محکمہ وائلڈ لائف کی غیر سنجیدگی اور جنگلات کا تہہ تیغ کرنے کا نتیجہ ،فو ری اقدام اٹھانے کا مطالبہ
سرینگر / کے پی ایس / / جنگلی جانوروں کا بستیوں میں رُخ کرنے سے خوف دہشت کا ماحول پیدا ہوتاہے اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں ڈر محسوس کرتے ہیں کیونکہ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جو دلدوز تھے ۔اس ضمن میں مختلف علاقوں سے لوگوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بستیوں میں جنگل جانور نمودار ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کی نقل وحرکت سے ان علاقوں میں دہشت پھیلی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے اب تک بہت ساری جگہوں پر ان جنگلی جانوروں پر قابو پانے کیلئے جال نصب کئے تاہم مجموعی طور وحشی جانور میدانی علاقوں میں بے لگام ہوگئے ہیں اور انسانوں و جانوروں کی چیر پھاڑ کرنے کے واقعات آئے روز پیش آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بچوں ،خواتین یا بزرگ افراد کی چیر پھاڑ کرنے کے دلدوز واقعات پیش آنے کے بعد لوگ اپنے بچوں کوباہر کھیلنے کیلئے جانے نہیں دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس موسم میں لوگ سال کی محنت کا بوئے ہوئے بوجھ سے پھل کاٹنے اور میوہ اتارنے کا سیزن عروج پر ہے لیکن ان وحشی درندوں کے خوف سے لوگ اپنی زمینوں پر نہیں جاسکتے ہیں کیونکہ ان کو اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں باغ یا کسی جھاڑے کے نیچے کوئی جنگلی جانور چھپا نہ ہو اور وحشی جانورکی ضد انسانوں اور میدانوں میں موجود مویشیوں کے تئیں برقرار ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنگلی جانوروں کا بستیوں میں داخل ہوناان کی فطرت کے منافی ہے اور جب کوئی بھی چیز اپنی فطرت سے ہٹ جاتا ہے تو اس کے حرکات وسکنات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وحشی جانورباختہ ہو کر انسانوں یا دیگر جانوروں پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور ان کی چیر پھاڑ کرکے ان کو موت کی آغوش میں پہنچادیتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ وائلڈ لائف اور جنگلات کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وحشی جانوروں کا بستیوں میں داخل ہونے پر روکتھام کیلئے جنگی پیمانے پر ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کا جان ومال کا تحفظ یقینی بن جائے گا ۔










