anshul garg

جموں کشمیر میںساڑھے تین برس میں منشیات کی لت تین گنا بڑھ گئی

نوجوانوں میں ہیروئن کا بڑھتا استعمال معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی// ڈویژنل کمشنر کشمیر

سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر میں منشیات کی بڑھتی لت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈویڑنل کمشنر کشمیر انشل گرگ نے کہا ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین برس کے دوران منشیات کا مسئلہ تین گنا بڑھ چکا ہے، جبکہ نوجوانوں میں ہیروئن کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس رجحان کو پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار دیا۔آئی ایم ہینس میں منعقدہ منشیات کے انسداد سے متعلق آگاہی پروگرام کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انشل گرگ نے کہا کہ منشیات کی لت ایک بڑا سماجی چیلنج بن چکی ہے۔یو این ایس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، جس کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ڈویژنل کمشنر نے بتایا کہ وادی میں جاری منشیات کے خلاف بیداری مہم کی ذاتی طور پر چیف سیکریٹری جموں و کشمیر نگرانی کر رہے ہیں، اور اسے وادی کی سب سے بڑی آگاہی مہموں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے آئی ایم ہینس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ کونسلرز کی تربیت اور مختلف اداروں میں بیداری پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انشل گرگ کے مطابق، تمام صحت اور تعلیمی اداروں میں کونسلرز کو تربیت دی جا رہی ہے، جس کے لیے پانچ روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کی نگرانی پرنسپل جی ایم سی سری نگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی کشمیر کے تمام اضلاع میں اسی طرز پر تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سری نگر کے مذہبی رہنما بھی اس مہم میں سرگرمی کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں، جس سے اس تحریک کو نئی توانائی ملی ہے۔ ان کے بقول، معاشرے کے ہر طبقے سے وابستہ افراد منشیات کے خلاف اس جدوجہد کو مضبوط بنانے کے لیے آگے آ رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق صوبائی کمشنر کشمیر نے بتایا کہ آئی ایم ہینس کی جانب سے ہیلپ لائن نمبرز فراہم کیے جا رہے ہیں اور رضاکاروں کو پریشانی کی حالت میں کال کرنے والوں کی مؤثر مدد کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ڈھانچہ، سماجی بہبود، صحت اور ضلعی انتظامیہ منشیات کی لت سے متاثرہ افراد کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں۔انشل گرگ نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے خلاف لڑائی صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس کے لیے طبی اداروں اور سماجی تنظیموں کی کوششوں کی بھرپور حوصلہ افزائی اور حمایت ضروری ہے۔