گا
فون کرنے کی ضرورت نہیں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تم اتنے پیچ اور گرے ہوئے آدمی ہو ریحانہ برس پڑی اور اپنے کوارٹر کا رُخ کیا۔
اگلے روز پریشانی کی حالت میں متذکرہ واقعہ پر سوچ رہی تھی کہ نادرہ ملنے آگئی۔
ریحانہ یہ کیا صورت بنا رکھی ہے۔ خیر تو ہے نا ؟“ جو اب ریحانہ زار و قطار رونے لگی ۔ ضبط کے باندھ میں جیسے شکاف پڑے گیا ہو اور گیا گذار سارا واقعہ بیان کرنے لگی۔ اتنے میں نادرہ کی زبان وا ہوئی،،
عثمان تو انسان کے بھیس میں شیطان ہے ’تم تو اتنا سن کے واپس لوٹی ۔ میں ہوتی تو اُس کمینے کا منہ نوچ لیتی ۔ وہ اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے‘۔
عمران کو کہو وہ اس کی خبر لے گا،،
نہیں نادرہ عمران سے کہہ کر میں اُسے کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتی ۔ اُسے کچھ کہہ دوں گی تو وہ نوکری چھوڑ دے گا۔ اُس کی عزت قائم رہے‘ میں نہیں چاہتی کہ وہ پریشان ہوں،،
مگر ریحانہ تمہیں چاہئے کہ اس بد کردار کی پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکر ا دو’ اس عیاش کو سبق سکھا دو ‘اس کے دو دن بعد شیخ عثمان کا فون آیا تو ریحانہ نے سختی کے ساتھ ٹوکا اور صاف صاف بتا دیا کہ اُس کی مذموم خواہش کبھی پوری نہ ہوگی ۔ میں ایک وفادار گھر یلو عورت ہوں ۔ اپنے شفیق شوہر کی نیک سیرت رفیق حیات اتفاق سے نادرہ اُس وقت موجود تھی تم نے بہت اچھا کیا ریحانہ ۔ کمینہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے نادرہ اب یہ فکر لگی ہے کہ یہ بدکردار عمران سے بدلہ نہ لئے ارے کچھ نہیں ہوگا۔ تم نے اُس او باش صفت شخص کی خوب خبر لی۔
میں ہوتی تو اُس کی زندگی میں زہر گھول دیتی۔ ایسے ہی کمینوں نے معاشرے کو پلید کر کے رکھ دیا ہے۔ تم فکر نہ کرو۔ آگے جو کچھ ہوگا۔ دیکھا جائے گا۔
نادرہ نے ریحانہ کو خوب تسلی دی اور چلی گئی وقت کا پرندہ پرواز کرتا گیا
ایک شام عمران کام سے واپس آیا ۔ اُداس اداس اور چہرے پر مایوسی اور پریشانی کے نقوش لئے مرے مرے انداز میں کمرے میں داخل ہو گے کپڑے تبدیل کرنے کے بجائے سامنے پڑی آرام کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔ کیوں خیرت تو ہے ۔ پریشان سے لگ رہے ہو“ ریحانہ نےتجسانہ انداز میں پوچھا _ کیا بتاؤں ریحانہ ، شیخ عثمان نے برانچ منیجر کے عہدے پر تعینات کرنے کا وعدہ مجھ سے کیا تھا بلکہ میں نے یہ ذمہ داری بڑی حد تک سنبھال ہی لی تھی لیکن آج مجھے اُس عہدے سے محروم کیا گیا۔ سوچتا ہوں مجھ سے کونسی کوتا ہی سرزد ہوئے،،
یہ ذمہ داری اب کس کو سونپ دی گئی ریحانہ نے اضطراب میں غرق ہو کے پوچھا،، ارے وہی تمہاری سہیلی نادرہ کے خاوند امتیاز کو جسے کئی برس پہلے تمہارے کہنے پر میں نے کام پر لگوایا تھا“
یہ سننا تھا کہ ریحانہ کی حالت ابتر ہو چلی ، پاؤں تلے زمین کھسکنے لگی
اُسے لگا جیسے اُس کے وجود کوا ژ دھر ناگوں نے جگہ جگہ کاٹ کھایا ہو اضطرابی کیفیت میں غلطان بالکونی میں جا کر اُس نے نادرہ کو فون کیا
جواب میں نادرہ نے شان بے نیازی سے بتا دیا،،
ریحانہ ڈیر کیا کروں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور خاص کر اپنے شریک
حیات کے تابناک و روشن مستقبل کی تمنا میں مجھے یہ قربانی دینی پڑی،،

تجزیہ نگار:پرویز مانوس

حسن ساہو کا تعلق وادئ گلپوش سے ہے اور اُن کا افسانوی سفر لگ بھگ پچاس برسوں پر محیط ہے، اُ کی اب تک جو افسانوی مجموعے منظر عام پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں اُن میں “پھول کا ماتم، بستی بستی صحرا صحرا، اندھا کنواں، گردشِ دوراں، بیتے دنوں کا کرب اور سنگ ریزے شامل ہیں اس کے علاوہمذہبی اور سماجی پس منظر میں تقریباً دو درجن سے زیادہ کتابچے شائع ہوچکے ہیں _ جن میں کعبہ سے کربلا تک، جنرل ضیا کا قلمی چہرہ، بنائے لا الللہ اور ہمارا فرض، راکب دوشِ محمد، حُسین علیہ السلام صاحبِ بصیرت کی نظر میں، حسین علیہ السلام اور اسلامی ریاست کا تصور، درسِ اخلاقیات، محسنِ اسلام اور ہم، گلدستہ عقیدت، دُعائے حاجات، عظمتِ شبیر، معرکہ حق و باطل ،شیعہ سُنی اتحاد، حدیثِ کساء، جہادِ کربلا اور ہماری ذمہ داریاں اور The Greater Sacrifice شامل ہیں ،، آج ہم اُن کے ایک افسانے “قربانی ” کا تجزیاتی مطالعہ پیش کریں گے
حسن ساہو کا افسانہ “قربانی” ایک معاشرتی المیہ پر روشنی ڈالتا ہے جو طاقت، جبر، اور اخلاقی زوال کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔ افسانے کا مرکزی موضوع نسوانی قربانی اور اس کے پس پردہ پوشیدہ تضادات ہیں، جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ کہانی کا بنیادی محور ریحانہ، نادرہ، اور اُن کے شوہروں کے گرد گھومتا ہے، جو اپنی سماجی حیثیت میں کامیابی اور عزت کے خواب دیکھتے ہیں۔ افسانے میں موجود مسائل زندگی کی تلخ حقیقتوں اور مردانہ معاشرتی رویوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
مرکزی خیال
افسانہ’’قربانی‘‘ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسانی زندگی میں بعض اوقات اپنے مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے قریبی رشتے اور اخلاقی اقدار بھی قربان کر دیے جاتے ہیں۔ کہانی یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح معاشرتی دباؤ، مفاد پرستی، اور لالچ کی وجہ سے انسان خودغرض ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کے رویے میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو اس کے بنیادی تعلقات اور اخلاقی معیاروں کو مجروح کر دیتی ہیں۔
ریحانہ کے کردار میں عزتِ نفس، وفاداری، اور ثابت قدمی نمایاں ہیں، جو اپنے شوہر اور اپنی عزت کی حفاظت کے لیے عثمان جیسے بدکردار شخص کو سخت جواب دیتی ہے۔ لیکن نادرہ کی طرف سے اپنے شوہر کے روشن مستقبل کی خاطر عثمان کی خواہشات کی تکمیل کے لیے تیار ہو جانا اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے مفادات کی خاطر رشتوں اور اخلاقی اقدار کو قربان کر سکتے ہیں۔
یوں، افسانہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح انسان کبھی کبھار اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسرے کے اعتماد، عزت، اور دوستی کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اس کہانی کے ذریعے حسن ساہو نے قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ حقیقی قربانی وہ ہے جو دوسروں کی بھلائی اور اصولوں کے تحت دی جائے، نہ کہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے کہانی کا آغاز دو بچپن کی دوستوں، ریحانہ اور نادرہ، کی زندگی کے خوشگوار اور تلخ واقعات سے ہوتا ہے۔ یہ دونوں بچپن میں ایک ساتھ رہتی ہیں، مگر شادی کے بعد زندگی کے مختلف موڑ پر آ جاتی ہیں۔ ریحانہ کی شادی عمران سے ہوتی ہے، جو ایک کاروباری شخص شیخ محبوب بیگ کے ہاں ملازمت کرتا ہے، اور اُسے ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف نادرہ اپنے شوہر امتیاز کو بھی اسی کاروبار میں داخل کرواتی ہے۔
افسانے میں شیخ عثمان، جو کہ ایک ظالم اور بے اصول انسان ہے، عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے ارادے رکھتا ہے۔ عثمان کا کردار ایک ایسے جابر شخص کا ہے جو خواتین کو اپنی جنسی خواہشات کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے اور طاقت کے نشے میں مست ہے۔
انداز و اسلُوب
افسانہ “قربانی” کا انداز و اسلوب سادہ، رواں اور دلکش ہے۔ حسن ساہو نے کہانی کو ایک ایسے انداز میں بیان کیا ہے جس میں منظر نگاری اور مکالموں کی خوبصورتی قاری کو کہانی میں ڈوبنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ افسانے کی زبان سلیس اور مؤثر ہے، جس میں الفاظ کا چناؤ موضوع کے مطابق ہے۔ ساہو نے کرداروں کے جذبات اور ماحول کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جس سے قاری کو کہانی کے مناظر اور کرداروں کی کیفیت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔
کہانی میں مکالمے مختصر اور جامع ہیں، جو کرداروں کی سوچ، ان کی نیت اور ان کے اندرونی تضاد کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔ ریحانہ اور نادرہ کے درمیان ہونے والی بات چیت، عثمان کے جملے اور ریحانہ کے ردعمل کو اس قدر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری کو کرداروں کے احساسات اور اُن کی ذہنی کشمکش کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ مصنف نے داستان کو سادہ بیانیہ میں پیش کیا ہے، مگر ساتھ ہی تہذیبی اور اخلاقی تضاد کو نمایاں کرنے کے لیے علامتی اور استعارتی انداز بھی اپنایا ہے۔ افسانے کے مکالمات اور منظرکشی قاری کو کہانی میں گہرائی سے جڑنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ کہانی کا اختتام ایک تلخ حقیقت کی صورت میں قاری کے ذہن پر اثر چھوڑتا ہے۔ حسن ساہو کا اسلوب اس افسانے میں سادہ اور حقیقت پسندانہ ہونے کے ساتھ ساتھ جذباتی بھی ہے، جو کہانی کے موضوع کو مزید مؤثر بناتا ہے۔ اس طرح، “قربانی” کا انداز و اسلوب قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑنے میں کامیاب رہتا ہے۔
نسوانی قربانی اور دوستی کا امتحان
ریحانہ اور نادرہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی آزمائش تب شروع ہوتی ہے جب عثمان ریحانہ کو اپنے منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے، مگر ریحانہ کی غیرت اس پر غلبہ پاتی ہے، اور وہ عثمان کی ناپاک پیشکش کو ٹھکرا دیتی ہے۔ ریحانہ کا ردعمل اُس کی وفاداری اور خوداری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس نادرہ نے اپنے شوہر امتیاز کی ترقی کے لیے عثمان کی مذموم خواہشات کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے وہ اپنی دوست اور اپنے ضمیر دونوں کو دھوکہ دیتی ہے۔
یہاں پر نادرہ کی جانب سے “قربانی” دینا، دراصل اُسی معاشرتی جبر کی علامت ہے، جس میں عورتوں کو اپنی مرضی اور خوداری کو ترک کرنا پڑتا ہے تاکہ اُن کے شوہر معاشرتی مقام حاصل کرسکیں۔ نادرہ کا یہ عمل اُس کی مجبوری اور معاشرتی دباؤ کو اجاگر کرتا ہے۔
اخلاقی تضادات اور جبر کی نشاندہی
افسانے میں “قربانی” کی اصل حقیقت اُس وقت سامنے آتی ہے جب ریحانہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی بہترین دوست نے اپنے شوہر کے بہتر مستقبل کی خاطر اپنی خودی کا سودا کیا۔ یہ انکشاف ریحانہ کے لئے نہایت دل سوز اور ناقابل برداشت ثابت ہوتا ہے، جو کہانی کے اختتام کو ایک بھرپور دھچکے کے ساتھ مکمل کرتا ہے۔ ریحانہ اور نادرہ کے کرداروں میں موجود تضاد انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کو بیان کرتا ہے۔ ایک طرف ریحانہ ہے، جو اپنے شوہر کی عزت اور وفاداری کو قربانی کی بنیاد سمجھتی ہے، تو دوسری طرف نادرہ ہے، جس نے اپنے شوہر کی ترقی کے لئے اپنی خوداری اور دوست کے اعتماد کو قربان کر دیا۔
پیغام اور اخلاقی نقطہ نظر
حسن ساہو کے اس افسانے میں معاشرتی اور اخلاقی تضادات پر گہری نظر ڈالی گئی ہے۔ افسانہ قاری کو اس بات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ معاشرتی دباؤ اور مالیاتی جبر کیسے انسان کی خوداری اور رشتوں کو تباہ کر سکتا ہے۔ یہاں قربانی کی اصطلاح کو انتہائی منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں انسان اپنے وقار اور عزت نفس کو ترک کر کے دوسرے لوگوں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنی زندگی کا سودا کر بیٹھتا ہے۔
سماجی پہلو
حسن ساہو کا افسانہ “قربانی” ایک مضبوط سماجی پہلو پیش کرتا ہے، جو ہمارے معاشرتی اقدار، طبقاتی فرق، اور صنفی رویوں پر گہرا تبصرہ ہے۔ اس کہانی میں نادرہ اور ریحانہ کی دوستی اور ان کی زندگیوں میں آنے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح سماج میں عورتوں کی زندگی کے فیصلے اکثر ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتے بلکہ ان پر مردانہ تسلط قائم ہوتا ہے۔
طبقاتی فرق اور اختیارات کا استحصال
افسانے میں شیخ عثمان جیسے کردار کی موجودگی معاشرت میں طاقت ور افراد کے استحصال اور غریب و متوسط طبقے کی مجبوریوں کو عیاں کرتی ہے۔ عثمان کا کردار ایک ایسے سرمایہ دار کا ہے جس کے پاس دولت اور اختیار ہے اور جو اپنی حیثیت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کی کوشش ریحانہ کو بہکانے کی ہے اور جب وہ اس کے عزائم کو مسترد کرتی ہے تو وہ بدلہ لینے کے لیے عمران کی ترقی روک دیتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح معاشرت میں کمزور طبقے کو ظلم و زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور طاقت ور افراد کی استحصالی سوچ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
دوستوں میں رقابت اور خود غرضی
نادرہ کا کردار اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بعض اوقات معاشرت میں انسان دوستوں کے تعلق کو خود غرضانہ مقاصد کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ نادرہ ریحانہ کی سچی دوستی اور قربت کے باوجود اپنے شوہر امتیاز کی کامیابی کے لیے ریحانہ کے شوہر عمران کی ترقی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یہ رویہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح معاشرت میں مفادات کی جنگ، انسانیت اور رشتوں کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔
عورت کے جذبات اور اُس کی مجبوری
افسانے میں ریحانہ کے کردار کو ایک ایسی عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنے شوہر اور گھر کی عزت کی خاطر عثمان کی بد کرداری کو برداشت کرتی ہے اور حتی الامکان کوشش کرتی ہے کہ اُس کی عزت محفوظ رہے۔ دوسری جانب نادرہ اپنے شوہر کی خاطر اپنی قربانی دیتی ہے، مگر اس سے یہ بات بھی اجاگر ہوتی ہے کہ بعض اوقات عورتوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اخلاقی اقدار کا زوال:
اس کہانی میں اخلاقی اقدار کا زوال نمایاں ہے۔ عثمان کی بدکرداری اور نادرہ کی خود غرضی اس معاشرت میں اخلاقی معیار کی کمی کو عیاں کرتی ہے۔ کہانی کا عنوان “قربانی” جہاں ایک طرف ریحانہ کی قربانی کو ظاہر کرتا ہے جو اس نے اپنی وفاداری اور عزت کو بچانے کے لیے دی، وہیں نادرہ کی قربانی کو بھی ظاہر کرتا ہے جو اس نے اپنے شوہر کی خوشنودی کے لیے اپنی دوست کی دوستی کو داؤ پر لگا کر دی۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کس طرح اخلاقی اقدار کمزور ہو چکے ہیں اور خود غرضی اور مادی مفادات معاشرتی رویوں پر حاوی ہو چکے ہیں۔
افسانہ “قربانی” ایک عام پہاڑی گاؤں کی کہانی میں چھپے عمیق سماجی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کس طرح خودغرضی، طبقاتی فرق اور عورت کے استحصال جیسے موضوعات ہمارے معاشرت میں موجود ہیں اور اس کی تہہ میں پنہاں انسانی قدروں کے زوال کو عیاں کرتے ہیں۔
مجموعی تاثر
حسن ساہو کے افسانے “قربانی” کا مجموعی تاثر ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جہاں رشتوں کی اہمیت، انسانی جذبات، اور اخلاقی اقدار مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کہانی کے مرکزی کردار ریحانہ اور نادرہ، جو بچپن کی سہیلیاں ہیں، زندگی کے مختلف موڑ پر ایسے حالات کا سامنا کرتی ہیں جہاں دوستی، وفاداری، اور انسانی عزت و وقار کو مشکل امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔
کہانی کا ابتدائی حصہ ایک خوبصورت پہاڑی گاؤں کی زندگی اور دونوں دوستوں کے درمیان محبت بھرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، ہمیں سماج کے اندھیرے پہلو اور انسانی کمزوریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ عثمان کے کردار میں طاقت، پیسہ، اور اثر و رسوخ کا زہر بھرپور طور پر نظر آتا ہے، جو کمزور طبقات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دوسری طرف نادرہ کی خود غرضی بھی اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ انسان کبھی کبھار اپنے ذاتی مفادات کے لیے قریب ترین تعلقات کو بھی قربان کر سکتا ہے۔
ریحانہ کی وفاداری اور اپنی عزت کے لیے جدوجہد اس کہانی کو ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہے، مگر اختتامیہ میں نادرہ کا رویہ اور اس کی خود غرضانہ قربانی کہانی میں مایوسی کا تاثر چھوڑتے ہیں۔ کہانی کا نام “قربانی” درحقیقت انسان کی اس دوہری شخصیت کی جانب اشارہ ہے جہاں قربانی بھی اپنے اپنے مفاد اور نقطہ نظر کے تحت دی جاتی ہے۔
مجموعی طور پر، یہ افسانہ قاری کے ذہن پر ایک گہرا تاثر چھوڑتا ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سماج میں اخلاقی اقدار اور رشتوں کی اصل حیثیت کیا ہے اور کس حد تک ہم ان اقدار کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔ اس کہانی کے ذریعے حسن ساہو نے ایک اہم پیغام دیا ہے کہ انسانی تعلقات کو خود غرضی، طاقت اور مفادات کی جنگ میں تباہ نہ ہونے دیا جائے۔

آزاد بستی ویسٹ نٹی پورہ سرینگر 9419463487