حد بندی کمیشن کا ‘مشن جموں و کشمیر‘ شروع

سری نگر//وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقد ہونے والی آل پارٹی میٹنگ کے قریب دو ہفتے بعد حد بندی کمیشن منگل کو کمیشن کی سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) رنجانا پرکاش ڈیسائی کی قیادت میں سری نگر پہنچ گیا۔جموں و کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے لئے تشکیل دیے جانے والے اس کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا سشیل چندر اور جموں و کشمیر کے سٹیٹ الیکٹورل افسر کے کے شرما بھی شامل ہیں۔حد بندی کمیشن جموں و کشمیر کے اپنے چار روزہ دورے کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود کے علاوہ یونین ٹریٹری کے سبھی بیس اضلاع کے الیکشن افسروں سے بھی ملاقات کرے گا۔جسٹس (ریٹائرڈ) رنجانا ڈیسائی کی سربراہی میں حد بندی کمیشن نے منگل کو یہاں للت ہوٹل میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔تاہم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے کمیشن کی سربراہ کے نام ایک مفصل مکتوب جاری کر کے حد بندی عمل میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔حد بندی کمیشن سے ملاقات کرنے والے نیشنل کانفرنس کے پانچ رکنی وفد کی قیادت پارٹی کے سینیئر لیڈر عبدالرحیم راتھر کر رہے ہیں۔کمیشن سے ملاقات کے بعد نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر کشمیر ناصر اسلم وانی سوگامی نے نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ہم نے ان سے کہا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 غیر آئینی ہے۔ ہم اس کے خلاف سپریم کورٹ جا چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک کمیشن کو اپنی کارروائی معطل کرنی چاہیے تھی۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘اب اگر یہ کارروائی شروع کی گئی ہے تو یہ شفاف طریقے سے انجام دی جانی چاہیے۔ ہم نے ان سے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا نئی دہلی کے اداروں پر سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ کمیشن کے کام سے لوگوں کو پھر سے دھوکہ نہیں لگنا چاہیے۔نیشنل کانفرنس کے وفد میں عبدالرحیم راتھر اور ناصر سوگامی کے علاوہ تین دیگر سینیئر لیڈران بشمول محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد اور سکینہ ایتو شامل تھیں۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے پارٹی لیڈران کے ہمراہ حد بندی کمیشن سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم نے کمیشن کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے کمیشن کو بتایا کہ یہ حد بندی جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کی دین ہے ورنہ پارلیمان کا فیصلہ ہے کہ پورے ملک میں 2026 تک کوئی حد بندی نہیں ہوگی۔انہوں نے بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ ایک ملک میں صرف ایک ودھان اور ایک پردھان چلے گا تو کیا آپ نے یہاں الگ سے حد بندی کرا کے اس کی خلاف ورزی نہیں کی ہے؟۔میر نے کہا کہ ہم نے کمیشن سے کہا کہ خصوصی آئینی اور ریاستی درجے کی بحالی تک اس جیسا کوئی بھی عمل جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے کمیشن کے سامنے اپنا میمورنڈم پیش کیا۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ نشستیں آبادی اور علاقے کے حساب سے ہونی چاہئیں۔ ہم نے کمیشن سے کہا کہ وہ رپورٹ فائل کرنے سے پہلے اس کی کاپی سیاسی جماعتوں کو فراہم کریں تاکہ ہم اپنی آرا پیش کر سکیں۔سی پی آئی (ایم) کے سکریٹری غلام نبی ملک نے کہا کہ پارٹی کے پانچ رکنی وفد کی کمیشن سے ملاقات انتہائی دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں ہوئی۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے ان کو بتایا کہ باہر باتیں ہو رہی ہیں کہ سب کچھ چھینا جائے گا۔ ہم نے ان کو بتایا کہ آپ کی رپورٹ سے نفرت نہیں بلکہ لوگوں میں اتحاد پیدا ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا کہ حد بندی کے فوراً بعد جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے کمیشن سے یہ بھی کہا کہ پانچ اگست 2019 کے فیصلے غیر آئینی اور غیر جمہوری تھے۔ حالاں کہ انہوں نے اس پر بتایا کہ ہمارا اس کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔بی جے پی کشمیر یونٹ کے سینیئر لیڈر صوفی یوسف، جو اپنی پارٹی کے وفد کی قیادت کر رہے تھے، نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم نے کمیشن سے کہا کہ ماضی میں ہونے والی حد بندی کے دوران کچھ علاقوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جس کو آج درست کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں گجروں کی آبادی بارہ سے تیرہ لاکھ ہے جن کو نمائندگی ملنی چاہیے۔ ہمارا واضح مطالبہ تھا کہ آٹھ تا دس نشستیں ایس ٹیز کے لئے مختص رکھی جائیں۔بتا دیں کہ حد بندی کمیشن ضلع اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور شوپیاں کے ضلع الیکشن افسروں کے ساتھ 7 جولائی کو بارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک پہلگام کلب، پہلگام میں ملاقات کرے گا جبکہ اسی روز شام کے چار سے ساڑھے پانچ بجے تک ضلع سری نگر، گاندربل، بڈگام اور بانڈی پورہ کے ضلع الیکشن افسروں کے ساتھ ملاقات کرے گا۔صوبہ جموں میں یہ کمیشن ضلع کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن کے ضلع الیکشن افسروں سے 8 جولائی کو صبح گیارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہاؤس کشتواڑ میں ملے گا جبکہ ضلع جموں، سانبہ، کٹھوعہ، اودھم پور، ریاسی، راجوری اور پونچھ کے ضلع الیکشن افسروں کے ساتھ 9 جولائی کو صبح کے گیارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک ریڈیسن بلو جموں میں ملاقات کرے گا۔حد بندی کمیشن کا قیام مارچ 2020 میں کیا گیا تھا اور مارچ 2021 میں عالمی وبا کے تناظر میں اس کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔ کمیشن کو امید ہے کہ تمام فریق اس عمل میں تعاون کریں گے اور گراں قدر مشوروں سے آگاہ کرائیں گے تاکہ از سر نو حد بندی کا کام بروقت مکمل کیا جا سکے۔