drug

جموں کشمیر میںمنشیات کے خلاف کارروائی مزید سخت

نئی’ ایس او پی‘ تیار، این ڈی پی ایس مقدمات میں سزا کی شرح بڑھانے پر زور

سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے تفتیشی اور استغاثہ افسران کے لیے نئی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس ائو پی) تیار کر لی گئی ہے، جس کا مقصد این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمات میں تفتیشی خامیوں کا خاتمہ اور سزا کی شرح میں اضافہ کرنا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق نئی ایس او پی کی ضرورت گزشتہ برس اکتوبر میں چیف سیکریٹری اتل ڈلو کی صدارت میں منعقدہ 15ویں نارکو کوآرڈینیشن سینٹر اجلاس کے دوران محسوس کی گئی تھی، جس کے بعد تفتیشی و استغاثہ نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔یو این ایس کے مطابق قانون محکمہ نے محکمہ استغاثہ کے ساتھ مشاورت کے بعد ایس او پی کا مسودہ تیار کر کے محکمہ داخلہ کو جانچ کے لیے ارسال کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جانچ کے بعد یہ مسودہ منظوری کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کو پیش کیا جائے گا، جس کے بعد تمام متعلقہ محکموں کو اس پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی جائیں گی۔نئی ایس او پی میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت، بالخصوص کمرشل مقدار سے متعلق مقدمات صرف خصوصی تربیت یافتہ افسران کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تکنیکی کمزوریاں، قانونی آگہی کی کمی اور محکموں کے درمیان ناقص تال میل اکثر ملزمان کے حق میں ضمانت یا بریت کا باعث بنتی ہے، جس سے نظام انصاف پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت تفتیش میں یکسانیت، درست دستاویز سازی، بروقت فارنزک کارروائی اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ افسران کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرامز اور کارکردگی کے مسلسل جائزے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نئی ایس او پی میں جوابدہی کے نظام کو بھی مضبوط بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ جہاں قابلِ تدارک غفلت کے باعث مقدمہ کمزور ہو، وہاں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔حکومت نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کمرشل مقدار کے مقدمات میں دی جانے والی تمام ضمانتوں اور بریت کے فیصلوں کو فوری طور پر اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ اب تک 50 سے زائد مقدمات ہائی کورٹ میں چیلنج کیے جا چکے ہیں، جن کی بھرپور پیروی کی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق چیف سیکریٹری نے اکتوبر کے اجلاس میں واضح ہدایت دی تھی کہ ایسے معاملات میں کسی قسم کی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ مقدمات عوامی صحت اور سلامتی سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ منشیات کے عادی افراد کے لیے تجویز کردہ ادویات کی نگرانی کے لیے بھی مضبوط مانیٹرنگ سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ادویات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ فارنزک سائنس لیبارٹری کو بھی نمونوں کی جانچ کے عمل کو تیز اور مزید معیاری بنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ بروقت اور مستند رپورٹیں دستیاب ہو سکیں۔حکام کا کہنا ہے کہ نئی ایس او پی کے نفاذ سے نہ صرف مقدمات مضبوط ہوں گے بلکہ منشیات کے خلاف مہم کو بھی نئی سمت اور مؤثریت حاصل ہوگی، جو بالآخر نوجوان نسل کے تحفظ اور معاشرے کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔