جموں//حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ جموں و کشمیر یو ٹی میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے موجودہ پالیسی فریم ورک کے تحت انسانی زخمی ہونے یا جان سے جانے کے واقعات میں معاوضہ یا ایکس گریشیا ریلیف فراہم کیا جاتا ہے ۔ یہ بات جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور کے وزیر مسٹر جاوید احمد رانا نے ایم ایل اے سجاد شاہین کے سوال کے جواب میں کہی ۔ اِس ضمن میں اراکین اسمبلی چودھری محمد اکرم ، بلونت سنگھ منکوٹیہ ، قیصر جمشید لون اور نذیر احمد خان گریزی نے ضمنی سوالات اُٹھائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مناسب ریلیف فراہم کیا جائے اور زرعی شعبہ اور مویشیوں کو متعلقہ سکیموں میں شامل کیا جائے تا کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔ ان خدشات کے جواب میں وزیر نے کہا کہ فی الحال یو ٹی میں جنگلی جانوروں کے حملوں سے مویشیوں کے نقصان کے معاوضے کیلئے کوئی منظور شدہ پالیسی یا بجٹ کی مخصوص فراہمی موجود نہیں ہے ۔ تا ہم انہوں نے کہا کہ حکومت جانوروں کے نقصان کی صورت میں کسانوں کو معاوضہ فراہم کرنے کیلئے انیمل ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ خط و کتابت میں مصروف ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات کا محکمہ زراعت کے محکمہ اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے کہ جنگلی جانوروں کی وجہ سے فصلوں کے نقصان کی صورت میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا ( پی ایم ایف بی وائی ) کے تحت اضافی فصلوں کو شامل کیا جائے ۔










