سرینگر //وادی کشمیر میں صورتحال بہتری کی طرف گامزن ہو رہی ہے کی بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے پاکستان کے نام سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک ایک سے زیادہ سیکورٹی چیلنجوں سے نبردآزما ہے اور فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کے بعد امن ہے تاہم پاکستان کی جانب سے ہتھیار بھیجنے کی کارورائیاں بدستور جاری ہے ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ایک معروف انگریزی روزنامہ کے ساتھ خصوصی بات چیت میں فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل ایم ایم نروانے نے کہا کہ ہمارا ملک ایک سے زیادہ سیکورٹی چیلنجوں سے نبردآزما ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد جموں و کشمیر میں تشدد دیکھنے کو ملا، ہم نے اس پر قابو پا لیا ہے۔ مکند نروانے نے کہا کہ میں ہر فوجی اہلکارسے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب مل کر ایک مضبوط فوج بنائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ یہ پاکستان کی بیوقوفیوں کو ثابت کریں گے اور اس کی بھاری قیمت اس کو چکانی پڑے گی۔ انہوںنے کہاکہ اس طرح کے حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کی کارروائیوں کو نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج کسی بھی کارروائی کا بھر پور جواب دینے کیلئے تیار اور اس پار سے آنے والی ہر گولی کا بھر پور جواب دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا ہے اور فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی کارروائی کا بھر انداز میں جواب دیا جائے۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے بعد اگرچہ سرحدوں پر امن ہے تاہم پاکستان کی جانب سے کوششیں جاری ہے کہ کس طرح سے ہتھیاروں کو جموں کشمیر پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر امن معاہدے سے جنگجو مخالف آپریشنوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور فوج دیگر سیکورٹی ایجنسیوںکے ساتھ مل کر آخری جنگجوکے خاتمہ تک آپریشن جاری رہیں گے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اب ڈورن کا استعمال کرکے ہتھیاروں کو کشمیر پہنچانے کی کوشش کر رہا اور اس طرح کی کئی کوششوں کو سرحدوں پر ناکام بنایا گیا جس دوران بھاری مقدار میں ہتھیار بھی بر آمد کر لیا گیا جو ڈرون کے ذریعے سرحدی علاقوں میں پھنکا دیا گیا تھا ۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ سرحدو ں پر فوج چوکس ہے اور پاکستان کی جانب سے کئی جانے ہر کوشش کا بھر پور انداز میں جواب دیا جا رہا ہے ۔










