EPF

جموں کشمیر ہوٹل اینڈ رستوران ایسوسی ایشن اور ایمپلائز پرویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے مابین میٹنگ

سرینگر//ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے کمشنر نے بتایا ہے کہ وادی کشمیر میں نجی اداروں میں کام کرنے والے ورکروں و ملازمین کو ہرقسم کے مراعات فراہم کی جانی چاہئے اورجو بھی ادارہ اپنے ورکروں کے حق پر شب خون مارے گا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ 5اگست 2019کے بعد مرکزی سکیموں کا جموں کشمیر اور لداخ پر اطلاق ہوتا ہے جس کے تحت ہر نجی ادارے کے ملازم کو مختلف قسم کی مراعات حاصل ہے جن میں پرویڈنٹ فنڈ، پنشن، ریٹائر منٹ اور ہیلتھ انشورنس شامل ہے ۔ایمپلائز پرویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے کمشنر رضوان الدین نے کہا ہے کہ سال 2019کو جب جموں کشمیر سے دفعہ 370منسوخ کیا گیا ہے تب سے جموں کشمیر اور لداخ دو الگ الگ یوٹیز میں تبدیل ہوئی ہیں جن میں مرکزی قوانین کے ساتھ ساتھ تمام مرکزی سکیموں کا اطلاق ہوتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ تمام نجی اداروں کے ملازمین کو مختلف مراعات کا حق حاصل ہے جبکہ سرکار کی جانب سے انہیں پرویڈنٹ فنڈ، ریٹائرمنٹ اور پنشن کے علاوہ ہیلتھ انشورنس شامل ہے جو ورکروں کا بنیادی حق ہے اور یہ سب انہیںسرکار کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے تاہم اس میں اداروں کی جانب سے جو سیلری ملتی ہے اس میں بھی کچھ فیصدی پروڈنٹ فنڈ میں جمع ہوتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق جموں کشمیر ہوٹل اینڈ رستوران ایسوسی ایشن اور ایمپلائز پروڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے مابین ایک اہم میٹنگ سرینگر میں منعقد ہوئی جس میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے زعمائوں کے علاوہ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے پریذیڈنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔میٹنگ میں ایمپلائز پرووڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے کمشنر رضوان الدین اور دیگر افسران موجود تھے جبکہ اس موقعے پر ہوٹل اینڈ رستوران ایسوسی ایشن کے صدر شوکت چودھری نے میٹنگ میں کئی معاملات اُٹھائے جن میںنجی سیکٹر کے ملازمین کو پروویڈنٹ فنڈ کی ضرورت کے وقت محکمہ لیبر کی جانب سے لیت و لعل کا مظاہرہ کرنے اور کووڈ کے دوران اداروں کی مالی حالت خراب رہنے کے نتیجے میں اپنے ورکروں کی پی ایف فنڈ کی فراہمی کا معاملہ اُٹھایا ۔ اس دوران سکول ایسوسی ایشن کے صدر نے جی این وار نے کہا ہے کہ پی ایف فنڈ آرگنائزیشن کے معاملات پر بات کی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے جو معاملات اُٹھائے جن کا ازالہ کرنے کیلئے کمشنر موصوف نے یقین دہانی کرائی ۔ میٹنگ کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2019اگست کے بعد جب سے جموں کشمیر اور لداخ میں تبدیل ہوئے ہیں تب سے ہم یہاں کے غیر سرکاری اداروں اور پرائیویٹ اداروں میں کام کررہے ورکروں کی فلاحوبہبود کیلئے اقدامات اُٹھارہے ہیں جن میں متعدد سرکاری سکیمیں شامل ہیں جن کو جموںکشمیر میں لاگو کیا گیا ہے خاص طور پر پرویڈنٹ فنڈ سکیم کے تحت ملازمین کو ریٹائرمنٹ ، پنشن اور ہیلتھ انشورنس ملے گا۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ بہت سے ادارے ابھی بھی ملازمین کو اپنا حق فراہم نہیں کررہے ہیں اور جو بھی اس طرح اپنے ورکروں کے حقوق پر شب خون مارے گا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔