power

جموں کشمیرمیں 20000میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا ہونے کے باوجود

ماہ نومبر کے ابتدائی دنوں سے ہی اطراف و اکناف میں بجلی کا شدید بحران

سرینگر//جموں وکشمیر میں 20000میگاواٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے باوجود بھی وادی کشمیر میں بجلی کا بحران ہے ۔ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہر و گائو ں لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ غیراعلانیہ کٹوتی نے لوگوں کو ذہنی طور پر پریشان کرکے رکھا ہے ۔ادھر سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکار بجلی کی کھپت پورا کرنے کیلئے سالانہ 2ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ بجلی صارفین سے وصول کی جانے والی رقم اس سے کہیں کم ہے اور اس کی بھرپائی سرکار کررہی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ماہ نومبر کے ابتدائی دنوں سے ہی وادی میں بجلی کا بحران زور پکڑنے لگا ہے اگرچہ ’’پی ڈی سی ایل‘‘پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ نے کہا ہے کہ بجلی کٹوتی شیڈول 15نومبر سے لاگو ہوگا لیکن اس کے باوجود بھی بجلی کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے ۔ محکمہ کے مطابق جن علاقوں کے فیڈروں کے تحت آنے والے علاقوں میں شاخ تراشی کا کام کیا جارہا ہے یا ترسیلی لائنوں کی تبدیلی مطلوب ہوتی ہے ان علاقوں میںدن بھر بجلی بند رکھنا ضروری بنتا ہے ۔ آبی وسائل سے مالامال جموں وکشمیر میں بجلی بحران کوحیران کن قرار دیتے ہوئے اقتصادی ومعاشی ماہرین کاکہناہے کہ بجلی کی پیداوار میںاضافہ آمدن کااہم ترین ذریعہ بن سکتاہے ،اورساتھ ہی بجلی خریدنے پر سالانہ ہونے والے2000کروڑروپے کی رقم کومختلف ترقیاتی اورتعمیراتی کاموں پرصرف کیا جاسکتاہے ۔ جموں و کشمیر میں20ہزار میگاواٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔سابقہ ریاست میں بجلی کی طلب ورسدکوپوراکرنے کیلئے کم از کم ضرورت 1600 میگاواٹ ہے،جبکہ ابھی بھی جموں وکشمیر اس وقت 1500 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے جس میں سے صرف450 میگاواٹ سابقہ ریاست پیدا کرتی ہے اور بقیہ مرکزی سرکارکی مالی معاونت سے پیداکی جاتی ۔ اقتصادی ومعاشی ماہرین کاکہناہے کہ جموں وکشمیرکی حکومت کو وافر وسائل ہونے کے باوجود، مقامی ضرورت ،طلب اورسدکوپوراکرنے کیلئے باہر سے بجلی خریدنے کیلئے سالانہ2000 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنے پڑتے ہیں جو خطیررقم کہ جموںوکشمیر کی مجموعی ترقی کیلئے استعمال کی جاسکتی تھی یاکی جاسکتی ہے۔ادھر سرکاری سطح پر بھی کہا گیا ہے کہ صارفین کو بجلی کی عدم دستیاب کا سامنا اگرچہ کرنا پڑرہا ہے تاہم محکمہ کو صاف طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیرواضح بجلی کی کٹوتی سے پرہیز کریں۔