حجاب کپڑا کاٹکڑا نہیں :عمرعبداللہ :حجاب پہننے نہ پہننے کامعاملہ خواتین پرچھوڑ دیناچاہئے :محبوبہ مفتی :فیصلے کے خلا ف عدالت عظمیٰ میں جانے کاحق ہے:الطاف بخاری
سرینگر//کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے اسکولوں کالجوں میں حجاب پر پابندی عا ئد کر دینے کے فیصلے کے خلا ف سیاسی پارٹیوں اور مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے ولے افراد کی جانب سے ملاجلا رد عمل جاری ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئرلیڈر اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے عدالت کے فیصلے کووقت کی ضرورت سے تعبیرکرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننے پرملک میں کوئی پا بندی عائد نہیں ہے۔اسکولوں کالجوں کے اپنے ڈرس کوڈ ہوا کرتے ہے جس پر من وعن عمل ہونی چاہئے ۔کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں مزہبی علماء کی جانب سے اس سے جان بوجھ کر مسئلہ بنایاجا رہاہے تاکہ مسلماں لڑکیوں کوتعلیم سے محروم رکھاجائے ۔حید رآباد کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ مسلمان خواتین کے لئے حجاب پہننا لازمی ہے اور وہ حجاب پہن کر بھی تعلیم حاصل کرسکتی ہے ۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہاکہ حجاب کو ئی کپڑ اکاٹکڑا نہیں جسکے پہننے نہ پہننے پرپابندی عائدکی جائے معزز عدالت کافیصلہ حقائق پرمبنی نہیں۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ حجاب مسلمان خواتین کے لئے لازمی خواتین کوبا اختیار بنانے کے دعوے سرآب ثابت ہو رہے ہے ۔اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ اس طرح کی پابندی سمجھ سے بالاتر آج حجاب پرپابندی کل نماز پڑھنے سے منع کیاجائیگا بھارت ایک سکولر ملک ہے جہاں مزہبی آزادی ہے ۔اے پی آئی نیوز ڈیسک کے مطابق کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے حجاب پہننے پرپابندی عا ئد کر دینے کے خلا ف طالبات کی جانب سے دائرکی گئی عرضی کوخارج کردینے اور حجاب پر پابندی عائد کردینے کے فیصلے کے خلاف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں مزہبی علماء اور مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے ولے افرا دکی جانب سے ملاجلا رد عمل ظاہرکیاگیا۔اقلیتی امور کے مرکزی وزیرمختار عبا س نقوی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی سرہانہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران مزہبی علماء مسلمان لڑکیوں کوتعلیم سے محروم رکھناچاہتے ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوںنے کہا اسکولوں کالجوں میںاپناڈرس کوڈ ہوا کرتاہے جس پرمن وعن عمل لازمی کرنا طلبہ وطالبات کے لئے ضروری ہیں اور ا سے مزہبی رنگت دینا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ۔اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے کہا کہ اسکولوں کالجوں کے قوائد وضوابط پر عمل کرنا طلاب کے لئے لازمی ہے اور وہاں مرکزی کاڈرس پہننا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ ملک میںحجاب پہننے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے تاہم اسکولوں کالجوں میں اگر عدالت نے ا س پرپابندی عائدکی ہے تو اس پرمن وعن عمل ہونی چاہئے ۔ادھراتحاد المسلیمن کے سربراہ اور حیدرآباد کے ممبرپارلیمنٹ اسدین اویسی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کومسلمانوں کے لئے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ قران میں یہ واضح کردیاگیاہے کہ مسلمان خواتین کے لئے حجاب کتنا لازمی ہے ۔انہوںنے کہا کہ کسی کے بیان دینے سے یہ ضروری نہیں بن جاتاہے کہ مسلمان خواتین کے لئے اسلام میں حجاب لازمی نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ کادروازہ بھی کھٹکھٹایاجاسکتاہے ملک میں مزہبی آزادی ہے اورآئین نے مسلمان خواتین کوجوحقوق فراہم کئے ہے ان کے مطابق عمل ہونی چاہئے ۔نیشنل کانفرنس کے نائب صد راور جموںو کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کوناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ معزز عدالت کی جانب سے جوفیصلہ صادر کیاگیاہے وہ کپڑے کاٹکڑا نہیں ہے بلکہ مسلمان خواتین کویہ آزادی حاصل ہونی چاہئے کہ وہ کیاپہننا چاہتی ہے کیانہیں پہنا چاہتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ معزز عدالت کافیصلہ حقائق پرمبنی نہیں ہے او را سکے خلاف عدالت عظمیٰ کادروازہ بھی کھٹکھٹایا جاسکتاہے ۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے عدالت کے فیصلے کومایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک میں خواتین کوبا اختیار بنانے کے دعوے کئے جارہے ہے اور دوسری جانب مسلمان خواتین کوخجاب پہننے پر پابندی عائدکر دینے کے فیصلے صاد رکئے جاتے ہے جو کسی بھی طور پر خواتین کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ مسلمان خواتین پرچھوڑ دیناچاہئے کہ وہ کیاپہنناچاہتی ہے اور کیاکرناچاہتی ہے اخلاق کے دائرے میں رہ کراور قانون کااحترام کرناسب کے لئے لازمی ہے بھارت ایک سکولرملک ہے جہاں ہر ایک شخص کو اپنے مزہب کی پیروی کی اجازت ہے ۔اپنی پارٹی کے سر براہ الطاف بخاری نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پررائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ بحثیت مسلمان میں یہ کہناچاہتا ہوں کہ حجاب پہننا مسلمان خواتین کاحق ہے اور ا س پرپابندی عائدکرنا کسی طور جائز نہیں آج حجاب پر پابندی اور کل کوئی یہ کہے کی نماز نہ پڑھی جائے ۔انہوںنے کہاکہ عدالت کافیصلہ حرف آخر نہیں اور مسلمانوں کے لئے کسی بھی طور پرقا بل قبول نہیں ہوگااور اس فیصلے کے خلا ف عدالت عالیہ کادروازہ بھی کھٹکھٹایاجاسکتاہے ۔










