وادی میں 04 منشیات فروشوں کو گرفتار ، نشیلی اشاعہ برآمد
سرینگر//وادی کشمیر کو جرائم سے پاک کرنے اور منشیات کی لعنت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے اپنے مشن میں جموں کشمیر پولیس نے ماہ مبارک میں تیزی لائی ہے اور اتوار کے روز پولیس نے مختلف مقامات پر خصوصی کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق منیشات فروشوںکے خلاف کاروائی جاری رکھتے ہوئے بانڈی پورہ اور اونتی پورہ پولیس نے سماج سے منشیات کو ختم کرنے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے سمبل اور ریشی پورہ اونتی پورہ میں چار منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے ممنوعہ نشیلی مادہ برآمد کرکے ضبط کی۔بانڈی پورہ سمبل میں منشیات فروشوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے ایک مخصوص اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، تھانہ پولیس سمبل کی پولیس پارٹی نے ایس ڈی پی او سنبل شری سریندر موہن جے کے پی ایس کی نگرانی میں آرام پورہ سنمبل میں ایک خصوصی ناکہ لگایا اور دو افراد کو گرفتار کیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے کوڈین فاسفیٹ کی 15 بوتلیں برآمد ہوئیں۔ ان کی شناخت شبیر احمد ریشی ولد غلام قادر ریشی ساکن بٹ محلہ سنبل اور منظور احمد پرے ولد جبار پرے ر ساکن بازار محلہ سمبل کے طور پر ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ دونوں بدنام زمانہ منشیات فروش تھے اور علاقے کے نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کے لیے انہیں منشیات فراہم کرتے تھے۔تھانہ پولیس سمبل نے اس سلسلے میں کیس متعلقہ دفعات کے تحت درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔اسی دوران منشیات فروشوں کے خلاف مہم کو جاری رکھتے ہوئے اونتی پورہ پولیس نے دو منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 06 گرام مادہ ہیروئن برآمد کر لیا۔دات پورہ ریسی پورہ کے ناکے پر پولیس پارٹی نے دو افراد کو مشکوک حالت میں گھومتے ہوئے پایا اور انہیں چیکنگ کے لیے روکا گیا۔ چیکنگ کے دوران، ان افراد کے پاس ہیروئن (تقریباً 06 گرام برآمد کرکے ضبط کی۔گرفتار منشیات فروشوں کی شناخت بلال احمد فافوولد غلام رسول فافو ساکن حبہ کدل سری نگراورعمر منظور شیخ ولد منظور احمد شیخ حبہ کدل سرینگر کے طور پر ہوئی ہے۔ تھانہ پولیس اونتی پورہ نے اس سلسلے میں کیس زیر ایف آئی آر نمبر 68/2022 متعلقہ دفعات کے تحت درج کرکے اس سلسلے میں مذید تحقیقات شروع کردی۔ کمیونٹی ممبران سے درخواست ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں منشیات فروشوں کے بارے میں کسی بھی معلومات کے ساتھ آگے آئیں۔ منشیات فروشی میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔










