ہم کہہ چکے ہیں کہ دفعہ 370 پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صرف ایک چیز باقی رہ گئی وہ ریاستی حیثیت / قرہ
سرینگر// جموں و کشمیر اسمبلی کی طرف سے منظور کردہ قرارداد میں دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ذکر ہے کا انکشاف کرتے ہوئے جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دفعہ 370 پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مطالبہ کرنے کیلئے صرف ایک چیز باقی رہ گئی ہے وہ ریاستی حیثیت ہے۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی کی طرف سے منظور کردہ قرارداد میں دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ذکر ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے قرہ نے کہا کہ جب جموں و کشمیر اسمبلی نے قرارداد منظور کی تو پارٹی اس معاملے پر اپنا موقف پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دفعہ370 پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مطالبہ کرنے کے لیے صرف ایک چیز باقی رہ گئی ہے وہ ریاستی حیثیت ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ذکر ہے۔قرہ نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سیاسی فائدے کے لیے حقائق کو غلط انداز میں پیش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے واضح بیان کے باوجود بی جے پی انتخابات میں حقائق کو غلط انداز میں پیش کر رہی ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے حالیہ بیان پر قرہ نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ دفعہ 370 کو بحال کرنے کی بات کس نے کی ہے۔










