amit shah

جموں کشمیر میں پتھرائو کے واقعات کو صفر تک پہنچانے میں سی آر پی ایف کا اہم رول

370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ایک بھی گولی چلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی// وزیر داخلہ امیت شاہ

سرینگر//یو این ایس// مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ملک سے نکسل ازم کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق سی آر پی ایف کے 87ویں یومِ تاسیس کی پریڈ سے خطاب کے دوران وزیر داخلہ نے کہا کہ سی آر پی ایف نے جموں و کشمیر میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے، جہاں پتھراؤ کے واقعات صفر تک آ چکے ہیں، جبکہ منی پور میں نسلی تشدد سے نمٹنے اور گزشتہ تین برسوں میں ماؤ نواز شدت پسندوں کی کمر توڑنے میں بھی فورس نے کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا، ‘‘میں سی آر پی ایف پر بھروسہ کرتے ہوئے پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم 31 مارچ 2026 تک ملک سے نکسل مسئلے کا خاتمہ کر دیں گے۔‘‘وزیر داخلہ نے اپریل-مئی 2025 میں چھتیس گڑھ،تلنگانہ سرحد پر واقع کریگوٹا پہاڑیوں میں چلائے گئے 21 روزہ ‘‘آپریشن بلیک فاریسٹ’’ کی خصوصی ستائش کی، جس میں 31 نکسل ہلاک کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 46 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں، جہاں اہلکار روزانہ پسینے میں 15 لیٹر پانی کھو دیتے تھے، سی آر پی ایف جوانوں نے شدید گرمی اور دشوار گزار حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے نکسلوں کے مضبوط گڑھ کو تباہ کیا۔امت شاہ نے کہا کہ 10 تا 11 برس قبل ملک میں تین بڑے ہاٹ اسپاٹس جموں و کشمیر میں دہشت گردی، نکسل ازم اور شمال مشرق میں شورش، ناسور بنے ہوئے تھے، مگر آج یہ علاقے امن اور ترقی کے مراکز بن چکے ہیں۔ ‘‘جو علاقے کبھی بم دھماکوں، گولیوں اور تباہی کے مناظر سے پہچانے جاتے تھے، آج وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور گروتھ انجن بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امن سی آر پی ایف کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ ان کے مطابق شمال مشرق میں 700، نکسل علاقوں میں 780 اور جموں و کشمیر میں 540 سی آر پی ایف اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آسام میں امن کے قیام کے لیے 79 جوانوں نے خصوصی کردار ادا کیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سی آر پی ایف کی 86 سالہ تاریخ میں پہلی بار یومِ تاسیس پریڈ شمال مشرق، ‘‘ہمارے آسام’’ میں منعقد ہو رہی ہے، جو پورے خطے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فورس کے 86 سالہ سفر میں 2,270 جوانوں نے عظیم قربانی پیش کی، جنہیں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ایک بھی گولی چلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور اس میں سی آر پی ایف نے اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پر وزیر داخلہ نے 15 اہلکاروں کو بہادری کے تمغے عطا کیے، جبکہ چھ اہلکاروں کو صدرِ جمہوریہ پولیس میڈل برائے امتیازی خدمات سے نوازا گیا اور بہترین کارکردگی دکھانے والی بٹالینز کو ٹرافیاں دی گئیں۔سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل جی پی سنگھ نے کہا کہ ‘‘آپریشن بلیک فاریسٹ’’ نے نکسلوں کی کمر توڑ دی ہے اور حکومت کی مقررہ ڈیڈ لائن تک نکسل ازم کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔گوہاٹی کے سروسجائی اسٹیڈیم میں منعقدہ اس شاندار پریڈ میں ملک بھر سے آٹھ دستوں نے حصہ لیا۔ 3.25 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل اس نیم فوجی دستے کی 86 سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار تھا کہ یومِ تاسیس کی پریڈ شمال مشرق میں منعقد ہوئی۔رنگا رنگ وردیوں اور روایتی مارچ کے ساتھ پیش کیے گئے دستوں میں خواتین اہلکاروں سمیت ناردرن سیکٹر، نارتھ ویسٹرن سیکٹر، جھارکھنڈ، اڈیشہ، ریپڈ ایکشن فورس کوبرا یونٹ اور ویسٹرن و نارتھ ایسٹرن سیکٹر کے دستے شامل تھے۔ پریڈ کی قیادت 225ویں بٹالین کے کمانڈنٹ دیپک دھونڈیال نے کی۔تقریب کے اختتام پر خواتین اہلکاروں نے رائفل ڈرل کا شاندار مظاہرہ کیا، کمانڈوز نے یرغمالی بازیابی کی فرضی مشق پیش کی، جبکہ کوبرا کمانڈوز نے جنگلاتی کارروائی کا عملی مظاہرہ کیا جس میں انسدادِ نکسل آپریشن کی جھلک دکھائی گئی۔واضح رہے کہ سی آر پی ایف کی پہلی بٹالین 1939 میں برطانوی دور حکومت میں ‘‘کراؤن ریپریزنٹیٹو پولیس’’ کے نام سے قائم کی گئی تھی۔ آزادی کے بعد 1949 میں ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے اسے باضابطہ طور پر سنٹرل ریزرو پولیس فورس کا نام دیا۔