سری نگر//گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں وزیراعظم مودی کی زیرصدارت کل جماعتی میٹنگ کے بعداب ایک اوراہم اقدام کے بطورحدبندی کمیشن کی سہ رُکنی ٹیم چیف الیکشن کمیشنرسشیل چندرا کے ہمراہ جموں وکشمیرکا 4 روزہ دورہ کرے گی ۔6جولائی سے 9جولائی تک یہاں قیام کے دوران حدبندی کمیشن کی خاتون سربراہ ریٹائرڈجسٹس رنجنا ڈیسائی ،کمیشن کے دیگردوممبران اور چیف الیکشن کمیشنرسشیل چندرا کے ہمراہ سری نگراورجموں سمیت کئی علاقوں کادورہ کرکے وہاں تمام متعلقین بشمول سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں ،یوٹی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اورعوامی نمائندوں بشمول ڈی ڈی سی اراکین کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں اورتبادلہ خیال کریں گی ۔خیال رہے 24جون کونئی دہلی میں منعقدہ کل جماعتی اجلاس کے بعدوزیراعظم نریندرمودی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھاتھا’’ہماری ترجیح جموں وکشمیر میں نچلی سطح پر جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے۔ حد بندی کے عمل کو تیز رفتار سے ہونا ہے تاکہ انتخابات ہوسکیں اور جموں وکشمیرکوایک منتخب حکومت ملی جو وہاں ترقی کے راستے کو تقویت بخشے۔کشمیر نیوزسروس کے مطابق 6جولائی کوتین رکنی حدبندی کمیشن اور چیف الیکشن کمیشنرسشیل چندرا 4روزہ دورے پر جموں وکشمیر پہنچیں گے ۔میڈیا رپورٹس میں بتایاگیاہے کہ حدبندی کے عمل اوراسمبلی انتخابات کے امکانات کاجائزہ لینے کیلئے آرہے اس اعلیٰ سطحی وفد میں شامل اراکین 9جولائی تک جموں وکشمیرمیں ہی قیام کریں گے ۔یہاں اپنے قیام کے دوران حدبندی کمیشن کی خاتون سربراہ ریٹائرڈجسٹس رنجنا ڈیسائی ،کمیشن کے دیگردوممبران اور چیف الیکشن کمیشنرسشیل چندرا کے ہمراہ سری نگراورجموں سمیت کئی علاقوں کادورہ کرکے وہاں تمام متعلقین بشمول سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں ،یوٹی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اورعوامی نمائندوں بشمول ڈی ڈی سی اراکین کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں اورتبادلہ خیال کریں گی جبکہ اسمبلی حلقوں کے رقبہ ،آبادی اورووٹروں کی تعداد سے ضلعی ترقیاتی کمشنروںکی جانب سے تاحال مکمل کئے گئے کام کے بارے میں بھی اعلیٰ سطحی وفد جانکاری حاصل کرکے اس سارے عمل کاجائزہ لے گا ۔خیال رہے سپریم کورٹ آف انڈیا نے فروری2020میں جموں وکشمیر کیلئے تین رکنی حدبندی کمیشن تشکیل دیاتھا ،جسکا سربراہ سپریم کورٹ کی سابق خاتون جج ریٹائرڈجسٹس رنجنا ڈیسائی کوبنایاگیا ۔مذکورہ کمیشن کوایک سال کے اندریعنی مارچ2020سے مارچ2021تک جموں وکشمیرمیںاسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی اورنئے اسمبلی حلقوں کی تشکیل سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی لیکن کمیشن ھٰذا اپنایہ کام مقررہ وقت یامدت میں مکمل نہیں کرسکا ،جسکے بعدحدبندی کمیشن کویہ کام یا ذمہ داری مکمل کرنے کیلئے دئیے گئے ایک سال کے وقت میں مزیدایک سال کی توسیع کی گئی ،اوراس اعتبار سے اب کمیشن ھٰذاکواپنی مفصل رپورٹ معہ سفارشات مارچ2022تک مرکزی سرکارکوپیش کرنی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حدبندی کمیشن کی پہلی میٹنگ میں نیشنل کانفرنس سے وابستہ تین ارکان پارلیمان(لوک سبھا) ڈاکٹرفاروق ،حسنین مسعودی اورمحمداکبرلون نے بطور معاون ممبران کے کچھ تحفظات کی بناء پرشرکت نہیں کی تھی ۔تاہم بائورکیا جاتاہے کہ مستقبل قریب میں منعقد ہونے والی کمیشن ھٰذاکی دوسری میٹنگ میں این سی کے تینوں ممبران پارلیمان شرکت کریں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق مرکزی سرکار چاہتی ہے کہ اسمبلی حلقوں کی سرنو حدبندی اورنئے اسمبلی حلقوں کی تشکیل کاعمل جلدسے جلد مکمل ہوتاکہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات عمل میں لاکرسویلین حکومت چارج سنبھال سکے ۔حال ہی میں منعقدہ آل پارٹیزمیٹنگ کے بعداسبات کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ جموں وکشمیرمیں اگلے چھ یانوماہ کے دوران اسمبلی انتخابات کرائے جاسکتے ہیں ۔بائورکیا جاتا ہے کہ حدبندی کاعمل مکمل ہونے کے بعدجموں وکشمیرمیں اسمبلی حلقوں کی تعداد83سے بڑھ کر 90کی جائیگی تاہم 7نئے اسمبلی حلقوں کی تشکیل جموں صوبے میں ہی ہوسکتی ہے ،اوراس طرح سے جموںصوبے میں اسمبلی حلقوں کی تعداد37سے بڑھ کر44ہوگی جبکہ کشمیرمیں اسمبلی حلقوں کی تعداد46ہی رہے گی ۔










