ریاستی درجہ کی بحالی تک حکومت سازی کے عمل کو طوالت میں رکھا جائے
سرینگر//عوامی اتحا د پارٹی کے سربراہ اور ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید اور اپنی پارٹی کے نائب صدر غلام حسن میر نے جموں کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے تک حکومت سازی کے عمل کو طوالت میں رکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ دونوں لیڈران نے کہا ہے کہ ہمیں بی جے پی سرکار کو اس بات کیلئے مجبور کرنا ہوگا کہ وہ پہلے ہی ریاست کا درجہ بحال کرے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمان انجینئر شیخ عبدالرشید اور جموں کشمیر اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر غلام حسن میر نے ان سیاسی جماعتوں اور آزاد امید واروں جوکل کامیاب ہوں گے، کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ تب تک حکومت نہ بنائیں جب تک نہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کو بحال کرے گی۔ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید نے آج سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’عوامی اتحاد پارٹی مکمل سپورٹ فراہم کرے گی اگر اس تجویز پر سب متحد ہوں گے‘۔انہوں نے کہاکہ میرے ان تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امید واروں جو کل کامیاب ہوں گے، سے ایک تجویز ہے کہ وہ تب تک حکومت نہ بنائیں جب تک نہ مرکزی حکومت ریاستی درجے کو بحال کرے گی‘انجینئررشید نے کہا کہ قدیم دربار مو کی روایت کو بحال کیا جانا چاہئے۔انجینئر رشید نے کہا کہ حکومت سازی میری ترجیح نہیں ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا میری ترجیح ہے‘۔ایل جی کو پانچ سیٹوں کی نامزدگی کا اختیار ہونے کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’اپنی مرضی سے اراکین نامزد کرنے سے جموں و کشمیر انتظامیہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک ودھان، ایک نشان، ایک پردھان کے آئیڈیا کو چلینج کر رہی ہے‘۔انہوںنے کہا کہا کہ بی جے پی نہیں چاہتی کہ جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ دیا جائے البتہ ہمیں اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے جمہوری طرز عمل اپنا نا ہوگا۔










