نئی دہلی/یو این آئی// امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف تیل کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے ، بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی سپلائی چین میں بڑی رکاوٹیں پیدا کر کے مستقبل کے غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کیلئے بھی خطرہ پیدا کر دیا ہے ۔ اس بحران کو دیکھتے ہوئے ماہرینِ اقتصادیات اور مختلف حکومتیں اب عالمی زرعی تجارتی قوانین کا ازسرِ نومسودہ تیار کرنے کی تجویزپرعمل کر رہی ہیں، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جھٹکوں سے نمٹا جا سکے ۔ بھارتیہ ودیش ویاپار سنستھان کے سابق ڈبلیو ٹی او چیئرمین پروفیسر وشوجیت دھر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت میں آنے والی رکاوٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ توانائی، کھاد اور غذائی نظام ایک دوسرے سے کتنی گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایل این جی کی سپلائی میں خلل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان جیسے ممالک میں کھاد کی پیداوار اور قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑا ہے ۔ ممتاز ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے مجوزہ ‘ماڈل ٹریٹی آن ایگریکلچرل ٹریڈ’ میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کا موجودہ ڈھانچہ موسمیاتی تبدیلی، وبا اور جنگ جیسے حالات سے نمٹنے میں نااہل ثابت ہوا ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچہ شروع سے ہی ناقص تھا اور اب عالمی سپلائی چین کے دباؤ کے ٹیسٹ میں ناکام پایا گیا ہے ۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً پانچواں حصہ یوریا، آدھا حصہ ڈی اے پی اور تقریباً تمام پوٹاش درآمد کرتا ہے ۔ خلیجی ممالک سے ہونے والی سپلائی اور سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث انشورنس پریمیم اور مال برداری کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوا ہے ، جس سے کھادوں کی قیمتوں میں اچھال آیا ہے ۔ حکام کے مطابق، حکومتِ ہند نے فی الحال اس جھٹکے کو کسانوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے اسے زیادہ سبسڈی کے ذریعے خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا تھا، جو ایک بڑا مالیاتی بحران بن جاتا۔ مجوزہ نئے معاہدے کا مقصد تجارت کے بجائے غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور مساوات کو ترجیح دینا ہے ۔ پروفیسر دھر کے مطابق، یہ معاہدہ حکومتوں کو ملکی پیداوار بڑھانے ، سپلائی چین میں تنوع لانے اور ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں مداخلت کرنے کا قانونی حق دینے کی وکالت کرتا ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ بندی ہونے کے باوجود، آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت میں ’وار رسک پریمیم‘ مستقل طور پر شامل ہو سکتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک کیلئے توانائی اور کھاد کی قیمتیں ساختی طور پر ہمیشہ کیلئے بلند رہ سکتی ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر ہندوستان اب پوٹاش اور فاسفیٹ کیلئے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے اور غیر ملکی معدنی اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے ۔










