جولائی یااگست میں اسمبلی انتخابات کیلئے نوٹیفکیشن جاری ہونے کاامکان.
سری نگر//6مارچ2020کوتشکیل دئیے گئے جموں وکشمیر حدبندی کمیشن کی معیاد کار2مرتبہ توسیع دئیے جانے کے بعداگلے ماہ یعنی مئی کی 6تاریخ کومکمل ہوگی ۔بائور کیا جاتاہے کہ مذکورہ کمیشن رواں ماہ کے آخریا اگلے مہینے کے اوائل میں مرکزی حکومت کوجموں وکشمیر کے90اسمبلی حلقوں اور5پارلیمانی نشستوں سے متعلق اپنی سفارشات پرمبنی حتمی رپورٹ پیش کرسکتا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہ جموں وکشمیر حدبندی کمیشن کی جانب سے اپنی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد، مرکز ی حکومت جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کر سکتی ہے ۔رپورٹس میں یہ بھی کہا کہاگیاہے کہ مرکز سیکورٹی صورتحال سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا کیساتھ مشاورت کے بعداسمبلی انتخابات کے حوالے سے حتمی فیصلہ لے گی ۔حدبندی کمیشن کی مکمل رپورٹ ملنے کے بعدمرکزی حکومت کی جانب سے ڈرافٹ رول شائع کیا جائے گا، جس کے بعدجموں وکشمیر میں ووٹر لسٹ کی تصدیق کی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے میڈیارپورٹس میں بتایاگیاہے کہ مرکز ی حکومت جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کافیصلہ لینے سے پہلے کل جماعتی میٹنگ کے دوران اس معاملے پر بات کرے گی۔سرکاری ذرائع نے بتایاکہ رپورٹ وزارت قانون و انصاف کو پیش کی جائے گی کیونکہ انہوں نے کمیشن کو مطلع کیا تھا۔ اور اس کے بعد انتخابی فہرستوں پر نظرثانی الیکشن کمیشن کی طرف سے کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق اگلے تین چار ماہ کے بعد ڈرافٹ رولز شائع کر دئیے جائیں گے اور گھر گھر جا کر تصدیق کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سارے عمل کے بعد ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایک آل پارٹی میٹنگ بلا کر ان کی رائے لے سکتی ہے۔خیال رہے جموں وکشمیر حدبندی کمیشن نے جموں خطہ میں 6 نئے اسمبلی حلقوں کی تجویز پیش کی ہے جو ادھم پور، راجوری، ڈوڈہ، کٹھوعہ، سانبہ اور کشتواڑ اضلاع سے بنائے جائیں گے۔ اس سے جموں خطہ میں اسمبلی سیٹوں کی تعداد 37 سے بڑھ کر43 ہو جائے گی۔اسی طرح، وادی کشمیر میں ایک نئی نشست تجویز کی گئی ہے، جو موجودہ ضلع کپواڑہ سے الگ کی جائے گی، اس طرح کشمیر کے علاقے میں اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 46 سے بڑھ کر 47 ہو جائیں گی۔ مذکورہ کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کی سابق جسٹس رنجنا دیسائی کر رہی ہیں، اور اس میں چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا اور ریاستی الیکشن کمشنر کے کے شامل ہیں۔ریٹائرڈ جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں اور چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا اور ریاستی الیکشن کمشنر کے کے شرما پر مشتمل، کمیشن کا قیام 6 مارچ 2020 کو ایک سال کی مدت کے ساتھ عمل میں لایاگیا تھا جس میں کوروناصورتحال کے پیش نظر ایک سال کی توسیع کی گئی تھی جبکہ مدت 6 مارچ 2022 کو ختم ہونے والی تھی،تاہم اس میں 2ماہ یعنی6مئی 2022تک کی توسیع کی گئی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حدبندی کمیشن نے اپنے پانچ ایسوسی ایٹ ممبران یعنی جموں وکشمیر کے 5ممبران پارلیمان کے ساتھ کم سے کم دومیٹنگیں کیں ،جن میں سے پہلی میٹنگ کانیشنل کانفرنس کے تین ارکان پارلیمان جوایسوسی ایٹ ممبر ہیں ،بائیکاٹ کیا تھا۔کمیشن کی جانب سے پہلی اورعبوری رپورٹ کے بعدجزوی رپورٹ بھی سامنے لائی ،لیکن نیشنل کانفرنس سمیت بیشتر سیاسی جماعتوںنے اس کوماننے سے انکارکیااوربھاجپا نے بھی کچھ باتوں پراعتراض جتایا۔سبھی سیاسی جماعتوں بشمول ایسوسی ایٹ ممبران نے اپنے اعتراضات کمیشن کوتحریر ی طورپر پیش کئے ۔سیاسی تجزیہ نگاروںکامانناہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعدمرکزی سرکار اسکا جائزہ لے گی ۔ڈرافٹ رولز کے بعدانتخابی فہرستوں پر الیکشن کمیشن آف انڈیاکی جانب سے نظرثانی کی جائے گی ۔اوراس سارے عمل میں کم سے کم 2ماہ درکار ہونگے ۔تجزیہ نگارکہتے ہیں کہ اگر مرکزی سرکار کوجموں وکشمیر کی سیکورٹی صورتحال اوردیگرجڑے پہلوئوں پر اطمینان ہو ا،تو مرکزی حکومت الیکشن کمیشن کوہری جھنڈی دکھائے گی ،اورپھر الیکشن کمیشن اپنے طورپر بھی مجموعی صورتحال اورتیاریوںکااحاطہ کرے گا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہناہے کہ اگر سبھی حلقوںکی جانب سے مثبت ردعمل اوررائے سامنے آئی توعین ممکن ہے کہ جولائی یااگست کے مہینے میں جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کی جائیگی ۔










