واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے عیدالفطر پر اپنے پیغام میں تمام مذاہب اور عقائد کے احترام کے عزم کی تجدید کی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے پیر کو عید کی مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ان لاکھوں بے گھر افراد اور پناہ گزینوں کی مدد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو اس عید پر اپنے خاندانوں سے دور اور اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
جو بائیڈن نے اس سال وائٹ ہاؤس میں عید منانے کی روایت کو دوبارہ شروع کرنے کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ متاثر کن شخصیت کے حامل ان مسلمان امریکیوں کا احترام کیا جائے گا جو ہماری قوم میں وسیع تر افہام و تفہیم اور اتحاد پیدا کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
اس روایت کو ٹرمپ انتظامیہ نے بظاہر کووڈ۔19 کے وبائی مرض کی وجہ سے بند کر دیا تھا۔
پاکستان کے امریکی سفیر مسعود خان نے عید پر اپنے پیغام میں بھی کہا کہ صدر جو بائیڈن عید کی تعطیلات کے دوران وائٹ ہاؤس میں عید کی خصوصی تقریب منعقد کریں گے۔
جو بائیڈن کے پہلے دو نکات یعنی ‘تمام عقائد کا احترام’ اور ‘مہاجرین اور بے گھر افراد کی مدد کرنا’ ان کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے بھی اہم نکات ہیں، مارچ میں امریکا نے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی توثیق کی تھی جس میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ وہی دن ہے جب 2019 میں نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گردانہ حملے میں دائیں بازو کے ایک انتہا پسند نے 50 سے زائد مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا۔
پاکستان نے قرارداد پیش کی تھی جسے 55 ممالک بالخصوص مسلمان ممالک نے اسپانسر کیا تھا۔
جو بائیڈن کے پہلے دو نکات یعنی ‘تمام عقائد کا احترام’ اور ‘مہاجرین اور بے گھر افراد کی مدد کرنا’ ان کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے بھی اہم نکات ہیں، مارچ میں امریکا نے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی توثیق کی تھی جس میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ وہی دن ہے جب 2019 میں نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گردانہ حملے میں دائیں بازو کے ایک انتہا پسند نے 50 سے زائد مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا۔
پاکستان نے قرارداد پیش کی تھی جسے 55 ممالک بالخصوص مسلمان ممالک نے اسپانسر کیا تھا۔
جو بائیڈن کے پہلے دو نکات یعنی ‘تمام عقائد کا احترام’ اور ‘مہاجرین اور بے گھر افراد کی مدد کرنا’ ان کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے بھی اہم نکات ہیں، مارچ میں امریکا نے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی توثیق کی تھی جس میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ وہی دن ہے جب 2019 میں نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گردانہ حملے میں دائیں بازو کے ایک انتہا پسند نے 50 سے زائد مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا۔
پاکستان نے قرارداد پیش کی تھی جسے 55 ممالک بالخصوص مسلمان ممالک نے اسپانسر کیا تھا۔










