مولانا حسن عباس فطرت
غالبؔ نے بہادر شاہ ظفر سے کہا تھا۔
میری تنخواہ میں تہائی کا ہوگیا ہے شریک ساہو کار
مگر ہمارے حسن ساہوؔ اس قسم کے ساہو نہیں ہیں البتہ دوستوں کے غم والم کو بانٹنے اور اپنے دُکھ درد کو چھپانے میں وہ کسی ساہوکار یا مہاجن سے کم نہیں۔
میانہ قد، کتابی چہرہ، بہت باریک داڑی، مضبوط جبڑہ، کھلی کھلی اور ذہین آنکھیں ،اکہرا بدن،راست قامت ہشاش بشاش، چست ومستعد، تیز قدم،نوک پلک سے درست، ہنستے مسکراتے ہوئے کشمیری ٹوپی اوڑھے کوٹ پتلون میں ملبوس حسن ساہوؔ کو میں نے پہلے کہاں دیکھا؟یاد نہیں مگر جب بھی دیکھا ہو پہلی ہی ملاقات میں ہم نے بے تکلفی،خلوص ودل باخنگی کی تمام حدود کو پار کرلیا یہ ان کی شخصیت کا معمولی کرشمہ تھا۔
حسن ساہو خاص طور سے ہماری انجمن وظیفہ سادات کے لئے کشمیری گلاب کی حیثیت رکھتے ہیں ہم میں کاہر شخص انہیں گلے لگانا اور انکی خوشبو بٹورلینا چاہتا ہے اور وہ خود بھی سب سے دوڑ دوڑ کر ٹوٹ کر ملتے ہیں اور شاید وہ ہی غرض لے کر کشمیر کا دوردراز وصعوبت آزماسفر ہنسی خوشی طے کر کے انجمن کے جلسوں میں چلے آتے ہیں درحقیقت وہ اپنے علاقہ میں انجمن کے وجود وبقاکے حوالے سے ایک فرد نہیں پوری قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ایک لمبی مدت تک فعال وسرگرم ممبر رہنے کے بعد انجمن کو ارشد جعفری جیسا مستعد وخوش اخلاق کا رکن یاد ہے اس کے ساتھ خود بھی انجمن کی ترقی وبہبود کی فکر میں لگے رہتے ہیں چپ نہیں بیٹھے۔
وہ ایک سچے اور اچھے انسان ہیں اور سچائی کے طلب گار۔مخلق ودردمند اور محبت کے پجاری، سیدھے سادھے سیاست کے دائوں پیچ سے دور وبیزار۔انجمن کے فعال ممبروں میں ایک تھے مگر اب پہلے سے حالات نہیں رہے۔پے درپے کئی حادثات ووقوعوں نے ان کے اندر سے توڑ دیا ہے مگر نہ ان کی باغ وبہار شخصیت اس سے متاثر ہوئی نہ قلم میں ضعف وسستی آئی نہ معمولی زندگی میں پھیر بدل۔برے حالات کے باوجود کبھی کبھی انجمن کے سالانہ جلسوں کی رونق بڑھانے کے لئے آہی جاتے ہیں۔ دہلی کے صد سالہ جشن میں حسن اتفاق سے ہم دونوں ایک ہی جگہ ٹھہرائے گئے تھے۔میری طبیعت خراب تھی مگر ان کی صحبت وچٹخاری باتوں سے بہت کچھ سنبھل گئی۔ باتیں ہی باتیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لتی تھیں۔ہم ان کو ایک دن کے لئے جامعہ اہلبیت ؑ لے گئے مولانا محمدعسکری سے ملایا وہ بہت خوش ہوئے پھر وہیںپر ان کو لینے کیلئے مستحسن فاروقی (آستانہ والے) کی بیٹی چشمہ وداماد آگئے جو فعلاً خاتون مشرق کی ایڈیٹر ہیں۔ ہم ان کے ساتھ مشہور ادیب پروفیسر ساحل احمد کے یہاں گئے۔ وہاں بہت گرم استقبال ہوا اور بہت سی کتابیں بھی ملیں۔
حسن ساہوؔ ایک مستند مشہور اہل قلم ہیں مگر ایک فنے نہیں وہ نظم ونثر دونوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں یہ قدرت کا انعام ہے ان کو۔ان کے افسانوں کے دو مجموعے’’اندھاکنواں‘ اور ’گردش دوراں‘ شائع ہوچکے ہیں جسے اہل فن ونظرنے کافی سراہا ہے۔ ان افسانوں کا موضوع ہماری روز مرّہ زندگی کے واقعات ہیں جن میں وہ حقیقت نگاری سے کام لیتے ہیں ان کا سماجی شعور بھی ان افسانوں میں جھلکتا ہے۔ ’الحسنات‘ سری نگر کے علاوہ بھی کئی اخبارات سے ان کا مستقل تعلق رہا ہے۔ مشہور وموقر دینی ماہنامہ ’اصلاح‘لکھنؤ میں ان کے علمی، تاریخی ومعلوماتی مضامین پر پابندی سے شائع ہوئے ہیں بلکہ ایک طرح سے وہ’اصلاح‘ کے مخصوص قلمی معاونین میں ہیں۔ انجمن وظیفہ سادات کاآرگن ’’وظیفہ‘‘بھی ان کے افادات سے مستفیض ہوتا رہتا ہے وہ ایک محقق ومورخ بھی ہیں انہوں نے خود بھی شعر کہے اور کہتے ہیں اور منظوم ترجمے بھی کئے ان کی بہترین نظموں میں سے ایک ان کی مرحومہ اہلیہ کا شخصی مرثیہ ہے جو حسن بیان ولطف زبان کی صفت سے مالا مال ہونے باوصف رنج والم سے معمور و درودوتاثیر سے پُر ہے۔
حسن ساہوؔ کی سسرال واہلیہ کی قبر جبلپور میں ہے وہ اب بھی وہاں جاتے ہیں اور پرانی یادوں کو سمیت لاتے ہیں ملازمت سے سبکدوش ورفیقہ حیات کی جُدائی کے بعد بھی نہ اُن کی فکر کو زنگ لگا ہے نہ قلم کند ہوا ہے بلکہ وہ حسب معمول رواں رہتا ہے درآل وہ ذمہ دار وسچے صحافی کی روح کے حامل ہیں اس لئے ان کے قلم کو نچلا بیٹھنا آتا ہی نہیں۔ صحافی جس کا دماغ دیوز ادکا اور دل میں سارے جہاں کا درد بسارہتا ہے حالات حاضرہ خصوصاً کشمیر کے احوال وکوائف اور بے چینی پر انہوں نے اتنا کچھ لکھا ہے جس سے ایک ضخیم کتاب مرتب ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں ایک حقیقت یہ بھی ہے کربلا وسید الشہداء امام حسینؑ ان کے محبوب وپسندیدہ موضوع ہیں وہ ہر ماہ محرم میں ایک نئے زاویہ نظر سے کربلا وپیغام حسینی پر لکھتے ہیں’اصلاح‘ کے محرم نمبر میں اکثر ان کا مقالہ شریک ہوتا ہے مختلف مذہبی موضوعات پر ان کا قلم دادسخن دیتا رہتا ہے۔ لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ پڑھنے ومطالعہ کے بھی بیحد شوقین ہیں یہ دونوں صفتیں ایک ہی انسان میں کم پائی جاتی ہیں حسن ساہو ہر تحریر کو ذوق وشوق سے پڑھتے اور اس پر اظہار رائے بھی کرتے رہتے ہیں۔
بحیثیت مسلمان حسن ساہو ایک خوش عقیدہ پابند صوم وصلوٰۃ، قاری قرآن، محب وطن وقوم، معاملات کے درست وکھرے انسان ہیں میری خوش بختی ہے کہ وہ مجھ پر مہربان بھی ہیں اور میرے قدر دان بھی ان جیسی گل وگلزار شخصیت کی دوستی ومحبت میرے لئے باعث فخر بھی ہے اور بیش قیمت سرمایہ حیات بھی۔
چلتے چلتے ان کی تحریرکا بھی کچھ ذکر ہوجائے۔ چھوٹے چھوٹے جملے آسان زبان ان کا اختصاص ہے البتہ ان کی ایک ترکیب’دم سکت‘ میرے لئے نئی ہے اس سے زیادہ دلچسپ ان کی لکھاوٹ (ہینڈرائٹنگ) جو دور سے چیونٹی کے انڈوں جیسی اور نزدیک سے چینی‘ جاپانی کی سوتیلی بہن لگتی ہے مگر گہری نظر سے دیکھو تو اس میں حسن ساہو کی شخصیت کا عکس وسایہ نظر آتا ہے جو کسی بھی تحریر کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
کہہ چکا ہوں کہ حسن ساہو دردمنددل کے مالک ہیں اس لئے ہر موقع پر قوم کی اصلاح کے خواہشمند رہتے ہیں قوم کے نوجوانوں کو ترقی وراست روی کا پیغام دیتے رہنا ان کا وظیفہ ہے وہ خود عمل پہیم وجدوجہد کے قائل ہیں اس لئے اس کی تخم ریزی سے باز نہیں آسکتے خدا کرے ان کے خلوص نیت کی نمی اس پودے کو چھتنا ردرخت میں تبدیل کردے اور وہ اس کے سایہ میں کچھ دن گذارسکیں۔
حسن ساہو جب بھی ملتے ہیں کشمیر کی خوبانی ز،شال،ٹوپی، اخروٹ کی لکڑی کی چھڑی جیسے تحفوں سے نوازتے رہتے ہیں ان کی بخشی ہوئی چھڑی تو ان دنوں میں ضعیفی کا سہارا بنی ہوئی ہے کہیں بھی اسے ساتھ لئے بغیر جانہیں سکتا۔ خداوند قدوس سے دُعا ہے کہ اس کے بدلے میں وہ حسن ساہو کو بل صراط سے بے جھجک وتیز قدموں سے گزارے ۔آمین۔










