ملیٹنٹوں کی ہلاکت ،پولیس اور فوج کیلئے اس سال کی سب سے بڑی کامیابی ۔ پولیس
سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں جمعرات کو ایک خونین تصادم آرائی میں حزب المجاہدین کے انتہائی مطلوب ایک اعلیٰ کمانڈر سمیت 5ملی ٹنٹ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس جھڑپ میں فوج کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ جائے موقعے سے بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کرنے کادعویٰ کیا گیا ہے ۔ ادھر پولیس نے اس کارروائی کو جموں کشمیر پولیس اور فوج کے لئے اس سال کی سب سے بڑی کامیابی قراردیتے ہوئے کہا کہ پانچ ملیٹنٹوں کے ہلاک ہونے کے بعد جنوبی کشمیر میں ملٹنسی کا قریب قریب خاتمہ ہوچکا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطاق جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں سکیورٹی فورسز نے ملی ٹینٹوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 5 ملی ٹینٹوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ تصادم کولگام کے بہی باغ پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے کدر گاؤں میں ہوا۔ دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔فوج کی چنار کور نے تصدیق کی ہے کہ یہ آپریشن ایک خاص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ملی ٹینٹ علاقے میں سرگرم تھے۔ جیسے ہی فوج نے مشکوک حرکات نوٹ کیں، ملی ٹینٹوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی۔اور ابتدائی طور پر پانچ ملی ٹنٹ ہلاک ہوئے ہیں ۔ پولیس کے مطابق پانچو جنگجوئوں کا تعلق مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے ساتھ تھا اور ان میں سے ایک ملیٹنٹ فاروق نالی سال 2015سے سرگرم تھا جو پولیس اور فوج پر حملوں کرنے کے متعدد معاملات میں انتہائی مطلوب تھا۔ واضح رہے کہ دو ماہ قبل جموں کے اکھنور علاقے میں بھی اسی طرح کا ایک آپریشن کیا گیا تھا، جس میں تین ملی ٹینٹ مارے گئے تھے۔ اس وقت ملی ٹینٹوں نے فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کو ملی ٹینٹوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی ملا تھا۔ اس کے بعد فوج نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر کے باقی ماندہ ملی ٹینٹوں کا تعاقب کیا۔کولگام میں جاری موجودہ آپریشن کے تحت علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی جاری ہے تاکہ کسی بھی ملی ٹینٹ کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ اس طرح کے آپریشن ملی ٹینٹوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔










