سرینگر// جنوبی کشمیر میں لوگوں نے خشخاش اور بھنگ کی کاشت سے توبہ کرکے سبزی کی کاشت شروع کردی ہے جس میں زمینداروں کو منشیات سے بھی اور زیادہ منافع ہورہا ہے۔ اس دوران محکمہ ایکسائز کی جانب سے شوپیاں اور پلوامہ کے اضلاع میں منشیات کی کاشت کے خلاف جاری ہے اور کئی جگہوں پر کاشت تباہ کردی گئی ہے۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں میں لوگوں نے منشیات خاص کر خشخاش اور بھنگ کی کاشت کاری کو ترک کرتے ہوئے اراضی پر سبزی کی کاشت شروع کی ہے جس میں انہیں اچھا خاصہ منافع بھی ہورہا ہے۔ ڈپٹی ایکسائز کمشنر ایگزکیٹیو کشمیر نے اس ضمن میں سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں،اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ میں پاپی سب سے زیادہ کاشت کی جاتی ہے۔ ملہورہ شوپیاں میں ہمیشہ بھنگ اور خشخاش بہت زیادہ کاشت کرتے تھے تاہم ملورہ میں اگرچہ گذشتہ برس 550کنال پر خشخاش پھیلی تھی لیکن محکمہ ایکسائز کی جانب سے گذشتہ برس جانکاری مہم رنگ لائی اور اب 545 کنال اراضی پر آج سبزیاں اْگائی جارہی ہے جبکہ محض پانچ کنال اراضی پر خشخاش کی کاشت ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا کہ لوگوں نے کہا کہ انہیں یہ گمان تھا کہ خشخاش اور بھنگ کی کاشت سے انہیں بت زیادہ آمدنی ہوگی تاہم یہ تو ایک غیر قانونی کام تھا دوسرا ہمارے سماج کیلئے نقصان دہ تھا اور محکمہ کی جانب سے انہیں سمجھنانے بجھانے کے بعد اب زمینداروں نے اپنی اراضی پر سبز ی کاشت شروع کردی ہے اور انہیں بھنگ اور خشخاش سے کافی زیادہ منافع ہوا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ سبزی اْگانے سے انہیں ایک تو کافی آمدنی بھی ہوئی ہے دوسرا اس کام میں عزت بھی ہے اور غیر قانونی بھی نہیں ہے۔ ڈپٹی ایکسائز کمشنر نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے دیگر اضلاع میں بھی لوگوں کو جانکاری پروگرام جاری رہیں گے۔ ادھر ای ٹی او جنوبی کشمیر نے کہاکہ منشیات کی کاشت کے خلاف محکمہ کی مہم اگرچہ کووڈ 19کی وجہ سے سست پڑ گئی تھی تاہم اب دوبارہ سے ٹیم متحرک ہے اور ضلع شوپیاں،اننت ناک، کولگام اور پلوامہ کے متعدد علاقوں میں بھنگ کی کاشت تباہ کردی گئی ہے۔










