ڈاکٹر علیم خان فلکی
تیسری قسط
خطبہ حجۃ الوداع کا نواں اہم نکتہ
کوئی ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھائے۔
اسمعوا منی تعیشوا الا لاتظلموا الا تظلموا الا لا تظلموا انہ لا یحل مال مال امریء الا بطیب نفس منہ (مسند احمد ۱۹۷۷۴) الا ان المسلم اخوا المسلم ولا یحل لاحد من مال اخیہ الا ما طابت بہ نفسہ۔ (مسلم ۲۱۳۷ و مستدرک حاکم ۳۱۸)
میری بات غور سنو؛ زندگی پاجاوگے۔ سنو ظلم نہ کرو، سنو ظلم نہ کرو، سنو ظلم نہ کرو کسی شخص کا مال اسکے دل کی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں ۔(خبردار!) یاد رکھو مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ کسی مسلمان کی کوئی بھی چیز دوسرے مسلمان کے لیے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ خود (خوشی سے ) حلال نہ کرے۔ جس نے اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم سے ہتھیا لیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
ایک دوسرے کے مال کو مال کو حرام طریقے سے کھانے کی سب سے بڑی مثال اس دور میں جہیز ہے۔ وہ لوگ بدترین مجرم ہیں جو استطاعت رکھنے کی وجہ سے ایسی ایس مثالیں قائم کردیتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ میں رسم چل پڑتی ہے پھر ہر شخص جھوٹ، چوری اور رشوت وغیرہ کے ذریعے اپنی بیٹیوں کی شادیوں پر جہیز دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ جو لوگ جہیز کو ’’خوشی سے‘‘ دئیے جانے والی چیز یا تحفہ یا ہدیہ کہتے ہیں وہ بخدا بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں۔ یہ رسم و رواج کے نام پر ایک دوسرے کو مشقّت میں ڈالنا ہے۔ یہ ایک بلیک میل ہے کہ لڑکی کے والدین سے بیٹی کی شادی کیلئے مال وصول کیا جائے۔ (مزید تفصیلات کیلئے ملاحظہ ہو کتاب ’’مرد بھی بکتے ہیں ۔۔۔جہیز کیلئے ‘‘ جو ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ )
اگر ہمارے عالم ، ہمارے مفتی ، ہمارے لیڈر اور ہمارے عوام کو صرف “المسلم اخوا المسلم” کے تقاضے سمجھ میں آ جائیں تو نہ خود مسلمانوں میں فرقہ بندیاں باقی رہینگی اور نہ دنیا میں کوئی غیرمسلم باقی ن رہیگا ۔ کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ مسلمان ایک دوسرے کے رائیٹس کی جتنی حفاظت کرتے ہیں ، وہ دنیا کا کوئی چارٹر نہیں کر سکتا تو فطری طور پر ان کے دل میں مسلمانوں میں شامل ہونے کی خواہش پیدا ہو جائے گی۔ آج بدقسمتی سے “المسلکی اخوا المسلکی” اور “الجماعتی اخوا الجماعتی” تو ضرور ہے “المسلم اخوا المسلم” کہیں نہیں ہے ۔ ایک بھائی سے گھر کے اندر چاہے جتنا بڑا اختلاف ہو لیکن کیا وہ گھر سے باہر اپنے اس بھائی کو ذلیل کر سکتا ہے ؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ اس فوج کا انجام کیا ہوتا ہے جس کے دشمن تو سامنے ہوں اور فوجی اپنے دشمن پر گولی چلانے کے بجائے خود ایک دوسرے پر گولیاں چلانے میں مصروف ہوں؟ ایک دوسرے کے بھائی ہونے کی مثال کسی فوج کے سپاہیوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ہر فوجی الگ زبان، الگ صوبے ، الگ رنگ اور الگ ذات و نسل کا ہونے کے باوجود قانون کے دفاع اور ملک کی حفاظت کے لیے ڈٹ جاتا ہے ۔
بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا کہ علماء یا جماعتیں یا مسالک اس نیک کام کے لیے آگے بڑھے ہوں کیونکہ یہ معاملہ انا کا ہے ۔ نفسیاتی طور پر ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ پہلے دوسرا ان کو بڑے بھائی کا درجہ دے اور چھوٹے بھائی کی طرح ان کے پیچھے چلے تب وہ ضرور المسلم اخوا المسلم پر عمل کرنا شروع کردینگے ۔ دوسرا مسئلہ ایک یہ ہے کہ اگر یہ اپنے ِ مخالف سے بھائی کی طرح سلوک کرنا شروع کردینگے تو پھر ان کے اپنے ماننے والے خود ان پر پل پڑیں گے کہ کل تک تو آپ کے کہنے پر ہم نے جن لوگوں کو مشرک ، کافر ، بدعتی وغیرہ کہہ کر جھگڑے مول لیے تھے ، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمارے بھائی ہیں تو پہلے اپنی غلطی تسلیم کیجیے ۔لوگ اگر دوسروںکے مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر دشمنی ترک کردیں تو ا ن کی عزت، پوزیشن اور دوکانیں بند ہوسکتی ہیں۔
بھائی ہونے سے مراد وہی ہے کہ جوخطبہ حجۃ الوداع کے دوسرے نکتے میں تفصیل سے بیان ہوچکی ہے۔ کہ : آپ کا ہاتھ اور آپ کی زبان آج کے بعد سے “لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ” کا اقرار کرنے والے کسی بھی مسلمان کی جان ، مال اور عزت کے خلاف ہرگز نہیں اٹھیں گے ۔ ہم کسی کو اپنے سے کمتر ، حقیر اور قابل تنقید نہیں سمجھیں گے ۔ اس کام کو سب سے پہلے علماء یا جماعتوں یا مسالک پر ہرگز نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ یہ کام تو سب سے پہلے ہر قاری ، ہر فرد کے ذمے ہے کہ وہ اللہ کے حضور سچے دل سے عہد کر لے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر آج سے ذاتی طور پر عمل کرے گا۔ ہر مسلمان سے اپنے سگے بھائی کی طرح سلوک کرے گا۔ جو لوگ اس اخوتِ اسلامی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ، ان کے پیچھے نہیںچلے گا بلکہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرے گا۔ اسطرح ان مولویوں کا خود بخود قلع قمع ہوجائیگا جو اپنی سرداری باقی رکھنے کیلئے دوسرے مسلمانوں سے لڑاتے ہیں۔
اس نکتہ میں ایک اور اہم فرمان یہ ہے کہ “کوئی ایک دوسرے کا مال حلال نہیں کرے گا تاوقتیکہ وہ شخص خود خوشی سے حلال نہ کرے ۔ آج سارے لوگ ایک حمام کے ننگے ہیں۔ شرم حیا ، انسانیت کی پاسداری ، مروت ، رحم سب کچھ ہم نے دفن کر دیا ہے ۔ ہر شخص مال کی لوٹ میں آخرت سے غافل ہو چکا ہے ۔ دوسرے بھائیوں کی جیب کو کاٹنا اس بنیاد پر حلال کر لیا گیا ہے کہ “یہ تو سب کر رہے ہیں ، میں نہیں کروں گا تو کوئی دوسرا کرے گا”۔ اور انہی کی وجہ سے پوری قوم آج چوری ، جھوٹ اور حرام ذرائع آمدنی کو اختیار کرنے پر مجبور ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں میں بیروزگاری کے نتیجے میں ہر شخص تعمیراتی کام میںیا رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں اترنے لگا ہے کیونکہ اس میدان میں اخراجات دکھائے کچھ اور جاتے ہیں اور لگایا کچھ اور جاتا ہے ۔ پولیس والوں ، سرکاری افسروں ، عدلیہ والوں اور وکیلوں کا تو ذکر ہی کیا؟ یہ لوگ تو بس وہی لیتے ہیں جو مسلمان بھائی “خوشی سے ” دے دے ۔ اور اگر کوئی بھائی ان کو “خوشی سے ” نہ دے سکے تو اس کا جو حشر ہوتا ہے یہ سب ہی کو معلوم ہے ۔ آج ہر فرد ایک “طوائف” کی طرح ہو چکا ہے کہ جہاں اسے پتہ چل جائے کہ دوسرا اس کا محتاج ہے تو وہ اپنی قیمت بڑھا دیتا ہے اور یوں دوسرے بھائی کی ضرورت کا مکمل استحصال کرتا ہے ۔
مسلمانوں کے دو طبقات خود مسلمانوں کو جس قدر لوٹ رہے ہیں شائد دشمنانِ اسلام بھی اتنا نہیں لوٹ سکتے۔ ایک سیاستدانوں کا طبقہ دوسرا وکیلوں کا۔ ان کے جھوٹ، فریب اور چالبازیوں سے ہر مسلمان بھائی پریشان ہے۔ ان میں یقینا کچھ لوگ اچھے ہونگے لیکن اکثریت نے پورے معاشرے کو برباد کردیا ہے۔ وکیل حضرات جب طلاق، خلع ، وراثت یا جرائم کے مقدمات لڑتے ہیں تو مقدمہ جیتنے کیلئے جو جو الزامات گھڑ کر فرقِ ثانی کو جو اگرچہ کہ ان کا ہی مسلمان بھائی ہوتا ہے، اسکو ہر طرح ہرانے کی کوشش کرتے ہیں دوسرا کتنا ذلیل ہوجائے۔ اسکے علاوہ ڈاکٹروں کا طبقہ بھی ہے جو غیر قوموں کی طرح اپنی قوم کے ہی لوگوں کو بے رحمی سے لوٹ رہاہے۔
خطبہ حجۃ الوداع کا دسواں اہم نکتہ
وراثت کے احکام اللہ کے حدود ہیں
ان اللہ قد اعطی لکل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث۔ (ترمذی ۲۰۴۶)
اے لوگو! اللہ نے میراث میں ہر وارث کا حصہ مقرر کر دیا ہے ۔ اور وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔
آج عدالتوں میں جتنے مقدمات خاندانی قضیات سے متعلق ہیں ، ان میں سب سے زیادہ حقِ وراثت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر مسلمان صرف حقِ وراثت کے قانون کو صرف اپنے اپنے گھر سختی سے نافذ کر دیں تو ساری عدلیہ ان کے قدموں میں ہوگی۔ اگرچہ نمار ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور جہاد جیسے اہم ترین فرائض قرآن میں بیان ہوئے ہیں لیکن کہیں کسی حکم کے ضمن میں “تلک حدود اللہ” کے الفاظ سے تنبیہ نہیں کی گئی لیکن وراثت کے ضمن میں یہ تنبیہ آئی ہے۔ وراثت کے حکم کی خلاف ورزی اللہ کے لائن آف کنٹرول [LoC] کو تجاوز کرنے کے مترادف ہے ۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان پاکستان یا فلسطین اسرائیل کی سرحد کے اندر ایک قدم بھی رکھ دینے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟وراثت کے احکام کی خلاف ورزی کا صرف ایک بدترین نتیجہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
غریب و متوسط طبقے میں آج ایسے لاکھوں نوجوان ہیں جن کے والد کی کوئی نہ کوئی جائداد تھی جو آج بھی اگر موجود ہوتی تو اس کی مالیت لاکھوں میں ہوتی مگر بیٹیوں یا بہنوں کے جہیز اور ان کی “معیاری شادی” کے نام پر اسے فروخت کرنا پڑا اور یوں آج ان کی نوجوان اولادیں معمولی نوکریوں پر مجبور ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے تجارت کرنے والوں کیلئے رزق کے 9 دروازوں کی بشارت دی ہے لیکن یہ بچارے نوجوان اپنی ساری زندگی قرض اور سود چکانے میں گزار دیتے ہیں اور اپنی خود کی اولاد کو معمولی اسکولوں اور کالجوں یا مدرسوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں۔ سارا سرمایہ تو ان کے داماد یا بہنوئی کھا چکے ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک باپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، باپ کا کل سرمایہ ہی آٹھ دس لاکھ کا ہے ۔ اب وہ یہ سرمایہ بیٹوں کو تجارت کے لیے دینے کے بجائے بیٹیوں کے جہیز پر خرچ کر دیتا ہے ۔ اگر وہ بیٹوں کو دینا بھی چاہے تو عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ اس کی بیوی اپنے بیٹوں کو نظرانداز کر کے اپنی بیٹیوں کے لیے سب کچھ خرچ کروا دیتی ہے ۔ بیٹے بچارے ٹیکسی ، آٹو یا رکشہ چلانے یا پھر الکٹریشن ، پلمبر ، سیکریٹری یا کلرک جیسی معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے باپ ہی کی طرح سدا مفلوک الحال بنے رہتے ہیں۔باپ کے انتقال پر جب مکان کی وراثت کی بات نکلتی ہے تو بیٹیاں اپنے شوہروں کے ساتھ حصہ مانگنے کے لیے آ دھمکتی ہیں۔
ایسے نفسا نفسی کے وقت میں بیٹے اپنی ہی بہنوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک تو وہ جہیز کی شکل میں اپنا حصہ وصول کر چکی ہوتی ہیں۔
جہیز ہندو مت میں وراثت کی ایک شکل ہے اس لیے ان کے ہاں عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ لیکن اسلام میں جہیز حرام ہے کیونکہ یہ ایک رشوت، بھیک، اسراف، تبذیر، مشرک قوم کی تقلید، فتنہ، سوشیل بلیک میل اور فخر و ریا سے پُر ہے ۔ دوسری طرف لڑکیوں کو وراثت کے حق سے محروم رکھنا بھی دوسرا حرام کام ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جہیز دینے کے بعد عورت کا میراث میں حصہ شرعاً ختم کیا جا سکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ ناممکن ہے ۔ ہاں جہیز کو ضرور ختم کیا جا سکتا ہے ۔ ہر وہ شخص جس نے جہیز وصول کیا ہے یا کرنے والا ہے وہ اچھی طرح جان لے کہ وہ جہیز کی صورت میں کسی غریب بھائی یعنی لڑکی کے بھائی کی وراثت پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ وہ اسکو تجارت کرنے کے حق سے روک کر نوکری کی غلامی اختیار کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ اور قیامت میں اللہ کی حدود تجاوز کرنے کے جرم میں اس کی ضرور پکڑ ہوگی۔
خطبہ حجۃ الوداع کا گیارہواں اہم نکتہ
اپنے نوکروں کا خیال رکھو
ارقائکم ارقائکم ارقائکم
غلاموں کا خیال رکھو ، غلاموں کا خیال رکھوغلاموں کا خیال رکھو (مسند احمد ۱۵۸۱۳)
دنیا کا کوئی چارٹر ایسا نہیں جس میں نوکروں ، ماتحتوں یا غلاموں کے حقوقِ انسانی کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہو۔ مزدوروں کے حقوق پر تو کئی چارٹر بنے ہیں لیکن مالکوں کو کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر نوکروں کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو یومِ آخرت اس کی بھی پوچھ ہوگی۔ آج غلاموں کا دور نہیں رہا لیکن غربت و افلاس نے انسانوں کو ان غلاموں سے بدتر بنا دیا ہے جو عہد قدیم میں ہوا کرتے تھے ۔
ہم اگر تفصیل میں گئے بغیر اپنا اپنا جائزہ لیں تو سمجھ میں آ جائے گا کہ اس حکم کا خود ہم پر کیا تقاضا ہے ؟ بہتر ہوگا پہلے ہم اپنے اپنے گھر کی خادماؤں کا انٹرویو کریں، ہر نوکرانی کی ایک ہی کہانی ہے ۔ شادی ہوئی مگر شوہر شرابی اورکاہل نکلا۔ جہیز اور زیور بیچ کر بھاگ گیا ، بے چاری تین چار چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ شہر آ گئی۔ وہ بچے اور بچیاں نہ کبھی اسکول گئے اور نہ مدرسہ۔ بچیاں بڑی ہوتی گئیں اور دوسرے گھروں میں نوکر بن گئیں اور بچے دکانوں اور کارخانوں میں لگ گئے ۔لاکھوںکی تعداد میں مسلمان بچیاں آج ہندو گھروں اور کارخانوں میں نچلے کاموں پر نوکری کررہی ہیں اور دوسرے مذاہب میں اگر ضم ہورہی ہیں۔ اگر نہیں بھی ہورہی ہیں تب بھی اسلام اور مسلمانوں کیلئے باعثِ شرم ہیں۔ اور یہ تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے ۔ آئیندہ دس تا پندرہ سالوں میں ان پڑھوں کی یہ تعداد جو بڑھے گی تو وہ لاکھوں میں ہوگی۔ ان کی اکثریت کی وجہ سے یہ پوری قوم کی شناخت یا علامت بن جائیں گے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص ان نوکرانیوں ، یا ڈرائیور یا ملازمین کے صرف ایک بچے کی مکمل تعلیم کا ذمہ لے لے اور اس کو اسی معیار پر تعلیم دلائے جس معیار کی تعلیم اپنے بچے کو دلا رہا ہے ۔ تب یہ بات سامنے آئے گی کہ کسی امیر کا بچہ محنت سے پڑھ کر اتنی ترقی نہیں کرے گا جتنا کہ ایک غریب نوکرانی کا بچہ کچھ بن کر دکھائے گا۔ قوم میں تعلیم کو عام کرنے کی یہ بھی ایک معقول صورت ہے ۔
خطبہ حجۃ الوداع کا بارہواں اہم نکتہ: میرے بعد ایک دوسرے کے گردنیں نہ مارنا:
فلا ترجعوا بعدی ضلا لا یضرب بعضکم رقاب بعض: میرے بعد جاہلیت پر نہ پلٹ جانا اور نہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنا۔( بخاری ۴۰۴۵، مسند احمد ۱۹۴۴۷)
کوئی شخص یہ نہیں کہے گا وہ جاہلیت پر پلٹ گیا ہے۔ کون کتنی جاہلیت پر ہے یہ جاننے کے لیے بہتر ہوگا اگر ہم ایک مرتبہ پھر ابولہب یا ابوجہل کی تاریخ پڑھیں۔ ۔ ابولہب کی کوئی بات جب مانی نہ جاتی اور اس سے کوئی اختلاف کرتا تو وہ غضبناک ہو جاتا اور اس کا چہرہ شعلے کی طرح لال ہو جاتا ۔ لوگ اسی لیے اس کو “ابولہب” یعنی شعلے والا کہتے جس پر وہ بڑا ہی نازاں ہوتا۔ اور ابوجہل کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک طرف معاملات میں بدعہدی کرتا ، لوگوں کا مال دبا لیتا اور کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ کوئی اس سے وہ مال وصول کرے۔ لیکن خدا پر اس کے یقین کا یہ عالم تھا کہ جب جنگِ بدر کیلئے نکل رہا تھا تو کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر اس نے دعابھی کی تھی کہ اے خدا جو حق پر نہیں ہے تو اسک ہلاک کردے۔
دنیاوی معاملات ہوں یا دینی ، آج اگر ہم اپنے اطراف نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا کہ ہر جانب ابولہب اور ابوجہل بھرے پڑے ہیں۔ہماری جاہلیت کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔
جہالت کی سب سے بڑی نشانی غصّہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہؓ نے فرمایا تھا ’’شریف آدمی کو غصّے کے وقت اور رذیل کوخوشی کے وقت آزماو‘‘ ۔ تعلیم یافتہ ہوں کہ ان پڑھ، عالم ہوں کہ جاہل ان تمام کو جب غصّہ آتا ہے تو ان کے متعلقین سے پوچھئے کہ یہ لوگ کیاکیا حرکتیں کرتے ہیں۔ اور اسیطرح جب کوئی خوشی کا موقع آتا ہے تو اسراف و تبذیر کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ ہر بدعت اور ہر ناجائز کو کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اللہ اور اسکے رسول ﷺ کا صدقہ ہے‘‘۔
جہالت کی دوسری نشانی یہ ہیکہ اتّخذوا اھبارھم و رہبانہم ارباباً من دون اللہ ۔(بقرہ)کے مصداق اپنے لیڈر یا مرشد یا امیر کہہ دیں اسی کو حق مان لینا اور اس پر اڑ جانا۔ شخصیت پرستی ، قبیلہ پرستی، جماعت پرستی میںاس قدر ڈوب جانا کہ جو بھی اس سے اختلاف کرے اس کے ساتھ ہر قسم کی ناانصافی اور بدسلوکی، بحث، حجّت و تکرار، مارپیٹ، تحقیر و تکفیر کو جائز سمجھنا۔ ان کے بزرگ جس کو حلال کہہ دیں اسی کو حلال کرلینا اور وہ جس کو حرام کہہ دیں اس کو حرام کرلینا۔ ان کی تحریروں کے علاوہ کسی کی تحریر یا تقریر کو نہ سننا، نہ سمجھنا نہ قابلِ اعتنا سمجھنا۔ یہ بیماری ہر جماعت میں ہیکہ اپنی کتابوں کے علاوہ نہ کسی اور کتاب کو ہاتھ لگاتے ہیں نہ کسی اور کام میں کسی قسم کا تعاون کرتے ہیں۔
جہالت کی تیسری نشانی یہ ہیکہ خوشی یا غم کے موقعوں پر بجائے اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کے اپنے باپ دادا ، امّاں، نانی اور دادی کے طریقوں پر چلنا۔
جہالت کی ایک اور نشانی جو تعلیم یافتہ اور سمجھدار نظر آنے والے طبقے میں زیادہ پائی جاتی ہے وہ یہ اختلاف رائے کرنے والوں کے خلاف طیش میں آجانا، قطع کلامی کرنا۔ ہر کام میں اپنے نام کی شہرت تلاش کرنا۔ گفتگو میں ’’میں، میں‘‘ مسلسل استعمال کرنا، اپنے باپ دادااور خاندان کی شان بگھارنا، سوسائٹی کے نامور لوگوں کی دوستی اور ان کے طور طریق اختیار کرنا، دوسروں کی عورت پر نظر رکھنا اور اپنی عورتوں کو سات پردوں میں چھپانا، طاقتور کے آگے جھکنا اور کمزور کو دبانا، ناچ گانے لہو و لعب اور آرٹ اور کلچر کے نام پر مجمع اکھٹا کرنا اور فضول خرچی و ریاکاری کو کلچر بنالینا،
بعینہ یہی وہ جاہلیت تھی جس کا ابولہب اور ابوجہل کی خصوصیات میں شمار تھا۔ جس طرح ہر شخص چاہتا تھا کہ کعبہ پر اس کا پسندیدہ بت ایستادہ رہے ، اس لیے وقت واحد میں 360 بت کعبے پر موجود ہوا کرتے تھے اسی طرح مساجد میں بھی سیاسی جماعتوں جیسی دو دو تین تین انتظامی کمیٹیاں متوازی سطح پر چلتی
ہیں۔اماموں اور خطیبوں کے گروپ بن جاتے ہیں۔ ایک ہی عقیدے ، مسلک اور جماعت کے اندر بھی کئی کئی گروپس بن جاتے ہیں۔ بڑی شان سے انجمنیں بنتی ہیں اور دو چار سال میں ہی کئی انجمنوں میں تقسیم بھی ہو جاتی ہیں۔یہ تمام مظاہر در اصل اسی دورِ جہالت کی غمّاز ہیں جو ’’انانیت‘‘ کی وجہ سے دورِ جہالت میں عام تھے۔
خطبہ حجۃ الوداع کا تیرہواں اہم نکتہ : قرض لے کر وقت پر واپس کیا کرو
العاریۃ موداۃ المنحۃ مردودۃ والدین مقضی الزعیم غارم (ترمذی ۲۰۴۶)
ادھار لی ہوئی چیز واپس کی جائے۔ دودھ پینے کیلئے جو جانور کسی نے دیا ہو اسے لوٹایا جائے۔ لیا ہوا قرض ادا کردیا جائے۔ جو شخص قرض کی ضمانت لے گا وہ ذمہ دار ہوگا وہ ذمہ داری نبھائے۔
آج مستحق آدمی کو کوئی قرض نہیں دیتا جس کی وجہ سے بے چاروں کو سود پر پیسہ لینا پڑتا ہے۔ اس کے ذمہ دار مالدار لوگ نہیں بلکہ وہ پیٹ بھرے لوگ ہیں جو قرض لے کر وعدے کے مطابق واپس نہیں کرتے اور دینے والے کو مجبور کرتے ہیں کہ آئندہ اگر کوئی ان سے مانگنے آئے تو انکار کردیں۔ ایسے بے شمار لوگ جو حج اور عمرے بھی کرتے ہیں۔ قرض لے کر کبھی وقت پر واپس نہیں کرتے اگرچہ کہ ان کی استطاعت ہوتی ہے۔ ایک تو یہ ایمان سے محروم ہوجاتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا ایمان لہ لمن لا عہد لہ۔ جس نے عہد کی پابندی نہیں کی اسکا کوئی ایمان نہیں۔لیتے وقت پوری عاجزی کے ساتھ التجا کرنا اور لوٹانے کی تاریخ طئے کرنا اسکے بعد تاوقتکہ دینے والا بار بار یاد نہ دلائے اسکو لٹکائے رکھنا۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو زمین خریدنے پیسہ لیتے ہیں اور مکان تعمیر کرکے کرایے آنے تک قرض ادا نہیں کرتے۔ کئی لوگ پہلے بچے کی زچگی کے وقت پیسے لیتے ہیں اور اسکی شادی تک بھی ادا نہیں کرتے۔ کئی لوگ بڑے بھائیوں، سالوں اور بہنوائیوں کے پیسے پر ویزے خرید کر آجاتے ہیں اور نوکریا ں ملنے کے بعد بھی پیسوں کی ادائیگی نہیں کرتے ۔ ایسے بے شمار لوگ ہمارے اطراف نظر آتے ہیں جو قرض کے معاملے میں قطعی ناقابلِ اعتبار ہیں۔ یہ لوگ معاشرے کو نقصان پہنچانے والے لوگ ہیں۔ ایسے ہی لوگوںکے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو قرض لے اور وقت پر ادائیگی نہ کرے اگرچہ کہ استطاعت رکھتا ہو تو ایسے شخص کو سب کے سامنے ذلیل کرو۔ تاکہ دینے قرض دینے والوں کے پاس اگر کوئی مستحق آئے تو انہیں ایسے قرض لے کر ستانے والوں کے تجربے کی وجہ سے انکار نہ کرنا پڑے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو واقعی لاچار ہیں اور ادا نہیں کرسکتے ایسے لوگوں کو قرض دے کر مہلت دینے والے اور معاف کردینے والے کے لئے بخشش کی بشارت ہے۔
ؔ
خطبہ حجۃ الوداع کے مزید اور بھی نکات ہیں جو ایک طاقتور اخلاقی معاشرے کی بنیاد ہیں جن پر انشااللہ آئندہ کبھی تفصیل سے گفتگو ہوگی ۔ جیسے
۱۴۔ کسی مسلمان کو دھکّا دینا بھی حرام ہے۔
۱۵۔ کسی بھی مسلمان کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
۱۶۔ پڑوسی کے حقوق بہت سخت ہیں۔
۱۷۔ مومن، مسلم، مجاہد اور مہاجر کی تعریف
۱۸۔ اپنے مانباپ اور پھر رشتہ داروں پر خرچ کرو
۱۹۔ عورتیں زیادہ سے زیادہ صدقہ کریں کیونکہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہونگی۔
۲۰۔ باپ کی زیادتی کا بدلہ بیٹے سے یا بیٹے کا بدلہ باپ سے نہیں لیا جاسکتا۔
۲۱۔ خدا کی قسم۔۔ اللہ کی قسم۔۔۔ رب کعبہ کی قسم۔۔۔ ایسی قسمیں کھانے والوں سے
۲۲۔ رسول اللہ ﷺ قیامت کے روز ہر ایک شفاعت کرینگے لیکن۔۔۔۔۔
۲۳۔ میری باتوں کو دوسروں تک پہنچادو، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوں گے
۲۴۔ اللہ اس پر رحمت کرے جو میری باتیںیادکرے اور دوسروں تک پہنچائے۔










