وادی کشمیرمیں مسلسل خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کے بڑتے واقعات کے پیش نظر فلحال جنگلوں کے بچاو اور جنگلات کی تحفظ کے خاطر ایک اقدام کے طور لوگوں کے جنگلات میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے ۔وادی کشمیر میں کئی ماہ سے جاری خشک سالی اور سردی کے بادشاہ چلہ کلان میں برف باری یا بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ندی نالے سوکھے گئے ہیں جبکہ ہر جگہ پانی کی قلت دیکھی جا رہی ہے اس دوران کشمیر کے شمالی جنوبی اور وسطی کشمیر کے ساتھ خطہ جموں کے پہاڑوں علاقوں کے جنگلات میں آگ لگنے کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو ا ہے جس کی وجہ سے یہاں پودے اور درخت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئے ہیں۔جبکہ اس رپورٹ کو تحریر کرتے وقت تک وادی اور جموں میں ایک درجن کے قریب جنگلات میں آگ جاری تھی جس پر عوامی حلقوں میں سخت تشویش پایا جا رہا ہے ۔آگ بجھانے کی کارروائیوں کے دوران متعدد عام لوگوں کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کے کئی ملازمین یہاں زخمی ہوئے ہیں۔ادھر بدھ کے روزوادی کشمیر میں غیر معمولی اور طویل خشک موسم کے درمیان، محکمہ وائلڈ لائف نے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ والے علاقوں میں غیر مجاز داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔محکمہ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جنگلات میں کسی بھی قسم کی سرگرمیوں کے لیے غیر مجاز داخلہ نہ کریں، خاص طور پر اس کے دائرہ اختیار میں آنے والے وائلڈ لائف پروٹیکٹڈ ایریاز۔وادی میں طویل عرصے سے جاری خشک موسم کی وجہ سے، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات ہوئے ہیں اور جنگلات میں آگ لگنے کا قوی اندیشہ ہے، کسی کو بھی پیشگی اجازت کے بغیر جنگلات، خاص طور پر جنگلی حیات کے تحفظ والے علاقوں میں کسی بھی قسم کی سرگرمیوں کے لیے غیر مجاز داخلہ نہیں کرنا چاہیے، ” نوٹس پڑھتا ہے۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ داخلے پر خاص طور پر برین، نشاط کنزرویشن ریزرو، داچیگام نیشنل پارک، درہ کنزرویشن ریزرو، کھریو/خانموہ کنزرویشن ریزرو، وانگاتھ کنزرویشن ریزرو اور تھجواس وائلڈ لائف سینکوری میں پابندی لگا دی گئی ہے۔جنگلات اور وائلڈ لائف پروٹیکٹڈ ایریاز کے اندر کوئی بھی شخص پایا جائے تو اس کے ساتھ جنگلی حیات کے تحفظ کے ایکٹ کی دفعات کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔










