سرینگر//فوجی سربرہ جنرل ایم ایم نروانے، نے کہا ہے کہ جب تک نئی دہلی اور بیجنگ کے مابین سرحدی معاہدے نہیں ہوں گے تب تک سرحدوں پر چین کے ساتھ واقعات پیش آتے رہینگے۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر میں انسداد دراندازی اور عسکریت پسندی کیلئے متحرک گرڈ موجود ہے۔ آرمی چیف نے مزید کہا کہ افغانستان میں حالیہ پیشرفت بھارتی فوج کی “یقینی طور پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے” جو کہ خطرے کے تاثرات کا جائزہ لیتی ہے اور اس کے مطابق حکمت عملی بناتی ہے۔ مانیٹرنگ کے مطابق جمعرات کو نئی دہلی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ایم ایم نروانے نے کہاکہ افغانستان میںحالیہ واقعات بھارتی فوج کے لئے توجہ کا مرکز ہے اور خطرات کے تاثرات کا جائزہ لینے کے بعد حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔ کابل 15 اگست کو طالبان کے قبضے میں آگیا۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بھارت نے 20 ستمبر کو کہا تھا کہ ملک کی سرزمین کو پناہ دینے ، تربیت دینے ، منصوبہ بندی کرنے یا دہشت گردی کی کارروائیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔جنرل نروانے نے کہاکہ جہاں تک عسکریت پسندی کے خطرے کا تعلق ہے، بھارتی فوج کسی بھی چلینج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر میں انسداد داراندازی اور انسداد عسکریت پسندی کیلئے متحرک گرڈ موجود ہے ، یہ متحرک گرڈ ہے اور یہ خطرے کے ادراک پر مبنی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے مغربی پڑوسی (پاکستان) کی یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ جنگجوئوں کو بھارتی سرحد کے پار دھکیلا جائے۔ جنرل نروانے نے کہاکہ اتار چڑھاو کی بنیاد پر ہم آپریشنوں کی سطح کو پیمانہ بندی(recalibrate) کرتے ہیں۔انہوں نے کہا یہا ں موجود سیکورٹی گریڈ کسی بھی چلیج کا مقابلہ کرنے کااہل ہے ۔چین پر بحث کرتے ہوئے جنرل نروانے نے کہاکہ ’’ہمارا سرحدسے متعلق مسئلہ ہے اور ہم کسی بھی منفی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے اور جس طرح ہم نے ماضی میں مظاہرہ کیاہے، ایسے واقعات تب تک رونما ہوتے رہینگے جب تک نہ طویل مدتی حل تک نہ پہنچ کرسرحدی سمجھوتہ ہوجائے اور ہماری یہ کوششیں ہونی چاہئے تاکہ شمالی (چین )سرحد پر دائمی امن کا قیام عمل میں آئے‘‘۔ہندوستان اور چین کی فوجوں کے درمیان موجودہ سرحدی تنازع پچھلے سال مئی میں پینگونگ جھیل کے علاقے میں پرتشدد جھڑپ کے بعد شروع ہوا تھا۔ دونوں فریقوں نے دسیوں ہزار سپاہیوں کے ساتھ ساتھ بھاری ہتھیاروں کی مدد سے اپنی تعیناتی کو آہستہ آہستہ بڑھایاہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 15 جون کو وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد وہ بڑھ گیا۔ ہندوستانی فوج کے بیس اہلکاروں نے ان جھڑپوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جس نے کئی دہائیوں میں دونوں فریقوں کے درمیان شدید ترین فوجی تنازعات کو نشان زد کیا۔فروری 2021، چین نے سرکاری طور پر تسلیم کیا کہ ہندوستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ چینی فوجی افسران اور سپاہی مارے گئے حالانکہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہے۔افغانستان کے بار ے جنرل نروانے نے کہاکہ بھارتی فوج یا مسلح افواج اس معاملے پر وقتاً فوقتاً خطرات پر جائزہ لیتے ہیں اور ان جائزوں کی بنیاد پر مستقبل کے خطروں سے نمٹنئے کیلئے فوج حکمت عملی اور نظریہ ترتیب دیتی ہے اور یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے جو کبھی نہیں رکتا۔ فوجی اور سفارتی مذاکرات کی ایک سیریز کے نتیجے میں ، دونوں فریقوں نے گزشتہ ماہ گوگرا کے علاقے میں علیحدگی کا عمل مکمل کیا۔ٹیچ سائٹ کے پاس اس وقت حساس سیکٹر میں ایل اے سی (لائن آف ایکچول کنٹرول) کے ساتھ 50سے 60فوجی موجود ہیںجبکہ2017 میں ، ہندوستانی اور چینی فوجی ڈوکلام ٹرائی جنکشن میں 73 دن تک لڑائی میں مصروف رہے جس نے دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان جنگ کے خدشات کو بھی جنم دیا۔بھارت چین سرحدی تنازعہ 488.3کلومیٹر طویل ایل اے سی پر محیط ہے۔ چین دعویٰ کرتا ہے کہ اروناچل پردیش جنوبی تبت کا حصہ ہے جبکہ بھارت اس کا مقابلہ کرتا ہے۔
مغربی ایشیا میں توانائی تنصیبات پر حملوں کی بھارت کی مذمت
خامنہ ای کے قتل کے باوجودایرانی حکومت قائم
ایران اگر قطر پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ پارس گیس فیلڈ تباہ کردے گا : ٹرمپ
ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور
جنگ کا نیا مرحلہ شروع، ہمیں توانائی تنصیبات پر حملے کیلئے مجبور کیا گیا: پاسداران انقلاب
اسرائیلی دباؤ پر جنگ چھیڑ دی گئی، ٹرمپ کے مستعفی مشیر کا بیان
حسین دہقان ایرانی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سکریٹری مقرر
کیرالا کے الپوڑا میں برڈ فلو‘ 6 ہزار پرندوں کو تلف کرنے کا فیصلہ
داؤد ابراہیم کی آبائی زمینوں کی نیلامی
فروری میں بیرونِ ملک سرمایہ کاری میں کمی :آر بی آئی










