سری نگر// انسپکٹر جنرل پولیس کشمیرزون وجئے کمارنے منگل کے روزجنگجوئوں کوسخت پیغام دیتے ہوئے خبردارکیاکہ اگر آپ لوگوںنے پولیس اہلکاروںاورعام شہریوں کی ہلاکتوں کاسلسلہ بندنہ کیاتوآپ کوسنگین نتائج کاسامنا کرناپڑے گا۔آئی جی پی کشمیرکاکہناہے کہ آف ڈیوٹی پولیس اہلکاروں اور شہریوںکوہلاک کرنے کامقصد اہلیان وادی میں خوف کی نفسیات پیداکرنا ہے ۔پولیس کے صوبائی سربراہ وجئے کمار نے اونتی پورہ کے مضافاتی علاقہ میں ایس پی ائو کواہلیہ اوربیٹی سمیت ہلاک کرنے میں ایک مقامی اورایک غیرملکی جنگجو کے ملوث ہونے کاانکشاف کرتے ہوئے کہاکہ دونوں جنگجوئوں کی شناخت ہوگئی ہے اوراُنکا تعاقب شروع کردیاگیا ہے ۔ جے کے این ایس کے مطابق جموںوکشمیرپولیس کے صوبائی سربراہ وجئے کمارنے پولیس کنٹرول روم سری نگرمیں سی آرپی ایف کی خاتون آئی جی چھارئو سنہا اورڈی آئی جی امت کمار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہاکہ اگرجنگجوئوں نے آف ڈیوٹی پولیس اہلکاروں اورعام شہریوں کی ہلاکتوں کاسلسلہ بندنہ کیا تواُنھیں اسکا خمیازہ اُٹھانا پڑے گا۔انہوںنے جنگجوئوں کوسخت پیغام دیتے ہوئے خبردارکیاکہ اگر آپ لوگوںنے پولیس اہلکاروںاورعام شہریوں کی ہلاکتوں کاسلسلہ بندنہ کیاتوآپ کوسنگین نتائج کاسامنا کرناپڑے گا۔آئی جی پی کشمیرکاکہناہے کہ آف ڈیوٹی پولیس اہلکاروں اورشہریوںکوہلاک کرنے کامقصد اہلیان وادی میں خوف کی نفسیات پیداکرنا ہے ۔سینئرپولیس افسروجئے کمار نے کہاکہ اگرجنگجوئوںنے آسان ہدف کونشانہ بناناترک نہ کیا توہمیں بھی معلوم ہے کہ ہم کوکیا کرناہے۔وجئے کمارکاکہناتھاکہ میں پولیس محکمہ میں 24برسوں سے کام کررہاہوں اورمجھے پتہ ہے کہ ایسے کیسوں یامعاملات سے کیسے نپٹا جاتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ میرا جنگجوئوںکویہ مشورہ ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں ۔پولیس کے صوبائی سربراہ وجئے کمار نے اونتی پورہ کے مضافاتی علاقہ میں ایس پی ائو کواہلیہ اوربیٹی سمیت ہلاک کرنے میں ایک مقامی اورایک غیرملکی جنگجو کے ملوث ہونے کاانکشاف کرتے ہوئے کہاکہ دونوں جنگجوئوں کی شناخت ہوگئی ہے اوراُنکا تعاقب شروع کردیاگیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہاری پاریگام اونتی پورہ میں ایس پی ائو کے گھرمیں ہوئے حملے میں شامل جنگجوئوںکی شناخت کرلی گئی ہے اوراب ان کوتلاش کرکے کیفرکردارتک پہنچانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں ۔آئی جی پی کشمیرنے ہاری پاریگام میں اتوارکی شام پیش آئے ہلاکت خیز واقعے کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ جب جنگجو ایس پی ائوکے گھرمیں داخل ہوئے توایس پی ائو کواُسکی اہلیہ اوربیٹی نے بچانے کی کوشش کی لیکن جنگجوئوںنے ایس پی ائو کے ساتھ ساتھ اُسکی اہلیہ اوربیٹی کوبھی گولیوں کانشانہ بنایا۔انہوںنے کہاکہ ان ہلاکتوں میں ملوث ایک پاکستانی اورایک مقامی جنگجوکی شناخت ہوگئی ہے اوربہت جلد جیش محمدسے وابستہ ان دونوں جنگجوئوںکی کئے کی سزادی جائیگی ۔جموںوکشمیرپولیس کے صوبائی سربراہ وجئے کمارنے کہاکہ جنگجوئوں نے یہ دکھایاہے کہ وہ کتنے وحشی ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ جنگجوئوں کی عادت ہے کہ وہ عام شہریوںکوہلاک کرنے کے بعدمخبر یا سیکورٹی فورسزکاخبری قرار دیتے ہیں ،لیکن ایس پی ائو ،اُسکی اہلیہ اوربیٹی تو کوئی خبری یامخبر نہیں تھے ۔وجئے کمار کاکہناتھاکہ پولیس محکمہ میں ملازمت یاکام کرنا یا جنگجومخالف کارروائیوں میں شامل ہوناکوئی گناہ نہیں ہے ۔تاہم انہوںنے واضح کیاکہ مہلوک ایس پی ائو کسی جنگجومخالف آپریشن کاحصہ نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ پولیس اہلکار مقامی ہیں اوراپنا شفٹ مکمل کرکے وہ اپنے اہل خانہ سے ملنا اپنے گھرجاتے ہیں،اوراس دورا ن آسان ہدف سمجھ کر جنگجواُنھیں نشانہ بناتے ہیں۔پولیس کے اعلیٰ افسرکاکہناتھاکہ پولیس اہلکار شفٹ مکمل کرنے کے بعدکیمپوںمیں ہی نہیں رہ سکتے ہیں بلکہ اُنھیں گھرجانا پڑٹا ہے۔ آئی جی پی کشمیرکاکہناتھاکہ پچھلے کچھ دنوں سے جنگجو آف ڈیوٹی پولیس اہلکاروں اورعام شہریوںکونشانہ بنارہے ہیں اوراُن کی ایسی کارروائیوںکامقصد عوام کوخوفزدہ کرنا اوراہلیان وادی میں خوف کی نفسیات پیداکرنا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ جنگجوئوںکویہ خوف ہے کہ آنے والے دنوں جب سیاح کشمیرآئیں گے تویہاں امن عمل کوتقویت ملے گی ،اورجنگجو ایسا ہوتا دیکھنانہیں چاہتے ۔انسپکٹر جنرل پولیس کشمیرزون وجئے کمار نے کہاکہ جنگجوجموں وکشمیرمیں شروع ہونے والے امن وسیاسی عمل کودرہم برہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،لیکن پولیس دیگرسیکورٹی ایجنسیوں کیساتھ ملکر جنگجوئوں کے منصوبوں اورعزائم کوناکام بنانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔سری نگرمیں لشکرکی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی کشمیروجئے کمارنے کہاکہ سری نگرسے تعلق رکھنے والے 6نوجوان جنگجو گروپوں میں شامل ہوئے ،جن میں سے ایک حال ہی میں ماراگیاجبکہ ابھی پانچ جنگجو سرگرم ہیں اوراُنھیں بھی بہت جلد گرفتاریاہلاک کیاجائیگا۔آئی جی پی کشمیر وجئے کمارنے کہاکہ سری نگرمیں جنگجوئوں کاایک خاموش نیٹ ورک یاسلیپر سیل موجود ہے اوراس میں شامل لوگ حملے انجام دینے کے بعدواپس اپنامعمول کاکام کرتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ پوری طرح سے ملی ٹنسی کے محازپرسرگرم جنگجوکاپتہ لگانا آسان ہے لیکن سلیپر سیلوں میں شامل افرادکاسراغ لگانا آسان نہیں ہوتا ۔جموںوکشمیرپولیس کے صوبائی سربراہ وجئے کمارنے کہاکہ پولیس نے سری نگرمیں اپنی نگرانی بڑھادی ہے اوربہت جلد شہرمیں سرگرم جنگجوئوںکے نیٹ ورک کوبے نقاب کیاجائیگا۔










