صوفی بزرگ، مدبر سیاستدان اور انسانیت کے علمبردار کو خراجِ عقیدت
سرینگر/ یو این ایس// جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ‘‘صوفی بزرگ اور مدبر سیاستدان: پدم بھوشن میان بشیر احمد لارو ی? کی حیات و وراثت’’ کے عنوان سے ایک روزہ تاریخی سمینار کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں علمی، فکری اور سماجی حلقوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اسکول آف سوشل سائنسز کا آڈیٹوریم مکمل طور پر کھچا کھچ بھرا رہا، جو میان بشیر احمد لارو ی کی ہمہ جہت شخصیت کے لیے گہری عقیدت اور دلچسپی کا مظہر تھا۔یو این ایس کے مطابق یہ سمینار گوجر بکر وال قبائلی اکیڈمک فورم، جے این یو کے زیر اہتمام اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نصیب علی چودھری کی قیادت میں منعقد کیا گیا۔ تقریب میں رکن پارلیمنٹ میان الطاف احمد لارو ی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر احمد قدوس جاوید نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ جے این یو کے سابق ڈین اور یونیورسٹی آف جموں کے سابق وائس چانسلر پروفیسر امیتابھ مٹو خصوصی مہمان کے طور پر موجود تھے۔استقبالی کلمات میں ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمینار نہ صرف ایک عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت ہے بلکہ نئی نسل کو ان کی فکری، روحانی اور سماجی وراثت سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ افتتاحی خطاب میں پروفیسر امیتابھ مٹو نے میان بشیر احمد لارو ی کو عوام دوست رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک کامیاب سیاستدان ہی نہیں بلکہ ایک نفیس ادبی ذوق رکھنے والی علمی و ثقافتی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے میان صاحب کی سادگی، غریب پروری، وطن دوستی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اصول پسندی کو ان کی زندگی کا نمایاں پہلو قرار دیا۔مہمانِ خصوصی میان الطاف احمد لارو ی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بابا میان بشیر احمد لارو ی نے انسانیت کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا اور ہمیشہ ناانصافی، ظلم، تفرقہ اور مایوسی سے دور رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے بتایا کہ میان صاحب نے ظالمانہ نظام کے خلاف احتجاجاً زَیلدار کے عہدے سے جلد استعفیٰ دے دیا تھا اور اس نظام کے خاتمے کے حامی تھے۔ انہوں نے گوجر برادری سے میان صاحب کی گہری وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں گوجر آبادیوں سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔انہوں نے میان بشیر احمد لارو ی کی نقشبندی صوفی سلسلے سے عمر بھروابستگی کو ایک روحانی مشن قرار دیا، جس کا مقصد انسانیت، بھائی چارہ، دیانت داری، غریبوں سے ہمدردی، اللہ سے وابستگی اور حضور سے محبت کو فروغ دینا تھا، جو ذات، طبقے اور فرقے سے بالاتر تھا۔یو این ایس کے مطابق کلیدی خطبے میں معروف قلمکار و براڈکاسٹر حسن پرویز نے میان بشیر احمد لارو ی کی ہمہ جہت شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں اعلیٰ روحانی مقام، واضح وڑن، اخلاقی جرات اور حق و خدمت سے غیر متزلزل وابستگی کا حامل صوفی قرار دیا۔ انہوں نے میان صاحب کی منظم روحانی زندگی، محروم طبقات سے محبت اور ادب سے گہری دلچسپی کا ذکر کیا۔ ان کی ڈائری نویسی کی عادت، جو بعد میں ‘‘یادِ رفتگاں’’ کے عنوان سے شائع ہوئی، کو محققین کے لیے ایک قیمتی تاریخی دستاویز قرار دیا گیا۔خطاب میں ان کے سیاسی سفر پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس میں چار مرتبہ مسلسل اسمبلی انتخابات میں کامیابی، 1983 میں بڈھال (راجوری) سے فتح، اور 1987 میں رضاکارانہ طور پر سیاست سے کنارہ کشی شامل ہے۔ مقررین نے خاندان کی سیاسی و عوامی وراثت کے تسلسل کا ذکر کرتے ہوئے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں میان الطاف احمد لارو ی کی کامیابی اور کنگن سے میان مہر علی کے انتخاب کو اس اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ڈاکٹر ابراہیم مصباحی نے میان صاحب کی روحانی حیات کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے ان کے سلوک کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی۔ صدارتی خطاب میں پروفیسر احمد قدوس جاوید نے کہا کہ یہ سمینار اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ میان بشیر احمد لارو ی? صرف ایک برادری ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے۔ انہوں نے گوجری زبان کو بھارتی آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کی پرزور وکالت بھی کی۔سمینار میں جے این یو کے پروفیسر محمد خواجہ اکرام الدین، سنجیو کمار شرما، ایمس سے ڈاکٹر عبدالحکیم چودھری سمیت کئی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ بڑی تعداد میں طلبہ، محققین اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد، بالخصوص ہندو گوجر برادری کے نمائندے بھی موجود تھے۔تقریب کے اختتام پر ووٹ آف تھینکس پیش کیا گیا، جس میں ڈاکٹر نصیب علی چودھری اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے قومی دارالحکومت میں ایک یادگار اور بامقصد علمی تقریب قرار دیا گیا۔










