سیئول ؍ پیانگ /ایجنسیز//جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان کی جانب تقریباً 10 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ چند روز قبل ہی کمیونسٹ کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں پر ’’انتہائی خوفناک نتائج‘‘ کی دھمکی دی تھی۔لنک کاپی کریںجنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روز تقریباً دس بیلسٹک میزائل بحیرہ جاپان کی طرف فائر کیے۔ پیونگ یانگ نے کچھ روز قبل ہی کہا تھا کہ علاقے میں جاری جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں پر اس کے تحفظات ہیں۔ ساتھ ہی شمالی کوریا نے ’’انتہائی خوفناک نتائج‘‘ کی دھمکی بھی دی تھی۔پیونگ یانگ نے یہ بھی کہا تھا کہ جنوبی کوریا کی طرف سے امن کی تازہ کوششیں ’’بھونڈی اور دھوکہ دہی پر مبنی‘‘ ہیں۔سیول کی فوج نے ایک بیان میں کہا، ’’جنوبی کوریا کے وقت کے مطابق بعد دوپہر 1:20 بجے شمالی کوریا کے سونان علاقے سے تقریباً دس بیلسٹک میزائل ایسٹ سی کی جانب داغے گئے۔‘‘فوج کے مطابق میزائلوں نے تقریباً 350 کلومیٹر فاصلہ طے کیا اور امریکی اور جنوبی کوریائی حکام ان میزئلوں کی خصوصیات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (JCS) نے کہا کہ جنوبی کوریائی فوج کسی بھی اشتعال انگیزی کا ”فی الفور اور بھرپور جواب‘‘ دینے کیلئے تیار ہے۔جاپان کی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی کہ شمالی کوریا نے متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے، جو تقریباً 80 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچے اور جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر، جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے نزدیک سمندر میں گرے۔سیئول نے ان میزائل تجربات کو ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی پر مبنی اشتعال انگیزی‘ قرار دیا اور پیونگ یانگ سے فوری طور پر ایسی سرگرمیاں ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔










