نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ بطور وزیر ااعلیٰ بدھ کو حلف لیں گے
سرینگر // جموں کشمیر میں طویل عرصہ تک جاری صدر راج کے خاتمہ کے بعد حکومت سازی کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ بطور وزیر ااعلیٰ بدھ کو حلف اٹھائیں گے ۔ نئے وزیر اعلیٰ اور دیگر کابینہ وزارء کی حلف برداری کیلئے تیاریاں زوروں پر ہے ۔ سی این آئی کے مطابق صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے جموں و کشمیر میں صدر راج کو منسوخ کرنے کا اعلان جاری کرنے کے ساتھ ہی نئے حکومت کی تشکیل کیلئے راہ ہموار ہو گئی ہے ۔ اس ضمن میں صدر جمہوریہ کی جانب سے ایک حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ کی تقرری سے فوراً پہلے صدر راج کو منسوخ کر دیا جائے گا۔اس ضمن میں جاری حکمنامہ کے مطابق’’جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ، 2019 (34 کا 2019) کے سیکشن 73 کے ذریعے حاصل کردہ اختیارات کے استعمال میںبھارت کے آئین کے دفعہ 239 اور 239A کے ساتھ پڑھا گیا، یہ حکم 31 اکتوبر، 2019 کو مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق ہے۔ جموں و کشمیر کا موقف جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے سیکشن 54 کے تحت وزیر اعلیٰ کی تقرری سے پہلے ہی منسوخ ہو جائے گا۔ ‘‘ خیال رہے کہ 31 اکتوبر 2019 کو، جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ کرنے کیلئے جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ کے سیکشن 73 کے تحت ایک صدارتی حکم جاری کیا گیا۔ ادھر جموں کشمیر میں طویل صدر راج کے خاتمہ کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں حکومت سازی کی راہ ہموار ہو گئی ہے ۔ جموں کشمیر کے نئے وزیر اعلیٰ کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کیلئے سٹیج تیار ہے اور نئے حکومت کیلئے حلف برداری بدھ وار کو ہو گی ۔ اس سلسلے میں پہلے ہی عمر عبد اللہ نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کو حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر دیا۔خیال رہے کہ جموں و کشمیر میںنیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ساتھ اس کے اتحاد نے 90 میں سے 48 سیٹیں جیتیں۔ گزشتہ دنوں حلف کی تقریب کے بارے میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبدا للہ نے کہا کہ یہ ایک طویل عمل ہوگا کیونکہ یہاں مرکز کی حکمرانی ہے۔ ایل جی پہلے دستاویزات کو راشٹرپتی بھون اور پھر مرکزی] وزارت داخلہ کو بھیجے گا۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس میں دو سے تین دن لگیں گے۔ لہذا اگر یہ منگل سے پہلے ہوتا ہے، تو ہم بدھ کو حلف برداری کی تقریب کریں گے۔










