جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا

حد بندی کمیشن کی درخواست پرحکومت جموں وکشمیرکی فوری عملی کارروائی

سبھی 20اضلاع میں نوڈل آفیسرز نامزد

سری نگر//جموں وکشمیر حکومت نے حدبندی کمیشن کو بروقت معلومات فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر نوڈل آفیسرز کو نامزد کیا ہے ۔کشمیرنیوز سروس کومعلوم ہواکہ حدبندی کمیشن نے حکومت سے تمام اضلاع میں ایسے نوڈل افسرنامزد کرنے کوکہاتھاکہ جو کمیشن کوضروری معلومات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ آنے والے دوروں کے دوران ضروری تعاون دے سکیں ۔اسی بناء پرجموں وکشمیرکے تمام 20اضلاع میں ایک ایک افسر کو نامزد کیا گیا ہے اور ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ معلومات فراہم کرنے کے علاوہ حدبندی کمیشن سے ملاقات کے خواہشمندمتعلقین سے نمائندگیاں وصول کریں ۔سرکاری حکمنامے میں نامزدنوڈل افسروں کویہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ آئینی ادارے یعنی حدبندی کمیشن کے ذریعہ تفویض کردہ کوئی دوسرا کام بھی انجام دیں۔خیال رہے جمعہ کو ، جسٹس (ر) رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں حدبندی کمیشن نے جموں و کشمیر کااپنا4 روزہ دورہ مکمل کیا۔کمیشن کویہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ جموںوکشمیرمیں انتخابی حلقوں کاجائزہ لیکر نئی حدبندی سے متعلق سفارشات پیش کرے ۔سابق جموں وکشمیرکی آخری حکمران جماعت پیپلز پارٹی ڈیموکریٹک پارٹی اور عوامی نیشنل کانفرنس کے بغیرباقی سبھی علاقائی اورقومی سطح کی جماعتوںکے لیڈروں اورنمائندوںنے حدبندی کمیشن کیساتھ ملاقاتیں کیں اوراپنی رائے ظاہر کرنے کیساتھ ساتھ میمورنڈم بھی کمیشن کوپیش کئے ۔کمیشن ھٰذاکی خاتوں ربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حدبندی کی مشق شفاف ہوگی اور قانون میں طے شدہ عمل پر عمل پیرا ہونے کے بعد یہ مکمل ہوجائے گی۔رنجنا پرکاش ڈیسائی نے نئی دہلی روانہ ہونے سے پہلے جمعہ کے روز جموں میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہاکہ ہم نے وفود سے تجاویز حاصل کی ہیں ،جن کوزیرغورلایاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی حلقوںکی سرنو حدبندی کرنا کوئی علم ریاضی والا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ مشق یامسئلہ ہے ۔رنجنا پرکاش نے حدبندی کے عمل کوشفاف رکھنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے واضح کیاکہ یہ ہماراپہلا دورہ تھا ،آخری نہیں ،کیونکہ ہم دوبارہ یہاں آئیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں بہت سے لوگوں سے بات چیت کرنے کیلئے دوبارہ آنا ہوگا۔