23اکتوبر سے 29اکتوبر تک سیاحتی مقامات پر خصوصی پروگرام منعقد ہوں گے
سرینگر///وادی کشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں اور غیر مقامی کامگاروں کے واودی چھوڑنے کے باوجود بھی ملک کے مختلف شہروں سے سیاح وادی وارد ہورہے ہیں جس سے سیاحت سے جڑے افراد میں مسرت اور اطمینان ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زاید سیاحوں نے وادی کشمیر کا رْخ کیا۔ ستمبر میں سب سے زیادہ یعنی 62 ہزار سیاح کشمیر آئے ۔ 23 اکتوبر سے اْنتیس اکتوبر تک خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں گے جن میں صوفی فیسٹول، ہائوس بوٹ میلا اور کئی دیگر ایسے پروگرام شامل ہیں جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیںادھر محکمہ ٹورازم کی جانب سے سیاحتی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو وادی کی طرف راغب کرنے کی کوششیں جاری ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کشمیر وادی میں نامعلوم کی جانب سے حالیہ دنوں کے دوران نہتے عام شہریوں کو قتل کئے جانے کے واقعات کے باوجود کشمیر میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے لوگ وارد کشمیر ہو رہے ہیں جس سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ سیاحت کی صنعت سے وابستہ لوگوں نے عام شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو روکنا نہایت لازمی ہے تاکہ کشمیر میں امن کی فضا کو ٹھیس نہ پہنچنے پائے۔ سیاحت سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ کشمیر کے لوگ بلخصوص سیاحت سے وابستہ افراد وادی کی سیر پر آنے والے مہمانوں کا ہمیشہ خیر مقدم کرتے رہے ہیں اور یہ روایت آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی کشمیر کی سیر کو یادگار بنانے کے لئے اس صنعت سے وابستہ لوگ ہر طرح کی سہولیتیں دستیاب رکھتے ہیں۔ ہلاکتوں کے تازہ واقعات سے سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد تذبزب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا حالانکہ حالیہ ہلاکتوں کے بعد کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں زیادہ کمی واقع نہیں ہوئی ہے تاہم مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحت کی صنعت متاثر نہ ہونے پائے۔واضح رہے کہ کووڈ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زاید سیاحوں نے وادی کشمیر کا رْخ کیا۔ ستمبر میں سب سے زیادہ یعنی 62 ہزار سیاح کشمیر آئے۔ جموں و کشمیر کے محکمہ سیاحت کے سیکریٹری سرمد حفیظ کا کہنا ہے اگرچہ کشمیر کی سیاحت پر آنے والے زیادہ تر سیاحوں کا تعلق ملک کی مختلف ریاستوں سے تھا تاہم غیر ملکی سیاح بھی اب کشمیر کی سیر پر آنے لگے ہیں۔ سرمد حفیظ نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پانچ سو سے زائید غیر ملکی سیاحوں سے وادی کشمیر کا رْخ کیا اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کی امید ہے۔ادھر محکمہ سیاحت نے موسم خزاں اور موسم سرما کے دوران زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو وادی کی سیر پر راغب کرنے کے لئے ایک تفصیلی پلان مرتب کیا ہے۔ سیکریٹری ٹیورازم سرمد حفیظ نے کہا کہ اس کوشش کے تحت محکمہ سیاحت کی طرفسے ملک کے مختلف حصوں بلخصوص ممبئی، کولکتہ اور حیدر آباد میں سیاحت سے وابستہ ٹیور اینڈ ٹراول آپریٹرس کے ساتھ خصوصی میٹنگوں اور پروگراموں کا انعقاد کیا گیا تاکہ موسم خزاں کے دوران زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو کشمیر کی سیر پر آنے کے لئے آمادہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خصوصی پروگرام اور میلے منعقد کرنے کی تیاریوں میں جْٹ گیا ہے۔ تفصیلات دیتے ہوئے سرمد حفیظ نے کہا کہ آئیندہ تین ماہ کے دوران جموں و کشمیر میں پچھتر ایسے مقامات پر خصوصی میلے منعقد کروائے جائیں گے جن کی طرف ابھی تک زیادہ توجع نہیں دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں موسم خزاں کے دوران آتش چنار کے علاوہ چہار سو مختلف رنگوں کے پتے کشمیر کے نظارے کو دلفریب بناتے ہیں جو سیاحوں کی پسند رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کشمیر وادی میں پانپور کے مقام پر زعفران اور سیبوں کے باغات میں خصوصی میلوں کا اہتمام کرنے جارہا ہے تاکہ سیاح زعفران کے پھول اکھٹا کرنے اور سیبوں کی فصل اْتارنے کے عمل سے محظوظ ہوسکیں۔ سیکریٹری ٹیوارزم نے کہا کہ 23 اکتوبر سے اْنتیس اکتوبر تک خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں گے جن میں صوفی فیسٹول، ہائوس بوٹ میلا اور کئی دیگر ایسے پروگرام شامل ہیں جو سیاحوں کی توجع کا مرکز بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں خطے میں مختلف مقامات بشمول بھدرواہ، بسولی اور دیگر مقامات پر بھی خصوصی سیاحتی میلوں کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح جموں و کشمیر کا رْخ کریں۔ واضح رہے کہ محکمہ سیاحت نے ایک اہم فیصلے میں رواں برس موسم سرما کے دوران مشہور سیاحتی مقام سونہ مرگ کو سیاحوں کے لئے کھْلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔










